• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • بھارتی جوڑے کابہو کی پٹائی کے لیے آٹھ ہزار میل کا سفر۔۔۔طاہر یاسین طاہر

بھارتی جوڑے کابہو کی پٹائی کے لیے آٹھ ہزار میل کا سفر۔۔۔طاہر یاسین طاہر

گھریلو زندگیوں میں تلخیاں عمومی بات ہے۔مشرقی معاشرت میں ابھی بھی خاندانی سسٹم مضبوط ہے اورگھریلو زندگی کی تلخیوں واتار چڑھائو کو خاندان کے بڑے بوڑھے ہی نمٹاتے اور فیصلہ کرتے ہیں۔یہ ایک شاندار روایت ہے،جو بڑوں کا احترام بھی سکھاتی ہے اور نئی نسل اپنے بزرگوں کے طویل تجربات سے استفادہ بھی کرتی ہے۔یورپ میں خاندانی سسٹم کمزور ہے،اور وہاں ہر بالغ ہونے والا آزادی کے نام پر من مانی کرنے لگ جاتا ہے۔ان سطور میں بہر حال ہم مشرقی و مغربی خاندانی سسٹم کا تقابل نہیں کریں گے اور نہ ہی مشرق میں بھی کمزور ہوتے خاندانی سسٹم کی وجوھات پہ بحث کریں گے۔ادارتی سطور کے لیے کئی موضوعات موجود ہیں۔ مگر ایک خبر نے اپنی جانب توجہ کھینچی تو ہم نے اسے برکس اعلامیے کے ساتھ ملا کر پڑھا تو اس خبر اور اس کے اندر چھپے معاشرتی و سماجی رحجات کا مزید اندازہ ہوا۔تحقیق کار اس خبر کو اگر اسی سے جڑی چند مزید خبروں کے ساتھ ملا کر دیکھیں توکئی انتہا پسندانہ گروہ جدید رویوں اور رحجانات کے پردے میں جوان ہو کر اپنا زہر پھیلاتےنظر آئیں گے۔


یاد رہے کہ بی بی سی کے انگلش ایڈیشن نے ایک سٹوری فائل کی جسے بی بی سی اردو نے بھی اپنے پیج پہ جگہ دی،خبر کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کی پولیس کے مطابق ایک انڈین ساس سُسر نے اپنی بہو کو ‘تمیز سکھانے کے لیے آٹھ ہزار میل کا سفر کیا۔66سالہ جسبِیر کلسی اور ان کی 62 سال کی بیوی بھُپِندر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ہِلسبرو کاؤنٹی میں مقیم اپنے بیٹے دیوبیِر کی بیوی کو ‘نصیحت کرنے اور تمیز سکھانے کے لیے بھارتی پنجاب سے گئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بہو سِلکی گائند کے والدین کی جانب سے پیغام ملنے پر جب ایک پولیس والا وہاں پہنچا تو سِلکی کے جسم پر پٹائی کے نشان اور نیل پڑے ہوئے تھے۔ان کے شوہر اور ساس سُسر کو زدوکوب سمیت کئی الزامات کا سامنا ہے۔سُسر پر بہو کے گلے پر چھری رکھنے کا الزام بھی ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جب پولیس وہاں پہنچی تو ابتدائی طور 33سالہ سِلکی اور ایک سالہ بیٹی کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔سِلکی گوئند نے اتوار کے روز عدالت میں سماعت کے دوران کہا کہ انھیں اپنے شوہر سے بھی خطرہ ہے۔بے نیوز نائن کے مطابق انھوں نے عدالت کو بتایا کہمیں بہت ڈری ہوئی ہوں کیونکہ پچھلی رات اس نے ٹیلی فون پر دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے پولیس کو بتایا تو وہ مجھے قتل کر دے گا اور پھر خودکشی کر لے گا۔ملزمان پر زدوکوب، حبس بیجا میں رکھنے اور مدد کے لیے پولیس تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔


بہ ظاہر یہ ایک عام سا گھریلو جھگڑا معلوم ہوتا ہے،جیسا کہ ہمارے ہاں یا دیگر معاشروں میں ہوتا آ رہا ہے۔لیکن اس سارے جھگڑے کی ہیڈ لائن وہ سفر ہے جو دو بزرگ میاں بیوی نے اپنی بہو پر تشدد کرنے کے لیے کیا۔اس سفر سے نہ تو بیٹے کی محبت جھلکتی ہے، نہ خانگی معاملات کو درست کرنے کی تمنا، بلکہ انانیت،غرور،تکبر اور تشدد کے رحجان کی ایک عجیب اور حیرت انگیز داستان ہمارے سامنے ہے۔بھارت جو ساری دنیا کو باور کرانے میں لگا رہتا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی جمہوریت،اور ایک سیکولور سٹیٹ ہے، اس کا اصل چہرہ یہ ہے کہ  وہاں عورتوں،دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ ساس سسر اسی نام نہاد سیکولر بھارت کے باشندے ہیں، جو اپنی بہو پر تشدد کرنے کے شوق میں بھارت سے اڑان بھر کر امریکہ جا پہنچے اور پھر وہاں بہو پر تشدد بھی کیا۔معاملے کا پس منظر خواہ کچھ بھی ہو۔ اصل ایشو یہ ہے کہ اگر امریکہ میں مقیم بھارتی میاں بیوی کو کوئی مسئلہ تھا ،اور یقیناً تھا تو وہ کورٹ سے رجوع کرتے اور وہاں کے ریاستی قواتین کے مطابق اس کا فیصلہ ہو جاتا۔لیکن جس طرح بھارتی باشندے کےبوڑھے والدین نے اپنی بہو پر تشدد کی نیت سے بھارت سے امریکہ کی ریاست فلوریدا کا آٹھ ہزار میل کا سفر طے کیا وہ بجائے خود ایک شرمناک حرکت ہے۔یقیناً امریکی عدالت ان الزمات کی تحقیقات کرے گی اور بے شک متشدد بوڑھے بھارتی جوڑے کو سزا بھی سنائی گی۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *