• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • امریکہ کی پاکستان و افغانستان کو محاذ آرائی کم کرنے کی درخواست

امریکہ کی پاکستان و افغانستان کو محاذ آرائی کم کرنے کی درخواست

امریکہ کی پاکستان و افغانستان کو محاذ آرائی کم کرنے کی درخواست
طاہر یاسین طاہر
امریکا نے پاکستان اور افغانستان سے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور افغان حکام کے ساتھ امریکی حکام نے ان سے اپنے تنازعات کے حل کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کیلئے بھی کہا۔امریکی حکومت کے ترجمان کے مطابق امریکی حکومت چاہتی ہے کہ دونوں حکومتیں سرحد کے دونوں جانب دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشن کی کوششیں کریں۔افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو رواں ماہ اس بات کی نشاندہی بھی کی تھی کہ امریکا، افغانستان میں پائیدار انسداد دہشت پلیٹ فارم کا قیام چاہتا ہے۔
ان کا مزیدکہنا تھا کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام ممکن نہیں اور وہ دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے افغانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پاکستانی حکام پر زور دیں گے۔
حال ہی میں واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک میں ہونے والی بات چیت کے دوران کچھ امریکی ماہرین نے زور دیا کہ پاک افغان خطے میں امن کے قیام کیلئے اوباما انتظامیہ کے مقابلے میں ٹرمپ انتظامیہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے ۔خیال رہے کہ اوباما انتظامیہ کو جنگ بش انتظامیہ کی جانب سے وراثت میں ملی تھی اور انھوں نے ابتدائی عرصے میں اس میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی، جس نے ان کیلئے طالبان سے مذاکرات میں مشکلات پیدا کردیں۔
اس کے علاوہ امریکا کے نئے حکمرانوں نے کابل میں موجودہ سیاسی نظام میں گٹھ جوڑ کے حوالے سے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا، جس کے باعث دونوں مخالفین کے درمیان اتحاد ممکن ہوا، ان میں صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ شامل ہیں۔ہمیں یہ امر تسلیم کرنا چاہیے کہ افغانستان کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے کابل،جلال آباد یا افغانستان کے کسی بھی حصے میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور یہ کہ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ کابل کا اپنا دست نگر رکھے۔یہ بات حیرت افروز ہے کہ کابل کے حکمرانوں نے کبھی بھی اپنی ناکامیوں اور ملک میں پھیلی دہشت گردی و انتہا پسندی کا تجزیہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اپنے خاص قبائلی واج و روایات کے مطابق پاکستان کو اپنا دشمن خاص سمجھ کر اپنی سر زمین کو پاکستان کے دشمنوں کے لیے پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ امریکہ یہ سمجھتا رہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف امریکی و نیٹو فورسز پر ہونے والے حملے پاکستانی سرزمین سے ہوتے ہیں۔ یعنی امریکہ و نیٹو کا خیال تھا کہ دہشت گرد نیتو فورسز پر پاک افغان سرحدی پٹی کو استعمال میں لا کر حملہ کرتے ہیں۔ جبکہ دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بننے کے بعد پاکستان نے کم و بیش ایک لاکھ سے زائد اپنے شہریوں اور دس ہزار کے قریب سیکیورٹی فورسز کے جوانون اور درجنوں آفیسرز کی قربانیاں دی ہیں۔
یہ امر افسوس کا باعث ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نیم دلانہ تسلیم کرتی ہے۔اے پی ایس کے بچوں پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو دہشت گرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز اور کمانڈرز کے ساتھ رابطوں میں تھے،کراچی ایئر پورٹ پر حملہ ہوا تو بھی دہشت گرد وں کے روبطے افغانستان میں تھے۔حالیہ لاہور و لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر ہونے والے دہشت فٓگردی کا اتنے بانے بھی افغانستان سے ہی جا ملتے ہیں۔پاکستان کا موقف برا واضح ہے کہ افغانستان اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اس وقت بھی ملا فضل اللہ سمیت پاکستان کے انتہائی مطلوب 80 سے زائد دہشت گرد افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے حالیہ سرجیکل سٹرائیکس ان ہی دہشت گردوں کے خلاف ہیں جو افغان سر حدی پٹی کو کام میں لا کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔
پاکستان محاذ آرائی کا کبھی بھی خواہش مند نہین رہا مگر افغانستان اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو مشرقی و مغربی دونوں سرحدوں پر مصروف کر دے گا اور یہ کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی اور خود کش حملے کر وا کے پاکستانی عوام کا مورال کم کر دے گا تو یہ عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان جوابی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور پاکستان افغانستان میں سرجیکل سٹرائیک کر کے اپنے اسی حق کو ہی استعمال کر رہا ہے۔امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو محاذ آرائی کم کرنے کے مشورے دینے کے بجائے افغان حکومت وک سمجھائے کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کرے بصورت دیگر خطہ ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *