مجھے ترکی پہنچے ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا تھا ۔ تاریخ اور تاریخی عمارات سے مجھے عشق ہے تو استنبول دیکھنا اور وہاں رہنا میرے لیئے ایسا ہی تھا جیسا کسی عاشق کے لیئے اسکے محبوب کا دیدار ۔ وہاں کی سڑکیں ، گلیاں، ساحل، عمارات، دکانیں ، لوگ مساجد غرض دیوانہ دیوانگی کے عالم میں کئی میل بے مقصد چلتا رہتا ۔ موسم اور آب وہوا بھی صاف اور دل کو چھو جانے کی حد تک رومانوی سی تھی۔
ان سب دل افزا چیزوں کے باوجود کچھ باتیں ایسی بھی تھیں جو میرے دل و دماغ میں پوری نہیں اترتیں ، سوالات جنم لیتے۔ جیسے لوگوں کا لباس، جسم پر بنے ٹیٹو، بسوں پارکوں وغیرہ میں بوس و کنار کے مناظر، ہم جنس پرست وغیرہ ۔ گو بہت ہی عالیشان اور صاف ستھری مساجد ہر جگہ ہی موجود تھیں ۔ پانچ وقت نماز اور نمازی بھی تھے ۔ نماز جمہ کے وقت مساجد سے باہر چٹائیاں بچھا کر بھی لوگ نماز پڑھتے لیکن ان سب کے ہوتے دوسری جانب شراب عام فروخت ہوتی ، قحبہ خانے بھی چلتے، نائٹ کلبز بھی موجود تھے ۔ میں ایک جگہ ایک ہی وقت میں آگ اور پانی ساتھ ساتھ دیکھ رہا تھا۔
میں اس سوسائٹی سے تعلق رکھتا تھا جہاں کا دین دار طبقہ ٹی وی اور سائن بورڈز پر بھی عریانی برداشت نہیں کرتا تھا اور ایک یہ معاشرہ تھا جہاں نمازی، روزہ دار، حاجی بھی تھے اور شرابی بھی اور سب ناصرف ایک ہی سوسائٹی میں رہتے بھی تھے بلکہ ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی یا اعتراض بھی نہیں کر رہے تھے۔ یہ سب میرے لیئے حیرت انگیز حد تک اجنبی تھا۔
آخر ایک دن میں نے علی بخش سے دریافت کر ہی لیا ۔ “سائیں! یہاں مدارس، مولوی یا اسلامی جماعتوں کے کارکنان کیوں نظر نہیں آتے” اور اس نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا ” تو اب تک پاکستان سے نکلا ہی نہیں ۔ یہاں مسجد گورنمنٹ کی ملکیت اور مولوی سرکاری ملازم ہوتا ہے۔ جمہ کے خطبہ میں بھی وہ کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔ پھریہ فرقہ بندی اور انتہا پسندی کا جواز ہی نہیں رہتا ” پھر کچھ دیر کے بعد گویا ہوا ۔ “اصل میں ہمیں خود بھی انتہا پسندوں کو پالنے کا شوق ہے۔” مطلب” “مطلب کے چندے اور ڈونیشن کے نام پر ہم ہی ان لوگوں کو فنڈنگ کرتے ہیں” علی بخش گو مذہبی بیزار یا دہریہ نہیں تھا بلکہ پابندی سے نماز بھی ادا کرتا تھا لیکن وہ مذہبی طبقے میں موجود کالی بھیڑوں سے بیزار تھا ۔ “تو علی بخش! ترکی کے لوگ ڈونیشن دیتے بھی ہیں ؟اور اگر دیتے ہیں تو کہاں استعمال ہوتا ہے؟ ” ۔ میں نے سوال کیا۔ “اسکا جواب میں تمہیں زبانی نہیں بلکہ دکھا کر دونگا۔” یہ کہہ کر ہم نے اس دن تو بات ختم کردی۔ میں بھول بھی چکا تھا لیکن علی بخش کو جواب دینا یاد رہا۔
یہ اتوار کی ایک خوشگوار سرد سی صبح تھی ۔ میں نہا کر ناشتہ بنا چکا تھا اور علی بخش کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھا “مینیمے” ترکش آملیٹ( جو میں نے ترکی ہی میں بنانا سیکھاتھا) پنیر، اور زیتون وغیرہ کے ساتھ ناشتہ میں انصاف کر رہا تھا۔ ٹی وی پر “حلیل سیزائی” کا گیت “ینگن وار” آرہا تھا اور علی بخش بتا رہا تھا کہ “حلیل” کس طرح تقسیم کے ایک نائٹ کلب میں گاتے گاتے اسٹار بن گیا ہے ۔ پھر ناشتے ہی کے دوران اس نے کہا کہ آج ہم ایک جگہ چلیں گے جہاں میں تمہیں چندہ اور ڈونیشن کا اصل مصرف دکھاونگا ۔ “لیکن سائیں جگہ کا نام تو بتا دو” ۔ میں نے پوچھا تو اس نے مختصراًًًً کہا “آ بی ہاؤس” ۔
گھر کے قریب واقع استنبول میٹرو بس کے اسٹاپ سے ہمارا سفر شروع ہوا۔ بس کے دونوں اطراف استنبول کی خوبصورتی کسی فلم کی طرح ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا پھر ایک انٹر چینج اسٹیشن سے ہم ٹرین میں سوار ہوئے ۔ اس بار سامنے ایک وسیع لیکن نہایت صاف ستھرا قبرستان تھا ۔ دریافت کرنے پر پتا چلا کہ 1453 میں استنبول کی فتح میں شہید ہوجانے والے عثمانی فوجی یہاں دفن کیئے گئے اور بعد میں بھی وقتاً فوقتاً مختلف ادوار میں یہاں لوگوں کو دفن کیا جاتا رہا تو ایک بہت بڑا قبرستان وجود میں آگیا اور یہ جگہ ہی “شیہت لک” کے نام سے مشہور ہوگئی۔
ٹرین کا سفر جاری تھا ۔ میں سامنے موجود جدید و قدیم قبروں کو دیکھ رہا تھا ۔ قبرستان کی صفائی ستھرائی ، ہریالی ، درخت سب سے محبت اور عقیدت چھلک رہی تھی جو ایک قوم کی اپنے پیاروں اور ہیروز کے لیئے تھی جنہوں نے انکے لیئے اپنی جان کا نذرانہ دیا ۔ مجھے کراچی کی “این سی ایل ” بلڈنگ سے نظر آنے والے “گورا قبرستان” کا وہ حصہ یاد آرہا تھا جہاں مہینوں سے سیوریج کا پانی قبروں کے درمیان کھڑا نظر آتا تھا۔ قبرستان انگریزوں کے زمانے کا تھا ۔ قدیم قبریں جن پر موجود پیتل ، تانبہ وغیرہ نشئی نکال کر لیجا چکے تھے ۔ چلیں مانا کہ وہ شہید نہیں تھے ۔ قبرستان بھی عیسائی مذہب کے ماننے والوں کا تھا ۔ لیکن اتنی عزت تو دینا بنتا تھا کہ کم سے کم گٹر کا پانی وہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔ میں اسی موازنہ اور سوچوں میں گم تھا کہ علی بخش نے نیچے اترنے کا اشارہ کیا ۔ اب ہم سڑک پر تھے ۔
( جاری ہے)
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں