سُومو ریسٹلنگ یا تقریر؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

قیامت قریب ہے۔ اس کی نشانی یہ مضمون ہے جو بدقسمتی سے مجھے لکھنا پڑ رہا ہے۔

کوئی بھی بات شروع کرنے سے پہلے میں آپ کو جاپانی سُومو ریسٹلنگ کی یاد دلانا چاہتا ہوں۔ یہ دیکھیں۔

Sumo wrestling

خان صاحب نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ۷۴ ویں اجلاس کے دوران پوڈیم پر کھڑے ہو کر بحیثیت پاکستانی وزیراعظم اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پچھلے فقرے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ مگر پھر بہت ہی زیادہ عقل والے بھی اسی دنیا کے باشندے ہیں جو ایسی نشانیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ سیانے جو ٹھہرے۔ چلیں ایک بار تفصیل سے سرجری کرتے ہیں اس فقرے کی۔

“خان صاحب نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ۷۴ ویں اجلاس کے دوران پوڈیم پر کھڑے ہو کر بحیثیت پاکستانی وزیراعظم اپنے خیالات کا اظہار کیا۔”

اقوام متحدہ وہ ادارہ ہے جو دنیا کو لاحق مسائل اور ریاستوں کے درمیان برے تعلقات کو باہمی کوششوں سے حل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس ادارے کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جس عمارت میں ہو رہا تھا اس سے باہر کسی لڑتے بھڑتے ملک میں شاید اقوام متحدہ کی Peace Keeping فوج موجود ہو تاہم یہ طے ہے کہ اس عمارت کے اندر کم از کم سُومو ریسٹلنگ کا کوئی پروگرام طے نہیں۔ سُومو ریسٹلنگ کیا ہوتی ہے وہ یہ تصویر دیکھنے سے شاید یاد آجائے۔

Sumo wrestling

اب ہمارے انٹرٹینمینٹ والے سینسرز اور خلیے اتنے رگڑے جا چکے ہیں کہ ہمیں تو سیاستدانوں کو جوتیاں پڑنے، ان کے منہ پر سیاہی پھینکے جانے یا بچوں کے ساتھ زیادتیاں یا خودکشیاں وغیرہ ان سے کم خبر تو خبر ہی نہیں لگتی۔ ایسے میں شاید ہماری امید یہی تھی کہ خان صاحب پوڈیم پر کھڑے ہوکر “اؤئے نریندرے۔۔۔” والی تقریر کر کے شاید اختتام میں اپنی پشاوری چپل بھی اتار کر اسے کھینچ مارتے۔ لیکن بھائیوں دوستوں، حقیقی زندگی میں ایسا ممکن نہیں۔ تامل فلموں سے واپس حقیقی زندگی میں آجائیے۔ خان صاحب نے وہاں کھڑے ہوکر ایک تقریر ہی کرنی تھی جو انہوں نے کی۔ سُومو ریسٹلنگ کی فضیلت پر خطبہ نہیں دینا تھا۔ سُومو ریسٹلنگ جانتے ہیں کیا ہوتی ہے؟یہ دیکھیں۔ اسے کہتے ہیں سُومو ریسٹلنگ۔

Sumo wrestling

واپس اپنے فقرے پر آتے ہیں۔ خان صاحب پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ کیسے بنے وہ ایک منہ چڑاتا سوال ہے، ان کے لیے بھی جو اس مضمون کے بعد میری شان میں ہجو گوئی کریں گے اور ان کے لیے بھی جنہیں یہ خود کلامی پسند آئے گی۔ پھر بھی اس سے نہ خان صاحب کے پاکستانی ہونے پر حرف آتا ہے اور نہ ان کے وزیراعظم ہونے پر۔ اب ظاہر ہے انہوں نے وہاں کھڑے ہوکر پاکستان کے مقدمے پر ہی بات کرنی تھی؟ ایسے تو نہیں ہوسکتا ناں کہ وہاں کھڑے ہوکر پینتیس پنکچر سناتے یا نعیم بخاری کی طاہرہ سید سے علیحدگی پر روشنی ڈالتے یا پھر۔۔۔ سُومو ریسٹلنگ پر بات کرتے۔ تصویر؟ یہ لیں۔

Sumo wrestling

پاکستان کا مقدمہ کیا ہے؟

یہی کہ کشمیر میں ظلم بند کرو۔ ان پر لگایا گیا کرفیو ہٹاؤ۔ ہمیں دو نہ دو جو تمہارے پاس ہے وہ تو ٹھیک کر لو۔ ہاں ہمارے ٹخنوں سے سوچنے والے تھنک ٹینک ماضی میں بیوقوفیاں کرتے رہے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز کا ملبہ ہم پر ڈال دو۔ اپنے گھر میں اپنے بچوں کو مارو گے تو کل وہ کھڑے ہو کر تمہارا ہاتھ روکیں گے۔ پھر ہمیں مت کہنا۔ تمہارے ہمارے تعلقات جیسے بھی رہے جو چیز ہم نے نہیں کی اسے بہانے بنا کر تم ہماری سرحد قبول نہیں کر سکتے۔ اور اگر ایسا کرو گے تو ہم لڑیں گے۔ آخری حد تک جائیں گے۔ یہ جو ہمارا ایٹم بم ہے جسے تم سیکرڈ گیمز میں ساشے پیک میں دکھاتے ہو، ہم پر حملہ کیا تو ہم اللہ اکبر کہہ کر اسے چلا کر بھی دکھائیں گے۔ تم ہمیں کہتے ہو ہم دہشت گرد ہیں، تمہارے اپنے پاس آر ایس ایس ہے وہ حاجی ثناءاللہ تو نہیں۔ وہ بھی دہشت گرد ہیں۔ پھر ہمارا کتا کتا تمہارا کتا ٹامی کیسے؟ ہماری ریسٹلنگ کبڈی تمہاری ریسٹلنگ سُومو کیسے؟ سُومو۔۔۔ ارے وہی۔۔۔ یہی یہی۔۔۔
Sumo wrestling

اس تقریر پر مجھ جیسا مبینہ شدھ پٹواری بھی خوش ہوا۔ یہ ایک اچھی تقریر تھی۔ اس تقریر میں اچھا کیا تھا؟ جی میں جواب دیتا ہوں میرے دل جلے بھائی۔ اس تقریر کی ڈلیوری اچھی تھی، قدرتی تھی سیزیرین نہیں تھی۔ یہ فی البدیہ تقریر تھی۔ پرچی والی بھی اچھی ہو سکتی ہے مگر بہتر فی البدیہ ہی سمجھی جاتی ہے۔ خان صاحب کی باڈی لینگویج بہت بہتر تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خواجہ آصف اور شاہ محمود قریشی بھی اچھی باڈی لینگویج رکھتے ہیں تاہم وہ دونوں وزیراعظم نہیں۔ سب سے بڑھ کر اہم یہ کہ اس تقریر کا متن میرے اور آپ کے دل کی بات ہے۔ یہ ایک عام پاکستانی کے دل کی باتیں ہیں۔ اور پوڈیم پر کھڑے کسی بھی شخص کا کام کیا ہے؟ میرے اور آپ کے جذبات کی نمائیندگی جو احسن طریقے سے ہوئی۔ کم از کم اس تقریر کی حد تک۔

پھر تعریف کیوں نہ ہو؟

اب آتے ہیں اس تقریر پر دل جلوں کے ردعمل کا۔ سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ صرف باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ یہ بظاہر ایک لو آئی کیو سوال ہے تاہم چونکہ بڑے معزز اور سمجھدار لوگوں نے یہ بیانیہ اپنایا ہے لہذا میں اسے لو آئی کیو سوال کہہ نہیں سکتا۔ باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ چلئے آپ کی مان لیتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا۔ چلیں پھر آپ بھی باتیں سمجھ کر باتوں ہی کو پرکھیں۔ جہاں باتیں نہیں کرنی تھیں وہاں ہم نے جہاز گرا دیے تھے ابھینندن پکڑ لیا تھا اور پھر واپس بھی کر دیا تھا۔ یہاں کرنی کی تقریر تھی ناں سُومو ریسٹلنگ نہیں کرنی تھی۔ سومو ریسٹلنگ یاد دلاؤں دوبارہ سے؟ یہ لیں۔

دوسرا ردعمل یہ تھا کہ “تو کیا ہوا، بھٹو اور نواز اس سے پہلے اس سے بہتر تقریریں کر چکے ہیں”۔ یعنی بھٹو کی تقریر اچھی تھی نواز کی اچھی تھی تو کیا ہوا جو ایک اور اچھی تقریر ہوگئی؟ ہیں؟ ایسا ہے کیا؟ مطلب مان رہے ہیں کہ تقریر اچھی تھی مگر پھر بھی نہیں ماننا؟ ارے بھائی خان یہیں ہے یقین کریں اس نے اتنے موقع دینے ہیں تھیٹر لگوانے کے لیکن ایک آدھ اچھا کام کر دیا تو بھائی کر دو تعریف؟ کیوں خود کو بغض کا مارا ثابت کرنے پر تلے ہو؟ بھائی کیا چاہتے ہو کیا کہتا وہ وہاں کھڑا ہوکر؟ چپ رہ کر آجاتا تب بھی آپ کو سکون نہیں ملنا تھا۔ یا سُومو ریسٹلنگ پر تقریر کر دیتا وہ ٹھیک تھا؟ یاد دلاؤں سُومو ریسٹلنگ؟ ہیں؟ یہ لو۔

Sumo wrestling

ایک ردعمل یہ بھی تھا کہ خان صاحب دنیا کے سامنے جو دھمکی دے آئے ہیں اسے اب بھگتنا پڑے گا پاکستانیوں کو۔ یہ سنجیدہ دلیل ہے لہذا میرا اس پر سُومو دکھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کم از کم ابھی نہیں۔ دیکھیں ہم نے جو ایف ۱۶ خریدے ہیں وہ بھی دفاع میں استعمال کرنے کا کہہ کر خریدے۔ جنہیں ہم جے ایف ۱۷ بیچتے ہیں انہیں بھی اسی تاکید کے ساتھ بیچتے ہیں۔ دراصل اس کی سنجیدگی سگریٹ کی ڈبی پر “خبردار تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” سے زیادہ نہیں ہوتی پھر بھی ہم ایسا کرتے ہیں۔ حقیقت یہی رہتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں تیل لگا کر استعمال کیا جائے گا۔ ایٹم بم کا بھی یہی معاملہ ہے۔ خان صاحب نے یہ نہیں کہا کہ “انہوں نے ہمارے لیڈر کے پوسٹر پاڑے تو ہم ان پر بم گرائیں گے”۔ نہیں۔ یہ کہا کہ تم کشمیر میں جو کر رہے ہو اس کا نتیجہ تمہیں کشمیر سے ہی ملے گا۔ پھر تم اپنے کیے کا الزام ہم پر ڈالو گے اور دوبارہ کوئی مہم جوئی کرو گے۔ مگر یاد رکھو اگر ہمیں مجبور کیا گیا ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم آخری حد تک جائیں گے۔ یعنی اس پر بھی نزلہ ہم پر گرنے کا اندیشہ ہے کہ تڑیاں لگا رہا ہے؟ یعنی ایک تو غریب اوپر سے بدتمیز؟ بھائی پھر کیا کہتے اپنے دفاع میں؟ یہ کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہم جواب میں۔۔۔ سُومو ریسٹلر چھوڑ دیں گے؟ سُومو ریسٹلر۔۔۔ ارے یہ والے۔۔۔

دیکھیے ہمیں تقریروں سے کوئی امید نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس شاندار تقریر کے بعد بھی بی آر ٹی نامکمل رہے گی، معیشت کھڈے لائن لگی رہے گی، اپوزیشن ایک ایک کر کے اندر ہوتی رہے گی، بزدار وزیراعلی پنجاب رہے گا، گنڈا پور کلبھوشن کو آزاد ثابت کرتا رہے گا، احسان اللہ احسان جیجا جی جیسی سہولیات سے مستفید ہوتا رہے گا، مِسنگ پرسنز کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا، خاکوانی صاحب خان صاحب کا آڑھا ترچھا دفاع کرتے رہیں گے، ابو علیحہ ہٹ فلموں پہ فلمیں دیتے رہیں گے، بابا کوڈا اپنی پوجا پاٹ جاری رکھے گا اور ہم ہر اس مقام پر جہاں آواز اٹھانی لازمی ہوگی اٹھاتے رہیں گے۔۔۔ آواز پھر چاہے اس معاملے میں خان کی تقریر کے حق میں ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے پوڈیم پر پاکستانی مؤقف ہی آنا چاہیے ناکہ۔۔۔ آہو وہی۔۔۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *