کچا ایمان اور عبادت کا ری ایکشن۔۔۔ محمد حنیف ڈار

ایک دوست نے کہا کہ ایک بندہ عجب صورتحال لیکر ان کے پاس آیا۔ اسکی بہت جائز اور غیر متنازعہ قسم کی حاجات تھیں، جیسے قرض کی ادائیگی اور کچھ خاندانی فرائض، جیسے والدین کاُعلاج معالجہ اور کاروبار روزگار کے مسائل۔ اس نے سات سال خدا کا خوف اپنے اوپر لازم رکھا، تہجد، نماز روزہ ،استغفار، دعا،صدقات، غرض ہر وہ کام جو دین میں رائج ہے کیا، مگر اسکی کوئی ایک مشکل بھی حل نہ ہوئی۔ اس نے تنگ آکر شیطان کو اپنا مالک و مولا مان لیا اور منت مانی کہ اگر شیطان اسکی مشکلات حل کر دے تو کبھی خدا کی جانب نہ لوٹے گا۔ شیطان اس سے ملا اور عہد لے کر یقین دہانی کرا دی کہ فلاں وقت تک فلاں فلاں کام اسکا کر دیا جائگا۔ حسب وعدہ اس کے سارے مسائل اس کے نئے مالک نے حل کر دئیے۔ غرض سات سال کی ریاضت،گریہ اور تقوی اس کے کسی بھی مسئلہ کو حل نہ کر سکا مگر غیر یقینی طور پر سب کچھ تین دنوں میں شیطان نے حل کر دیا۔ اب وہ شخص ہے تو مطمئن پر اسکا اب بنے گا کیا؟ یہ مجھے غیر مطمئن کر رہا ہے.

اس نے راتیں بھوک سے گزاریں اور رو رو کر روٹی مانگی رب سے اور سخت دوڑ دھوپ کرتا رہا، رب کو پتہ نہیں کیوں ترس نہیں آیا اس پر ؟

گزارش ھے کہ اللہ بے نیاز ھے۔ اس شخص کی مسلمانی سے بھی اور اس شخص کے کفر سے بھی۔ اس کے ایمان سے اس مشروط ایمان سے خدا کا فائدہ کوئی نہیں تھا اور اس کے اس کفر سے خدا کا کوئی نقصان نہیں ھے۔ اب اس شخص کا معاملہ یہ ھے کہ اس نے دنیا کا انتخاب کر لیا اور شیطان سے لے لیا اور ایمان بیچ کر دنیا کما لی۔ کچھ لوگ دنیا بیچ کر آخرت خرید لیتے ھیں کچھ آخرت بیچ کر دنیا خرید لیتے ھیں۔ قرآن نے دونوں کا ذکر کیا ھے
“اشتروا الحیوۃ الدنیا بالآخرہ،، والضلالۃ بالھدی ، والعذاب بالمغفرہ”؛ دنیا کی زندگی آخرت دے کر خرید لی ، ھدایت دے کر گمراھی لے لی اور اللہ کی مغفرت کی بجائے اللہ کے عذاب کو خرید لیا۔

میں جب بھی لوگوں کو گڑگڑا کر دعائیں مانگتے اور لمبے لمبے سجدے کرتے ،وظیفے کرتے دیکھتا ھوں تو کانپ جاتا ھوں کہ یہ نقد والے ھیں۔ اگر اللہ نے ان کے ساتھ ادھار کیا تو یہ کفر کی طرف بھاگ جائیں گے۔ یہ عبادت و ریاضت ، یہ دعائیں اور وظیفے ھضم کرنے کے لئے ھاتھی کا پیٹ چاھئے یا ھمالیہ جتنا ایمان، اسی لئے میں لوگوں کو وظیفوں کے چکر میں ڈالتا ھی نہیں۔ اب اگر اس بھائی کو میں دو چار لاکھ روپیہ بھیج دیتا تو وہ مسلمان ھوتے بلکہ Paid Muslim ھوتے۔ مگر میرا خدا بلیک میل نہیں ھوتا ھے بلکہ رحمت کرتا ہے، خلوص دیکھ کر۔ اس طرح تو کوئی ایسی بیوی کو بھی خرچہ نہیں دیتا جو کہے کہ اگلے مہینے پیسے نہ آئے تو میں دلدار بھٹی کے ساتھ بھاگ جاؤں گی۔

ایمان نام ھی امتحان کا ھے مگر ھم پیدائشی مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ھی نہیں کہ ھمارے پاس کتنی بڑی دولت ھے۔ لہذا اس کو بیچنے کے لئے ھاتھوں پہ دھرے پھرتے ھیں۔ ایمان نام ھے اپنی جان اور مال اللہ کے حوالے کر کے خود تہی دست ھو کر بیٹھ جانے کا، اللہ نے خرید لیا مومنوں سے ان کی جان اور مال بدلے اس کے کہ ان کے لئے ھے جنت۔ “إن الله اشترى من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بأن لهم الجنة”۔ اب اس جان اور مال کے ساتھ وہ کیا کرتا ھے وہ خود اس کا فیصلہ کرنے کا مختار ھے ،چاھے تو اس بدن کو گلا گلا کر مار دے ، چاھے تو اس مال کو خساروں سے ختم کر کے رکھ دے صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ اس نے اپنا قبضہ ختم کیا ھے یا نہیں۔ اگر قبضہ اللہ کو دے دیا ھے تو پھر جو گزرے گی اس کو اعتراض نہیں ھو گا، اور اگر قبضہ برقرار تھا تو ھر خسارے اور ھر تکلیف پر سانپ کی طرح بل کھائے گا۔

دل ھو کہ جان ، تجھ سے کیونکر عزیز رکھئے،،
دل ھے سو چیز تیری ،جاں ھے سو مال تیرا ،،،

یا پھر،
جس کو ہو جان و دل عزیز، تیری گلی وہ جائے کیوں

اللہ آزماتا ہے اور صابرین کو دیکھتا ہے۔

ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات وبشر الصابرين-( البقرہ- 155 )
یہ صابرین یہ یقین رکھتے ھیں کہ ھم پلٹ کر اللہ کی طرف جانے والے ھیں اور جو کچھ بھی نقصان ھو رھا ھے اس رب نے وعدہ کر رکھا ھے کہ آخرت میں منافعے سمیت ملے گا اور ھمیشہ کی زندگی سکون کی گزرے گی۔ یہ وہ لوگ ھیں کہ جن پر اللہ کی طرف سے شاباش ھے اور رحمتیں متوجہ رھتی ھیں اور ایسا رویہ رکھنے والے لوگ ھی ھدایت یافتہ ھیں۔

اللہ کی یہ سنت پہلے ایمان لانے والوں کے ساتھ بھی جاری رکھی گئ ھے اور اب بھی جاری و ساری ھے۔ سورہ العنکبوت انتہائی نامساعد حالات میں نازل ھوئی ھے ،جس کا اسٹارٹ ھی نہایت دھماکہ خیز ھے۔

الم (1) أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (2) وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (العنکبوت- 3)
(“الف لام میم ،کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ھے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے گا صرف اتنا کہہ دینے پر کہ ھم ایمان لے آئے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ ھم ان سے پہلوں کو بھی آزما چکے ھیں اور اللہ جان کر رھتا ھے ان کو جو کہ سچے ھیں ایمان میں اور ان کو بھی جو کہ جھوٹۓ ھیں ایمان میں”)

کیا یہ سارے حالات نبئ کریم ﷺ اور صحابہؓ پر نہیں گزرے ؟ شعب بنو ھاشم کی تین سالہ قید جس میں بچوں کو جوتے ابال کر ان کا پانی پلایا جاتا تھا اور ان بچوں کے رونے سے اھلِ مکہ کی نیندیں اچٹ جاتی تھیں۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں تین سال کی بات ھے ،اسی قید نے حضرت خدیجہ کی صحت پر ناموافق اثر کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی جان بھی گئ تھی، پھر ھما شما کے گلہ کرنے کی کیا مجال رہ جاتی ھے۔

دعا کر کے ھضم کر لینے کے لئے یا تو ھمالیہ جیسا ایمان چاھئے یا کے -ٹو جتنا گناہ، جوانسان کی گردن جھکا کر رکھے-گنہگار جب دعا مانگتا ھے تو ڈر ڈر کے مانگتا ھے، اسے اپنے گناھوں کے کلپ بار بار نظر آ رھے ھوتے ھیں۔ پوری ھو جائے تو فبہا ،، نہ ھو تو وہ اپنے آپ کو ھی کوستا ھے کہ تو نے بھی کونسا کوئی اچھا کام کیا ھوا ھے ! یہ تو ھونا ھی تھا۔ وہ مزید مسکینی اور عاجزی کا شکار ھو جاتا ھے ۔۔ اللہ معاف کرے نیک آدمی جب دعا مانگتا ھے تو دعا نہین مانگتا وہ تو الٹی میٹم دیتا ھے۔ اپنی نمازوں ،اشراق و اوابین، حج اور عمرے کے کلپ بار بار لگ رھے ھوتے ھیں۔ جوں جوں قبولیت میں دیر ھوتی ھے موڈ خراب ھوتا جاتا ھے اور وہ سمجھتا ھے کہ اس کی بے عزتی کی جارھی ھے، اور آخر بول پڑتا ھے، یار نمازیں بھی پڑھتے ھیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ھیں مگر مصیبت نے ھمارا ھی گھر دیکھ لیا ھے۔ یہ گلے شکوے کا انداز دعا کو کیا قبول کرائے گا، عبادت کو بھی بے کار کر دیتا ھے۔ دعا کر کے رب کی مرضی پر چھوڑ دینا چاھئے کہ دعا میں ٹائم فریم نہیں ھوتا۔ منگتا کسی کو الٹی میٹم نہیں دیتا، منگتا یہ نہیں کہتا کہ سرکار اتنے دو، ڈالرز ھی دو۔ وہ تو بس کشکول آگے کر دیتا ھے کہ جو آپ کے جی میں آئے ڈال دو۔

دعا کا ادب سیکھنا ھے تو موسی علیہ السلام سے سیکھیں – درخت کے نیچے کھڑے ھو کر فرمایا
” ربِ انی لما انزلتَ الی من خیر فقیر ( القصص )
” اے میرے پالنہار میں ھر اس چھوٹی سے چھوٹی خیر کا محتاج اور قدردان ھوں جو تو میری جھولی مین ڈال دے”۔ اس ادا پر رب کی رحمت کا ٹوٹ پڑنا دیکھو، گھر بھی دیا، نوکری بھی دی، بیوی بھی اسی دن دے دی۔ یہ ھے ھمارے رب کا مزاج۔ بلیک میلنگ اسے بالکل پسند نہیں ، بس سر جھکا دو، آنکھیں نیچی کر لو، رو لو، نہیں تو رونے کی صورت بنا لو، پھر دیکھو وہ خود تمہاری ضرورتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے پورا کرے گا !

اللہ آپ کو سلامت اور اپنے در کا محتاج رکھے، آمین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کچا ایمان اور عبادت کا ری ایکشن۔۔۔ محمد حنیف ڈار

  1. …In a Football or cricket or in any sports match

    …Millions of Muslims Pray with Allah for their team victory but they lose

    …Millions of Christian Pray with God for their team victory but they lose

    …Millions of Indian Pray with Bhagwan for their team victory but they lose

    …There is a question

    ?Does “Prayer” really have reality

    if “Yes” then:
    ?How could millions of prayers get wasted

    :if “No” then
    ?Why people are being fooled since childhood

    ?Same concept apply on all religions… can anyone explain why

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *