کابینوی تغیرات کے بعد۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

ردوبدل کے بعد عمران خان کی 47 رکنی وفاقی کابینہ میں پندرہ سے سولہ ایسے ارکان ہیں جو عوامی انتخابی عمل کے   ذریعے یہاں نہیں پہنچے۔ جمہوری روایات کی حالت یہ ہے کہ پوری قومی اسمبلی و سینٹ میں کوئی ایسا منتخب قابل بندہ نہیں جو وزارت کی  ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہو۔ مطلب اب ملک وہ لوگ چلائیں گے جنہیں عوام نے چنا ہی نہیں، یہ لوگ عوام کے منتخب کردہ نہیں بلکہ حقیقی آقاؤں کے منتخب کردہ ہیں؟ کہاں ہیں جمہوری روایات؟ مطلب عوام کی معیشت وہ بندہ چلائے گا جو عوام کو جانتا ہی نہیں۔ اسی طرح فردوس عاشق اعوان جس کو الیکشن میں شکست ہوئی تھی وہ اطلاعات کی وزارت سنبھالے گی، کیا یہ حکومت عوامی منشاء کے مطابق ہے؟ کیا واقعی عوامی جمہوری حکومت ہے؟ اسی طرح صحت اور پٹرولیم کی وزارتوں پہ بھی عوامی نمائندوں کی بجائے ٹیکنوکریٹ لگائے گئے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ حفیظ شیخ کے پاس کیا پالیسی ہے؟
کیا حفیظ شیخ نجکاری نہیں کرے گا؟ کیا عمران خان حکومت میں آنے سے قبل نجکاری کے خلاف نہیں تھے؟ کیا نجکاری عوامی تکلیفوں میں اضافے کا سبب نہیں بنے گی؟ کیا نجکاری کے نتیجے میں عوامی سہولیات مہنگی نہیں ہو جائیں گی؟ کیا نجکاری کے بعد اگلے پانچ سال تک بےروزگاری میں اضافہ نہیں ہو گا؟ کیا نجکاری کے نتیجے میں پاکستان میں غربت میں اضافہ نہیں ہو گا؟ کیا نجکاری عوام دشمن پالیسی نہیں ہے؟ کیا پاکستانی اداروں کو جہاں ہزاروں لوگوں کو نجکاری کے بعد روزگار سے نکال باہر کیا جائے گا، اُن کے لیے کیا پلان ترتیب دیا گیا ہے؟ نئے ادارے نئے روزگار پیدا کرتے ہیں، جبکہ پہلے سے موجود اداروں کی فروخت سے کئی ہزار لوگوں کا روزگار ختم ہو جائے گا، کیا بےروزگاری کا طوفان برپا نہ ہو جائے گا؟ کیا عمران خان نے انتخابات سے قبل روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟ وہ خواب کیسے پورا ہو گا؟ آخر عمران خان نے ابھی تک ایسا کوئی پلان بتایا ہے کہ جس کے نتیجے میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہونے والے ہیں؟

کیا حفیظ شیخ مزید مہنگائی کی پالیسی کے حامل نہیں ہیں؟ حفیظ شیخ جس معاشی ماڈل پہ عمل درآمد کریں گے وہاں عوامی فلاحی بجٹ میں کٹوتیاں کرنی پڑیں گی۔ کیا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تمام سکالرشپ اور تمام تعمیراتی کاموں کو تاحکم ثانی روک نہیں دیا گیا۔ کیا ہسپتالوں میں مختلف قسم کی ویکسینیشن غائب نہیں ہے؟ کیا عوام بڑے بڑے سرمایہ داروں اور بڑی بڑی ملٹی نیشنل و نشنل کمپنیوں کے رحم و کرم پہ نہیں چھوڑے جا رہے؟ جو کَسر اسد عمر اپنے فطری “اچھے پن” کی وجہ سے چھوڑ گئے ہیں کیا حفیظ شیخ وہ کَسر پوری نہیں کریں گے؟ جب مشرف دور میں حفیظ شیخ نے نجکاری کی تھی اُس کے نتائج بہتر رہے یا عوام کو ذلیل کرکے امیروں کو فائدہ پہنچتا رہا؟ جب حفیظ شیخ نے پیپلز پارٹی کے دور میں خزانہ کی وزارت سنبھالی تھی انہوں نے پاکستانی معیشت میں کونسے انقلابی اقدامات تھے اور پالیسی تھی جو ثمرآور اور عوام دوست ثابت ہوئی۔ اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کو معیشت کا نام دینے والے بدمعاش پاکستان میں عوام دوست حکومت کا حصہ ہیں۔ میں محکم دعوی کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ حفیظ شیخ کی پالیسیوں کے مندرجہ ذیل نتائج ہوں گے:
1۔ نجکاری در نجکاری
2۔ مہنگائی
3۔ عوامی فلاحی بجٹ میں کٹوتیاں

اچھا اب یہ حکومتی مسخرہ پن ملاحظہ فرمائیں کہ پٹرولیم کی ذمہ داری فواد چوہدری جیسے بندے کے حوالے کر دی گئی ہے؟ سابقین کی پالیسیوں اور تحریک انصاف کی حکومتی پالیسیوں میں کون سا ایسا فرق ہے جو قابل ذکر ہو؟ سابقین کے دور میں جو پٹرولیم کی وزارت میں عوام دوستی نظر آئی تھی اور جو حکومتی سنجیدگی ہے اُس میں کیا فرق ہے؟ فواد چوہدری نے عمران خان کو ایسا کیا بتایا کہ وہ پٹرولیم کی وزارت پہ لگا دئیے گئے ہیں؟ یا عمران خان نے فواد چوہدری کو کن بنیادوں پر پٹرولیم کا ذمہ دار لگایا ہے؟ کیا کوئی بھی عوام دوست یا سیانا بندہ فواد چوہدری جیسے بندے کو پٹرولیم کی ذمہ داری دے گا؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا بیس کروڑ سے زائد لوگوں کے فیصلے ایسی ہی سنجیدگی سے کیے جاتے ہیں؟ فواد چوہدری جس کا سیاست میں کچھ بھی ایسا ہے کہ اُس کو پٹرولیم کی ذمہ داری دی جائے؟ کیا فواد چوہدری پٹرولیم کی بدبخت وزارت کو انقلابی بنیادوں پہ نہیں تو اصلاحاتی بنیادوں پر بھی چلانے کی صلاحیتوں کے حامل ہیں؟

کیا دنیا کے صحتمند سماجوں میں وزارتِ اطلاعات کی ذمہ داری مسلسل بولے جانا اور پروپیگنڈہ کرنا ہے؟ کیا پوری دنیا میں کسی عوامی حکومت کا وفاقی وزیرِ اطلاعات عوامی الیکشن میں ایک شکست خوردہ سیاست دان ہے؟ فردوس عاشق اعوان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ میڈیا کے سامنے اپنی مورال قدرے مستحکم سطح پہ رکھ سکتی ہیں۔ لیکن اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ فواد چوہدری کی نسبت کوئی معتبر بندہ بطور وزیراطلاعات دیکھ پائیں گے تو اُن کا خیال ہینڈسم وزیراعظم نے چکنار چور کر دیا ہے۔ ہاں عمران خان ایک بڑبولے وزیراطلاعات کو برقرار رکھنے میں بہرحال کامیاب رہے ہیں۔ فواد چوہدری کا قصور یہ ہے کہ وہ حکومت کی فرسودہ پالیسیوں کا کامیابی سے دفاع نہیں کر سکے ہیں۔ اچھا اِس معاملے کو دوسری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کیا فردوس عاشق اعوان پاکستان تحریک انصاف کے نظریات اور عمران خان کے وژن کو ویسے ہی پیش کرنے کی “نظریاتی سکت” کی حامل ہیں، کیونکہ اُن کی تحریک سے وابستہ جمعہ جمعہ آٹھ دن پہ محیط ہے۔ کیا فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی سیاسی تاریخ، اُن کی وابستگیاں اور سیاسی انداز واقعی تحریک انصاف کے نظریاتی معیارات پہ پورا اترتی ہے؟ کیا واقعی فردوس عاشق اعوان صاحبہ کسی بھی ممبر قومی اسمبلی یا کسی بھی سینیٹر کی نسبت زیادہ بہتر وزیرِ اطلاعات ہیں؟ کیا تحریک انصاف کی حکومت کے تحت وزارت اطلاعات نواز شریف یا زرداری کے دور حکومت کی نسبت مختلف انداز میں چلائی جائے گی؟ کیا فردوس عاشق اعوان وزارت اطلاعات میں انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے عوامی بےچینی اور ذہریلے عدم استحکام کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گی؟ اگر ہاں تو کن بنیادوں پر؟ فردوس عاشق اعوان کے پاس ایسی کون سی گدڑ سنگھی ہے جو وہ ممبر قومی اسمبلی نہ ہونے کے باوجود عمران خان جیسے مردِ آہن کی مجبوری بن رہی ہے؟ کیا موجودہ حکومتی سیٹ ایپ پارلیمنٹ سے باہر ترتیب نہیں دیاجا رہا؟ کیا فردوس عاشق اعوان کی تقرری یہ ثابت نہیں کرتی کہ عمران خان کے اوپر غیرپارلیمانی قوتیں اثرانداز ہو رہی ہیں؟ کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اپوزیشن والا مردِآہن اپنے سابقین کی مانند آہستہ آہستہ مصلحت پسند ہو رہے ہیں؟ کیا وفاقی کابینہ کی ایسی غیرجمہوری “چھیڑچھاڑ” حکومتی مورال میں اضافے کا سبب بنے گی یا مورال میں کمی واقع ہو گی؟

پاکستان مسلح افواج کے انٹیلی جینس اداروں میں اپنی طویل خدمات سرانجام دینے والے برگیڈیر کو وزارت داخلہ جیسی حساس ترین ذمہ داری پہ لگانے کے اہم ترین نتائج حکومتی و ریاستی بکواس/بدمعاشی/پالیسی/قانون سازی/امور پہ اعتراض/تنقید کرنے والوں کے خلاف کڑا اور موثر کریک ڈاؤن، حکومت و ریاست کے خلاف احتجاج کا بنیادی حق استعمال کرنے والوں کے خلاف موثر کریک ڈاؤن، مزدوروں کسانوں محنت کشوں طلباء عورتوں اقلیتوں کے خلاف حکومتی و ریاستی اور نجی استحصال کو قانونی تحفظ، مذہبی شدت پسندی کا فروغ، مختلف نظریات کے مابین مکالمے کی بجائے شدت کا فروغ وغیرہ حتمی ہیں۔ انٹیلیجنس نیٹ ورک میں اعلی فوجی ذمہ داریاں ادا کرنے والا وزیرداخلہ فاشسٹ ہو گا۔ پوری دنیا کی تاریخ میں فوجی شناخت کے حامل سیاسی وزراء حکومت کی ناکامیوں کے اسباب میں شامل ہوتے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، کارروائیاں، گرفتاریاں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کرپشن، اسمگلنگ اور کالے دھن کو فروغ ملے گا۔ پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کی موجودہ صورتحال اور اعجاز شاہ کی وزارت کی مدت کے خاتمے پہ منشیات کی اسمگلنگ کی صورتحال کا موازنہ آپکی آنکھیں کھول دے گا۔ سٹریٹ کرائم، ڈاکہ ذنی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہو گا۔

سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا خود عمران خان کریں گے جنکو کابینہ میں اجنبی لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ خیر عمران خان کے انقلابی وژن کو موجودہ کابینہ نے بھی بےعزت کرنا ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *