الوداع انور، میرے بچپن کے یار۔۔۔ انعام رانا

کراچی کانفرنس میں اہالیان کراچی نے شفقت کی انتہا کرتے ہوے مجھے اساتذہ میں بٹھا دیا۔ اک طرف محترم عقیل جعفری تھے اور دوسری جانب محترم سید انور محمود۔ یکایک مجھے بانہوں میں بھرتے ہوے بولے، میں أپکا بہت فین ہوں۔ دل کیا قدموں میں بیٹھ جاوں کہ سیدو، آپ استادوں کے استاد، انکسار اچھی بات مگر آپ تو مجھے ریزہ ریزہ کرنے پہ آ گئے۔ مگر ایسے ہی تو تھے ہمارے انور انکل، ہر اک کو بے پناہ محبت اور عزت سے نوازنے والے اور اسکو اسقدر اہمیت دینے والے کہ انسان خود کو واقعی کوئی توپ شے سمجھنے لگتا۔

مجھے یاد نہیں آتا کہ انور صاحب کو مُکالمہ تک کون لایا۔ کوئی نا بھی لاتا تو وہ آ ہی جاتے کہ وہ ہر سائیٹ کی مدد اپنی تحاریر سے کرتے تھے۔ انور انکل کی قریب دیڑھ سو تحاریر مُکالمہ پر شائع ہوئیں۔ کئی تو فرمائش کر کے لکھوائیں اور کئی ایسی کہ جی کرتا تھا کاش کسی اور کو نا دیں۔ سائیٹس کا ایک معیار ہے کہ مصنف کا مضمون ایک ہی سائیٹ پر لگے اور اسکو جگہ جگہ نا دے۔ یا پہلے سے چھپا ہوا مضمون نا چھاپا جائے۔ مگر انور انکل ان تمام قوانین سے مبرا تھے۔ مجھے عموما “سخت یا بدتمیز ایڈیٹر” کہا جاتا ہے۔ مگر سچ بات تو یہ کہ میں نے کبھی یہ جرات بھی نہیں کی کہ انور انکل سے کہوں کہ انکا دوسری سائیٹ پر چھپ چکا مضمون نہیں لگا سکتا یا اپنا مُکالمہ کو دیا مضمون کسی کو نا دیں۔ آج جب وہ نہیں ہیں تو شکر کرتا ہوں کہ ایسی گستاخی کے داغ ندامت سے بچ گیا۔

لاہور کانفرنس کی دعوت دی تو بیماری کا عذر کیا۔ ہم مُکالمہ انکے قدموں میں کراچی لے گئے اور ان سے صدارت کی درخواست کی۔ شدید بیمار تھے مگر حامی بھری۔ کانفرنس سے عین اک دن قبل وینیو کینسل ہوا تو جذباتی ہو کر میں نے اعلان کیا کہ کانفرنس تو سڑک پر بھی کروں گا۔ فورا انباکس آیا کہ کانفرنس تو ضرور ہو گی اور صدر بھی آئے گا۔ منصور مانی کی کوشش سے شکر ہے آرٹس کونسل مل گیا ورنہ سڑک پر صدارت کرتے وہ کتنے عجیب لگتے۔ بیماری میں ہی تشریف لائے اور صدارت کی، اور تقریر فرمائی۔ کانفرنس ختم ہوئی تو مجھے سینے سے لگا کر چوما اور بولے یار تو نے تو مجھے جوان کر دیا۔ میں تو ترس گیا تھا ایسی محفلوں کو۔ یقین کیجیے کہ سب تھکن، کوفت اور پریشانی جادو کی اس جپھی اور اس ایک جملے نے ختم کر دی۔  https://www.facebook.com/S.Anwer.Mahmood/videos/1365910336806930/

انور انکل بہت شرارتی تھے۔ معصومانہ سی شرارتیں کرتے تھے۔ کانفرنس کی ہی سنئیے۔ میسج کیا کہ صدر کو کچھ بولنا ہے یا “ممنون حسین” رہنا ہے؟۔ اک بار شاید میں نے زردہ کی تصویر یا کوئی سٹیٹس لگایا۔ بولے ہماری خاتون (اپنی مرحومہ بیگم کو ہمیشہ خاتون ہی پکارتے تھے) نہیں ہیں اور تم جی جلاتے ہو۔ میں نے کہا خاتون میری بھی نہیں ماں نے بنایا ہے۔ کہنے لگے اب ماں اس عمر میں کہاں سے لاؤں، بچوں کی کوئی ماں تلاش کرتا ہوں۔ خیر شکر ہے بھائی نبیل کی بیگم نے فورا زردہ میسر کر دیا۔ یہاں میں بھائی نبیل اور انکی بیگم اور انکل کی بیٹیوں کو ضرور سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ عموما بیوی مر جائے تو ہمارے معاشرے میں مرد رُل جاتا ہے۔ مگر نبیل اور دیگر اہل خانہ نے انکل کو بہت محبت سے پھول کی طرح سنبھال کر رکھا۔ انکل کی اولاد کو اللہ آجر دے۔

بات شرارت کی ہو رہی تھی۔ اک دن انباکس میسج کیا “یار اک مشورہ دو مگر خفیہ ہے”۔ کہا حکم کیجیے۔ بولے “سائیٹ بنانی ہے، میرے بڑے بڑے بچے ہیں، پیپسی برگر کھا لیں گے”۔ عرض کی میں حاضر، مُکالمہ بھی آپکا مگر سائیٹ پر لگانا کیا ہے کیونکہ بلاگ سے تو پیپسی کے پیسے بھی نہیں آتے۔ کہنے لگے اپنے بچوں کی تصاویر لگاوں گا اور ہاں آمنہ احسن کی تحریرں لگاوں گا تاکہ اگلے سال ویب کا کرایہ نا دینا پڑے۔ انور انکل ویسے تو سب ہی سے بہت پیار کرتے تھے مگر آمنہ بہن اور شاہد شاہ سے ہمیشہ انکو بہت زیادہ پیار کرتے دیکھا۔ مکالمہ کی سالگرہ پر باقاعدہ بینر ڈیزائن کر کے مبارک دی۔  شاہد کیلئیے تو مُکالمہ پر ہی اک مضمون بھی لکھا۔

آہ شاہد سے ہی انکی وفات کی خبر بھی ملی۔ کراچی کا اک اور چراغ بجھ گیا۔

انور انکل سے اک بات سیکھی۔ اپنے سے چھوٹوں کو عزت دیجیے، آپ کو خودبخود احترام ملے گا۔ ہم لوگ اکثر اپنے سے چھوٹوں پر رعب ڈال کر احترام کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور عموما عزت گنواتے ہی ہیں۔ انور انکل سے سیکھا کہ عزت پانے کیلیے عزت دینا بہت ضروری ہے۔ انکا پیار بناوٹی نہیں تھا بلکہ دل سے تھا اور انکی باتوں، جملوں سے چھلکتا تھا۔ مجھے اک دن فرمایا “یار بہت کم لوگوں سے دوبارہ ملنے کو جی چاہا ہے، مگر آپ سے دوبارہ ملنے کو جی چاہتا ہے”۔ میں نے کہا تھا انشااللہ ضرور ملیں گے۔ مگر اللہ نے نہیں چاہا۔ لیکن ملیں گے انور انکل، اس دن کہ جس دن کا وعدہ ہے اور جس دن آپ اپنے رب کے حضور ہماری گواہی پائیں گے کہ یہ شخص سراپا محبت اور اخلاق تھا۔ حدیث پاک ہے کہ دین اخلاق ہے۔ نہیں جانتا وہ کتنے نمازی تھے مگر گواہی دیتا ہوں کہ حدیث کی روشنی میں بہت دیندار انسان تھے۔

انکا آخری میسج انکے ایک ذاتی مسلئہ کیلیے تھا کہ انکی جائداد پر کسی نے قبضہ کر لیا تھا اور بطور وکیل میرا مشورہ مانگا تھا۔ گو یہ بات راز تھی مگر اب کھول رہا ہوں کہ بھائی رضا شاہ یا کوئی اور وکیل دوست اگر بھائی نبیل کی اس معاملے میں مدد کرے تو انکل کی روح کیلیے باعث سکون ہو گا۔

سنا ہے بوڑھے کی ایک بدقسمتی ہوتی ہے کہ اسے اپنے یاروں کی جدائیاں سہنی پڑتی ہیں اور انکے نوحے لکھنے پڑتے ہیں۔ مجھ غریب کی قسمت کہ جوانی میں میرے استاد میرے یار مجھے چھوڑے جاتے ہیں۔ جب انکل جاوید کی وفات پر مضمون لکھا تو انور انکل نے میسج کیا “آئی لو یو انعام رانا، کاش جلدی پیدا ہوتے تو میں سب سے کہتا یہ ہے میرے بچپن کا یار”۔ وہ اچانک چل دئیے اور دل ابھی تک اس خبر پر اک سکتے میں ہے۔ دکھ ایسا جیسا واقعی کسی بچپن کے یار کے جانے پر۔ اچھا میرے بچپن کے یار انور، میرے استاد انور، میرے پیارے انور، مُکالمہ کے تاج انور، ہم سب ہی کے دلارے انور، الوداع۔ خدا آپ سے اس سے زیادہ محبت کرے جتنی آپ نے ہم سے کی اور اس سے زیادہ عزت دے جتنی آپ نے ہم کو دی۔

لے او یار حوالے رب دے، میلے چار دناں دے

اس دن عید مبارک ہو سی، جس دن فیر ملاں گے

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *