آثار کچھ بہار کے پیدا ہوئے تو ہیں۔۔۔انعام رانا

تین سال قبل جب مکالمہ شروع ہوا تو ایک دھن تھی کہ یہ چلنا چاہیے۔ الحمداللہ یہ چلا اور کامیاب ہوا۔ اللہ کے بے شمار احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ مجھے مخلص دوستوں سے ملوا دیتا ہے۔ مکالمہ اگر چلا یا ،کامیاب ہوا، تو ان ہی مخلص دوستوں کی وجہ سے ، خواہ وہ سابقہ یا موجودہ ایڈمنسٹریشن کے دوست ہوں، لکھاری دوست ہوں یا پھر قاری دوست۔ آپ سب کا شکریہ۔۔

سائیٹ چلانا یقینا ًآسان کام نہیں ہے۔ بالخصوص جب یہ معاشی طور پہ ایک مسلسل ذمہ داری ہو، لوگوں کی ایڈمنسٹریشن، لکھاریوں کے طعنے، قارئین کے شکوے اور بیجا تنقید الگ۔ میری والدہ کو شروع میں مکمل یقین تھا کہ مئی سن 2016 میں اپنی لا فرم شروع کرنے کے فورا ً بعد ستمبر سن 2016 میں مکالمہ شروع ہونے کے پیچھے ضرور میرے کسی بدخواہ کا مشورہ ہے ،جو مجھے بطور وکیل کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ الحمداللہ، لاء  فرم بھی چلی اور مکالمہ بھی، کیونکہ اچھی نیت، اخلاص، اللہ پہ یقین اور دوستوں پہ بھروسہ ناکام نہیں ہوتا۔ ہاں کئی بار جی گھبرا اٹھتا ہے مگر تب ہی کسی کا میسج ملتا ہے کہ کیسے مکالمہ نے اسکا انداز فکر بدل دیا یا کیسے وہ لکھنے یا پڑھنے کی جانب مائل ہو گیا۔ بس مایوسی کے ان ہی لمحوں میں وہ میسج امید کی وہ رسی بن جاتا ہے جو مایوسی کی وسیع خندق آسانی سے پار کرا دیتا ہے۔

مکالمہ سائیٹ تین سال بعد کہاں کھڑی ہے میں نہیں جانتا، ہاں مگر اطمینان ہے کہ کئی نئے لکھاری سامنے آئے، پڑھنے کا ذوق بڑھا، ہیجان انگیز خبروں یا بلاوجہ کے فسادات سے گریز کرتے ہوئے مکالمہ کا معیار برقرار رکھنے کی مکمل کوشش کی جاتی رہی، جو ماٹو تھا کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ایک رابطے کی صورت پیدا کرنی ہے ،اس ماٹو پہ قائم رہے اور کچھ نا کچھ اپنے قارئین پہ مثبت اثر ڈالا۔ سو بہار ابھی نہ  بھی آئی ہو، بہار کے امکانات ضرور پیدا ہو چکے۔

اردو بلاگنگ سائیٹس کا دور اب نوزائیدہ سے جوانی میں قدم رکھ چکا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اب سائیٹس فضولیات میں اور آپسی ٹکراؤ  میں وقت ضائع کرنے کے بجائے مقصد پہ فوکس کیے ہوئے کام کرتی جا رہی ہیں۔ آئندہ آنے والا وقت سخت ہو گا۔ مین سٹریم میڈیا دن بہ دن سنسر کا شکار ہوتا جائے گا، ہمسایہ میں موجود ہندوتوا ہمارے سماج میں ری ایکشن پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، کشمیر کے مسئلہ پہ حکومتی اور عوامی موقف آپس میں ٹکرائے گا، ایک محدود (دعا ہے محدود ہی رہے) فیس سیونگ پاک بھارت جنگ کا امکان ہے، پڑوس میں ایران کے نئی شکار گاہ بننے کے امکانات ہیں، ان سب کے درمیان بہت ضروری ہے کہ اردو بلاگنگ سائیٹس اپنی انفرادیت، آزادی اور آزادانہ سوچ برقرار رکھتے ہوئے عوامی بیانیے  کو موثر انداز سے پیش کرتی رہیں۔ دھیرے دھیرے کارپوریٹ میڈیا جیسے سوشل میڈیا پہ بھی تسلط جمائے جا رہا ہے، ایسے میں ان اردو بلاگنگ سائیٹس کا ہونا اور عوامی موقف یا بیانیہ کی تشکیل اور ترویج میں اہم کردار ہو گا۔

برصغیر میں رواج رہا ہے کہ محرم شروع ہوتے ہی مبارک دینا وصول کرنا اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ مسلک کوئی بھی ہو، عشرہ عاشور کا احترام ہمارا مشترکہ تہذیبی اثاثہ ہے۔ میں ممنون ہوں ان دوستوں کا جنہوں نے مبارک اور دعاؤں سے نوازا۔ وہ اپنا خیر مبارک بعد از عشرہ عاشور منظور فرمائیں۔ میں تمام مکالمہ ٹیم، قارئین اور لکھاریوں کا ممنون ہوں۔ میں بالخصوص محترم احمد رضوان، معاذ محمود اور اسما کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ یہ سائیٹ یوں چلاتے ہیں کہ مجھے، محترم اظہر کمال اور حافظ صفوان کو بالکل فکرمند نہیں ہونے دیتے۔ میں محترم اویس قرنی، زرقا آپا اور روبینہ شاہین کا ممنون ہوں جو مکالمہ کے فیس بک گروپ کو انتہائی کامیابی سے سنبھالے ہوئے  ہیں۔ دعا ہے کہ یہ سفر مزید ترقی و کامیابی سے جاری رہے۔ آمین!آپکا انعام رانا

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *