مادرِ ملت ثانی

مادرِ ملت ثانی

باہر اللہ کی رحمت زور و شور سے برس رہی تھی پر کمرے کے اندر اداسی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، کمرے کے اندر اندھیرا سا تھا پر مجھے موم بتی کی بجھتی روشنی میں وزیرِ صحت پنجاب اور ان کے ساتھ آئے پنجاب کی چوٹی کے ڈاکٹرز دکھائی دیئے جو ثانی مادرِ ملت محترمہ کلثوم نواز کے ارد گرد بڑے ادب کے ساتھ ہاتھ بندھے کھڑے تھے، میں نے جب دخترِ ملت اور فخر پاکستان اور مسلم امہ، محترمہ مریم نواز کو مصلے پر دعائیں کرتے دیکھا تو میرے ہاتھ بھی جائے نماز کی طرف بڑھ گئے اور میں نے اُسکے پیچھے جائے نماز پچھا کر رب کے حضور ایسے ہی گڑگڑانا شروع کیا جیسے باہر آسمان گڑگڑا رہا تھا، شاید وہ بھی مادرِ ملت کیلئے دعائیں مانگ رہا تھا، بارش باہر بھی جاری تھی اور اندر میری آنکھوں سے بھی آنسو ٹپ ٹپ کر کے گررہے تھے اور ہر ایک قطرہ یہی آرزو لئے گررہا تھا کہ کاش میری عمر مادرِ ملت کو لگ جائے۔

سلام پھیرنے کے بعد جیسے ہی میں نے بائیں طرف دیکھا، مادرِ ملت کی زبان سے ” اللہ پشاور” بڑی مشکل سے نکلا، میں دوڑ کر وہیں اُس پلنگ کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھ گیا اور میرے بیٹھتے ہی میرے کانوں میں مادرِ ملت کی آواز پھر آئی، ایسا لگا جیسے خزاں میں بہار آگئی ہو، جیسے خشک زمین سے زم زم کے چشمے پھوٹے ہو، ہم سب ہمہ تن گوش کھڑے رہے تو دوسرے ہی لمحے جانثاران ملت کو اس عظیم خاتون کی طرف سے پشاور کوچ کرنے کا حکم ملا اور جب ڈاکٹروں نے اُن کی صحت کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کیا تو کہنے لگی کہ اس وقت جب پورا پشاور ڈینگی کی بیماری کی لپیٹ میں ہے تو میری فکر مت کریں،” میرا کیا ہے، میں لندن چلی جاؤں گی” پر تم لوگوں نے پشاور جانا ہے۔

بس یہ کہنا تھا کہ ڈاکٹرز دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور ایک ایک کرکے وہاں سے نکلنے لگے اور جب میں نکلنے لگا تو مجھے حفیف سے آواز میں کہا کہ کیا میں نے ٹھیک کیا؟ میں نے سسکتے ہوئے کہا کہ ،آپ نے پشاور کیلئے” قربانیوں کی تاریخ رقم” کی ہے۔ یہ کہتے ہی میرا دامن اپنے ہی آنسوؤں سے تر ہوگیا اور میں وہاں سے نکل گیا، پورے راستے زباں پر ورد جاری تھا، دعائیں کرتا رہا اور سوچتا رہا اس “خاندان” کی مخالفت” اسلام کی ہی مخالفت “ہے اور اللہ ہمیں اس گناہ سے بچائے رکھے۔ آمین۔

Avatar
عبدالبصیر خان
فاٹا کے حالات پر گہری نظر رکھنے والا، اُردو، اُردو سے جڑے لوگوں کی محبت دل میں لئے، دوبئی میں حصولِ رزق کی خاطر صحراؤں کی خاک چاننے والا ایک ادنیٰ سا طالبعلم۔۔۔ غزل، سگریٹ اور کتابوں کو ہی زندگی کہنے والا، اندر سے درویش۔۔۔۔