• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • سابق آصف علی زرداری کی آخری کیس سے بھی بریت۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

سابق آصف علی زرداری کی آخری کیس سے بھی بریت۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

اس امر میں کلام نہیں کہ نوے کی دھائی ہماری سیاسی تاریخ کے المناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔کبھی پیپلز پارٹی نے اپنے مخالفین پہ سیاسی مقدمات قائم کیے تو کبھی نون لیگ نے پیپلز پارٹی کے خلاف جارحانہ کردار کشی مہم چلائی اور سیف الرحمان احتساب سیل کے ذریعے پیپلز پارٹی کو دبائو میں لانے کی کوششیں کیں۔ حتیٰ کہ نون لیگ نے تو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ محترمہ نصرت بھٹو کی کردار کشی مہم اس حد تک چلائی کہ باقاعدہ ہیلی کاپٹرز سے پمفلٹ پھینکے گئے۔1999 میں جب سابق آمر جنرل(ر) پرویز مشرف نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا تو اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور کئی وزرا کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ بعد ازں میاں نواز شریف صاحب جنرل پرویز مشرف صاحب سے معافی نامہ کا ایک طویل معاہد کر کے جدہ چلے گئے۔
جب میاں صاحب معافی نامہ کر کے جدہ گئے تو اس وقت آصف علی زردای صاحب پاکستان میں جیل میں ہی تھے۔

بعد ازاں حالات کچھ ایسے ہو گئے کہ سابق صد آصف علی زرداری کو بھی ایک خفیہ ڈیل کے ذریعے رہا کر دیا گیا اور انھیں ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔اسی دوران میں لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف صاحب کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جسے میثاقِ جمہوریت کا نام دیا گیا ۔ محرمہ بے نظیر بھٹو جب وطن واپس آئیں تو نواز شریف بھی وطن واپس آئے،محترمہ کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسے کے بعد شہید کر دیا گیا۔اس وقت آصف علی زرداری ملک سے باہر تھے ارو عملی طور پہ ان کا سیاست سے کوئی زیادہ سروکار نہ تھا۔محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے آکر پیپلز پارٹی کی کمان سنبھالی ، صدر پاکستان بنے اور اپنی کمال مفاہمتی پالیسی کی بنا پر اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری کی، اگرچہ اس دوران پیپلز پارٹی کے ایک منتخب وزیر اعظم کو چوھدری افتخار کی عدلات نے نا اہل بھی قرار دیا تھا۔
آصف علی زرداری کی صدارتی حیثیت کی وجہ سے عدالتوں اورنیب میں دائر ان پر مقدمات کی فائلیں بند کر دی گئیں۔سرے محل اور کئی ایک کیسز سے زردای بری ہو چکے ہیں۔اب نیب میں ان کے خلاف کرپشن کا دائر جو آخری کیس تھا ،نیب عدالت نے انھیں اس کیس سے بھی بری کر دیا ہے۔یاد رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے آخری کیس میں بری ہونے کے بعد قید و بند کے زمانے کے دکھوں اور زیادتیوں کو یاد کرتے ہوئے مخالفین کو بار بار آئینہ دکھایا،انھوں نے کہا کہ قید و بند کے اس سفر کا آغاز لاہور سےہوا جب مجھے نوٹوں کے ٹرک کا جعلی کیس بنا کر گرفتار کیا گیا، لاہور سے کراچی منتقل کیا گیا اور پھر لانڈھی جیل میں بھی رکھا گیا جو ایک طویل داستان ہے، ایک کیس نہیں چودہ کیسز تھے، این آر او میں الیکشن ریفارمز کی گئیں جس کی وجہ سے میاں صاحب کی واپسی ممکن ہوئی۔پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کا فیصلہ آئندہ آنے والی اسمبلی کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کےساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں جب تک وہ تھک نہ جائیں، مک مکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے، مجھ پر تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے اور سب کے سب ختم ہوگئے، ہر کیس میں چار چار پانچ پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں، غلام اسحاق خان کے دور میں مجھ پر 12 کیسز بنائے گئے، ہر مقدمہ میں نے جیل کے اندر سے جیتا۔آصف علی زرداری نے کہا ہےکہ این آر او میں جمہوریت، الیکشن اور نوازشریف کی واپسی بھی تھی جب کہ پرویز مشرف کی وردی نہ اترواتے تو وہ آج بھی بیٹھے ہوتے۔
سابق صدرآصف زرداری کا کہنا تھا کہ تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے تھے، ہر کیس میں 8، 8 پراسیکیوٹرز تھے، مجھ پر ٹارچر ہوا، سب جانتے ہیں کہ مجھے کن حالات میں آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا، غلام اسحاق دور میں بھی 12 کیسز تھے، جیل میں میری گردن اور زبان بھی کاٹی گئی، مجھ پر جیل میں تشدد کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، عدالت نے ثابت کیا کہ یہ خودکشی نہیں، تشدد ہے، مشرف دور میں مزید دو کیسز بنائے گئے، ہمارے خلاف سازش اور تاریخی مذاق کرنے والے لوگ آج بھی موجود ہیں، ہم پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے بنائے گئے، ایسے لوگوں کو گواہ بنایا گیا جنہیں میں جانتا پہچانتا تک نہیں۔آصف زرداری نے مزید کہا کہ مرتضیٰ بھٹو کو شہید کرکے بے نظیر کی حکومت کو گرایا گیا۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین نے کہا کہ این آراو اس لئے کیا گیا کہ اس میں انتخابی اصلاحات سمیت دیگر معاملات شامل تھے اور اس میں جمہوریت، الیکشن اور نواز شریف کی واپسی بھی تھی، پیپلز پارٹی نے کبھی کرپشن اور انتقامی کارروائی نہیں کی۔
نیب کی جانب سے آصف علی زردای کی ،آخری کیس سے بریت کے بعد اس فیصلے پر بالخصوص پی ٹی آئی چیئر مین اور پی ٹی آئی کی لیڈشپ کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، اور اب یہ کیس لاہور ہائیکورٹ لے جایا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحفظات کے باوجود پی ٹی آئی کو یہ فیصلہ بھی اس طرح کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرنا چاہیے جیسے اس نے نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ تسلیم کیا ہے۔ یہ ایک بیمار ذہن اور معاشرے کی علامت ہے کہ طبیعت، مزاج اور خواہش کے مطابق جو کام نہ ہو اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس میں سے سازش تلاش کی جائے۔ ادارے اسی صورت مضبوط ہوں کے جب سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور سماج کے دیگر متحرک وبالغ نظر افراد ان اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے۔مگر کارکردگی پر نظر رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ فیصلے اپنی طبیعت کے مطابق لینے کے لیے پورے سسٹم اور سماج کو ہی ہدف تنقید بنایا جاتا رہے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *