تازہ دم ستارہ

طوفانی رات کے گھپ اندھیرے میں سیاہ آسماں بجلی کی چمک سے پل میں روشن تو پل میں تاریک ہورہا تھا۔۔۔روشنی بینائی رکھنے والوں کے لیے رہنما بن جاتی اور وہ اس کی رہبری میں راستہ چلتے منزل کی جانب آہستگی سے قدم بڑھاتے جارہے تھے،گرجتے بادل اور کڑکتی بجلی کا خوف رکھنے والے آنکھیں میچے اوندھے ہی لیٹے رہے۔۔سرکش لہروں سے سمندروں میں اٹھنے والے طلاطم نے وہ اندھی مچائی کہ ماہر تیراک بھی ہلاک ہوگئے۔۔۔سفینے کناروں پر آکر ڈوبنے لگے۔۔۔ اور ایک قہقہہ بلند ہوا۔۔۔ مایوسی کا قہقہہ۔۔
جس کے بعد ہر سمت گہری خاموشی چھاگئی۔۔اور تاریکی آسمان کا مقدر بن گئی۔

اس ظلمت کدے میں چراغ حق کی لو مدھم سی ہوکر رہ گئی۔۔۔ شریر ہوا کے جھونکے اپنا کھیل جاری رکھے ہوئے تھے۔شام سے اٹھنے والے فتنے نے وہ تباہی مچائی کہ نسل آدم اس طوفان کی بھینٹ چڑھتی جارہی تھی۔۔ ہر پل اک نئی آفت بشر کے وجود کو زمین سے اٹھا کر پاتال کی گہرائیوں میں جھونک رہی تھی۔۔۔ دین مذہب اور ملائیت کے خودساختہ شعار کانوں سے لہو برسا رہے تھے۔ عزت و ناموس تکریم و تحریم کے نام پر رسوائیوں کی  دلدل میں دھنس رہی تھیں۔ ۔ تفرقوں میں بٹا ہوا مست ہجوم آپس میں ہی الجھا رہا
اور دیے کی لو بجھ گئی۔۔۔ زمین تاریک ہوگئی۔ تاریکی سے ہجوم میں تصادم ہوا اور شور بلند ہوا جس کی صدا سیاہ آسمان کے پار ستاروں کی بستی سے جا ٹکرائی۔۔۔

اور ایک تازہ دم ستارہ اپنی مدھم سی روشنی لیے زمین پر اتر آیا اور تاریکیوں سے جنگ شروع کردی۔۔ہجوم اسے سراہنے یا اس کی امداد تو کجا اسے نظرانداز کرتا رہا بلآخر وہ بھی ٹوٹتا ہوا فرش سے عرش کی سمت بڑھا اور سیاہ و تاریک آسمان میں سرخی کی ایک لہر نمودار ہوئی۔۔۔ٹوٹے ہوئے تارے سے ابھرتی سرخ شعاؤں  نے آسمان کو سیاہی کی گرفت سے آزاد کردیا تھا۔ سرخ آسمان پاکیزہ لہو کی بو سے مہکنے لگا۔۔۔فرقوں میں بٹی ہوئی زندہ لاشیں پھر سے ہجوم کی صورت جمع ہونا شروع ہوئیں  تاکہ ڈوبتے ہوئے تارے کا آخری دیدار کیا جائے۔۔

کچھ ہی لمحوں میں ابھرتے ہوئے آفتاب نے اپنی کرنوں سے آسمان کو صاف کردیا۔۔آسمان پھر سے اجلے نیلے پیرہن میں سترنگی شال اوڑھے مسکرا رہا تھا۔۔۔ اسے اب رات کی تاریکی اور طوفان کا خوف نہیں رہا تھا کیونکہ اس ٹوٹے ہوئے تارے نے اپنے لہو کی سرخی سے کئی ایک نئے اجلے ستارے تیار کردیے تھے جو ہر شب اندھیروں کے مقابل چمکنے کو صف بستہ، منظم اور آمادہ تھے۔مگر زمین زاد بےشعور ہجوم کی صورت تماش بیں  بن کر آسمان سے ٹوٹتے ہوئے تارے کا نظارا کرتے اور پھر آپس میں الجھ جاتے اور شرارتی ہوائیں پھر سے دیا بجھا دیتیں۔۔۔!

بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *