دو سال کی بچی کا نکاح

میرے انباکس میں کس طرح کے پیغامات آتے ہیں، بتانا مشکل ہی نہیں، نا ممکن بھی  ہے۔ فون، خط اور بالمشافہ پوچھے جانے والے سوالات کو لکھنے، بیان کرنے کے لیے نہ وقت ہے، نہ ہمت۔ چند دن پہلے کسی نے یُوں مسئلہ دریافت کیا کہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان بیچ اِس مسئلہ کے کہ۔۔

آج سے کم از کم دس، بارہ سال پہلے مُسماۃ فاطمہ (فرضی نام) کی عمر دو، تین سال  تھی، اُس کا نکاح، اُس کے والد کی اجازت سے مُسمیٰ زید (فرضی نام) سے پڑھا گیا، جس کی اُس وقت عمر چار، پانچ سال ہوگی۔ نکاح مقامی مولوی جی نے پڑھایا، یہ زبانی تھا، رجسٹرڈ نہ تھا۔ لڑکی نے جب سے ہوش سنبھالا ہے وہ اِس عقد سے انکاری ہے، جبکہ لڑکے کا والد مُسلسل رخصتی کے لیے لڑکی کے والدین پر مُسلط ہے۔ میں نے اُن مولوی جی کا موبائل نمبر لیا، اُنھیں کال کی اور دریافت کیا کہ جناب عالیٰ نے کسی دو، تین سالہ بچی کا نکاح پڑھایا تھا؟

مولوی صاحب آئیں بائیں شائیں کرنے لگے، کہا کہ ایک مدت ہوئی، مجھے مکمل یاد تو نہیں، شاید دعائے خیر ہوئی تھی یا زبانی نکاح ہوا تھا، اب کنفرم نہیں ہے، ہاں کچھ ہُوا ضرور تھا۔ لڑکے کے باپ سے بات کی تو وہ کہنے لگا کہ لڑکی والے طلاق چاہتے ہیں، میرا بیٹا نہیں مانتا، وہ کہتا ہے کہ عدالتی خلع لیں، میں طلاق نہیں دوں گا۔ میں نے لڑکی سے بات کی، اُس نے بتایا کہ جب سے اُس نے ہوش سنبھالا وہ ایک لمحے کے لیے بھی رشتے پر راضی نہیں، شاید اُس نے لڑکے کو ایک آدھ بار کے علاوہ دیکھا ہی نہ ہو۔ میں نے رات گئے ایک، دو وکلاء سے بھی معاملہ ڈسکس کیا، آج فریقین کو یُوں بتایا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق، قانونی نابالغ لڑکی، لڑکے کا نکاح درست نہیں ہے۔

مذکورہ بالا مسئلے میں اگر نکاح ایسے ہی ہُوا ہے تو مولوی صاحب، لڑکے کے والد، لڑکی کے والد اور اِس نکاح میں ملوث دیگر حضرات کے خلاف مقدمہ ہو سکتا ہے۔ یہ نکاح قانونی پہلو سے غلط ہے۔ (بہتر قانونی رائے، ماہرینِ قانون ہی دے سکتے ہیں، بندہ مُلکی قانون سے آشنا نہیں ہے) اب شرعی پہلو دیکھیے تو جن فقہاء کے نزدیک نابالغ لڑکی کا نکاح اولیاء کی اجازت سے ہو سکتا ہے، اُن کا بھی کہنا ہے کہ بالغ ہونے پر اُسے “خیار البلوغ” حاصل ہے، جسے استعمال کر کے وہ عقد کو فسخ کر سکتی ہے۔ مکتبِ اہل بیت میں اس عقد کی حیثیت فضولی ہے، بلوغت کے بعد لڑکی راضی ہوتو درست ورنہ کالعدم ہوگا۔ شیعہ و سُنی مسالک میں لڑکی کا راضی ہونا لازم ہے، چونکہ مذکورہ مسئلے میں لڑکی راضی نہیں  ہے۔

بنا برایں، اگر نابالغ لڑکی کے نکاح کو شرعی طور پر درست مان بھی لیا جائے تو مسئلے میں دریافت کردہ نکاح ختم ہے۔ واللہ العالم بالصواب۔ 

(آخر میں والدین، اولیاء اور مولوی صاحبان کو مشورہ ہے کہ نابالغوں کا نکاح پڑھانے سے اجتناب برتیں، یہ قانونی طور پر جُرم ہے، فقہی پہلو سے دیکھیں تو نابالغ کے نکاح کے جواز کے قائل فقہاء کے مطابق اِس کی حیثیت فضولی ہے، اصل فیصلہ لڑکی، لڑکا بالغ ہونے کے بعد ہی کریں گے، لہذا نکاح بالغ ہونے پر ہی کیا جانا چاہیے۔ نکاح وہی درست ہے جس میں لڑکی، لڑکا مکمل رضامند ہوں اور اُن کے اولیاء بھی۔ لڑکی یا لڑکا راضی نہ ہوں تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا)

Avatar
امجد عباس مفتی
اسلامک ریسرچ سکالر۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *