کیا فائدہ روزے کا؟۔۔۔۔۔وقار عظیم

جون جولائی کا روزہ ہو۔۔۔تینتالیس درجہ حرارت ہو۔۔۔پیاس ایسی ہو کہ گلے میں کانٹے چبھ رہے ہوں۔۔اور بس نہ چل رہا ہو کہ سامنے ٹھنڈا پانی ہو اور میں غٹاغٹ پی جاوں ۔۔۔اور اس وقت تک نہ رکوں جب تک گلہ اور معدہ پانی کی ٹھنڈک سے ٹھنڈے نہ ہو جائیں۔۔فریج کھولا۔۔فریج کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اسقتبال کیا۔۔ٹھنڈے یخ پانی کی بوتل اٹھائی۔اس کی ٹھنڈک سے ہاتھ کو راحت مل رہی ہے خود سوچیں جب وہ ٹھنڈا پانی حلق سے اترے گا تو کیا راحت دے گا۔۔ بوتل کا ڈھکن بھی کھول لیا۔۔۔بوتل کو منہ تک بھی لے آئے لیکن پانی کو منہ میں انڈیلا۔۔۔صرف ایک انچ کی مزید اوپر کی جانب حرکت اور بوتل ہونٹوں سے لگ جائے اور سکون آ جائے گا لیکن نہیں۔۔۔نہیں پینا۔۔روزہ ہے۔۔مجھے اپنے رب کے حکم کے تحت پیاسا رہنا ہے۔۔ایک خاص وقت تک مجھے اس سے پرہیز کرنا ہے۔۔گھر میں اکیلے بھی ہوں کوئی دیکھ بھی نہ رہا ہو پھر بھی پانی نہیں پینا کیوں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔۔ایسے میں کوئی جب منہ اٹھا کر کہے کہ ” تم  نے فلاں کام نہیں کیا یا فلاں کام کرتے ہو؟ کیا فائدہ تمہارے روزے کا؟۔۔۔

بھئی! ایک بندہ بے نمازی ہے وہ روزہ رکھ کر نماز نہیں پڑھتا اس کو نماز کی جانب بلاو۔۔نہ کہ اسے روزے سے بھی بھگاو۔۔وہ تو پہلے ہی شیطان کے زیر اثر ہے کہ روزہ تو رکھ رہا لیکن نماز نہیں پڑھ رہا۔۔۔یوں سمجھ لیں وہ نیکی اور برائی کے باڈر پر ہے آپ نے فیصلہ کرنا ہے اسے نیکی کی جانب کھینچنا ہے یا برائی کی جانب دھکیلنا ہے۔۔۔آپ اسے طعنے زنی کرو گے کہ “اوئے نماز نہیں پڑھتے کیا فائدہ روزے کا؟ اوئے شرم کر۔گانے سنتے ہو کیا فائدہ روزے کا۔۔اوئے سوئے رہتے ہو؟ کیا فائدہ روزے کا؟”۔۔۔

بندہ خدا۔۔ایک شخص نے خدا کی رضا کی، اس کے حکم کی خاطر تپتی جھلساتی گرمی میں وہ چیز بھی خود پر حرام کر لی جو کہ حلال تھی (پانی) ۔۔تم کہتے ہو کیا فائدہ؟ بے شک نماز فرض ہے لیکن یہ تو روزوں سے پہلے بھی فرض ہے۔۔ایک بے نمازی کو نصیحت تو سارا سال کرنی چاہیے  لیکن طعنہ  زنی تو رمضان میں بھی نہیں کرنی چاہیے۔۔۔لہذا خدارا کبھی کسی کو مت کہیں کہ تمہارے روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔روزہ اللہ کی ذات کے لیے ہے و ہی اس کا اجر دے گا۔۔وہی فیصلہ کرے گا کہ یہ قبول کرنا ہے یا نہیں۔۔انسان کے پاس اس کی قبولیت کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *