سب سے پہلے پاکستان

سب سے پہلے پاکستان

پاکستان جیسا بھی ہے، ابھی عراق، شام، یمن اور افغانستان سے بہت زیادہ بہتر ہے، لبنان بھی آخر کار لڑ بھڑ کرسنبھل ہی گیا۔ہم میں سے کوئی نہیں چاہے گا کہ پاکستان امریکہ اور روس جیسے بدمست ہاتھیوں اور ایران اور سعودی عرب جیسے علاقائی سانڈوں اور انکے پروردہ پٹھو مذہبی ملیشیاؤں کا اکھاڑابنے، ہم آپس میں کتنے مسلکی، فرقہ واری اختلاف رکھتے ہوں، مگر کوئی جنونی پاگل ہی ہوگا جو چاہے گا کہ پاکستان ان سب خونخوار طاقتوں کاخونی اکھاڑا بن جائے۔ مگر جو خطرناک حالات چل رہے ہیں وہ ہمیں وہیں دھکیل رہے ہیں۔انگریزی میں دو لفظ ہیں ایکسپلوژن اور امپلوژن، یعنی دھماکہ اور اندرونی انہدام، پاکستان کو ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود شدید مذہبی، مسلکی اور فرقہ وارانہ متصادم قوتوں کا بھاری بوجھ اور ساتھ ساتھ بلوچستان میں ہونے والی بے چینی کی سلگتی آگ کو بھگتنا پڑ رہاہے، اور ہم ایک بڑے امپلوژن کی طرف سرک رہے ہیں۔
مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنے کے بجائے بندوق سے حل کرنے کی حکمت عملی اکثر ناکام ثابت ہوتی ہے، ادھر ہندوستانی ایجنسی” را “بھی کشمیر میں ہونےوالی ہزیمتوں کا بدلہ چکانے دانت تیز کئے بیٹھی ہے اور انکو افغانیوں کے ساتھ مقامی پارٹنرز بھی مل گئے ہیں۔آج خودکش بمبار کو کوئی بھی چند لاکھ میں خرید کر کہیں بھی حملہ کرواسکتا ہے، دہشت گردی کی جڑیں کہاں کہاں اور کتنی گہری ہیں اگر پتہ چلے گا تو ہم بھونچکا کر رہ جائیں گے۔مگر ہماری ڈیپ اسٹیٹ آج سے بیس سال پہلے کے مائینڈ سیٹ کو لئے بیٹھی ہے، داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر قبضہ کرکے، پارلیمنٹ کو معذور کرکے اپنی چلانا، وہی سیکیوریٹی اسٹیٹ کا ماڈل، اسٹریٹیجک گہرائی، وہی پراکسی جہاد، وہی شاونزم، وہی ہٹ دھرمی۔
پاکستان کی سیکولر، بائیں بازو اور سوشلسٹ رجحان رکھنے والی سیاسی قوتوں کا اتحاد ازحد ضروری ہے، اور یقینی طور پر فوج کوبھی ایسے اتحاد کاساتھ دینا ہوگا، تو ہی ہم اس متوقع خوفناک بحران کو ٹال سکیں گے، اب مجھے پتا ہےکہ شعیہ سنی دیوبندی بریلوی ٹائپ مائنڈ طنزیہ بمباری شروع ہوجائیگی مگر سیناریو یہی بنتا نظر آرہا ہے، بیشک ہم اپنے مسلکی اختلافات رکھیں مگر یہ عہد کرلیں کہ پاکستان کو عربی و فارسی، روسی و امریکی، اکھاڑا نہیں بننے دینا ،جسکی آڑ میں القائدہ، داعش، حزب الللہ جیسے گروپ بھی کود پڑیں اور ہمارے شہر بغداد اور حلب بن کر بچوں اور عورتوں کی لاشوں سے پٹ جائیں اور گلیوں میں خون کی ندیاں بہیں، اس وقت پاکستان کو سچے پیٹریاٹک پاکستانیوں کی ضرورت ہے،اور “سب سے پہلے پاکستان” کا منتر جپنا ہوگا۔
ریاست کو اپنے پالتو اژدہوں یعنی “اثاثوں”سے جان چھڑانی ہوگی، عوام اور افواج کو سیکولر اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کو سپورٹ کرنا ہوگا، اپنی خارجہ پالیسی کو آزاد اور غیر جانبدار بنانا ہوگا، آئی ٹی اور تعلیم کے شعبوں میں انقلاب لانے ہونگے، تجارت اور برآمدات بڑھانی ہونگی، اور پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت بنانا ہوگا، ترقی ہوگی، انصاف سے وسائل کی تقسیم ہوگی، تو قوم پرستی کا عفریت سویا رہے گا، غربت دور ہوگی تو خودکش بمبار فیکٹریوں کو ایندھن کی فراہمی بند ہوگی، سب سے پہلے پاکستان ہوگا تو ہی سب کچھ ممکن ہوگا

تنویر عارف
تنویر عارف ماحولیات اور دیرپا ترقی پر کام کرنے والے پرجوش کارکن ہین اور سماج کی مثبت تبدیلی کا خواب دیکھتے ہیں، انکو شطرج اور کرکٹ سے دلچسپی ہے، پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ریاست دیکھنا چاھتے ہیں اور اسکے لئے ہم خیال افراد کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *