• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • حال یا ماضی؟گھما دینے والی حقیقت۔۔۔شہزاد احمد قریشی

حال یا ماضی؟گھما دینے والی حقیقت۔۔۔شہزاد احمد قریشی

ہم جو چیز ابھی دیکھ رہ رہے وہ حال نہیں بلکہ ماضی ہے
ارے۔۔۔! یہ کیا منطق بگھار رہے ہو؟
یہ منطق نہیں بلکہ سائنسی طور پر سچ ہے۔۔
آپ میری اس تحریر کو اپنے موبائل یا مانیٹر کی سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔۔ درحقیقت وہ دو نینو سیکنڈ پرانی ہے۔۔۔

آپ کے ہاتھ میں گلاس ہے آپ اس سے پانی پی رہے ہیں ، میں اصل میں آپکو نہیں دیکھ رہا بلکہ آپ کے جسم سے منعکس شدہ لائٹ کو اپنی  آنکھوں تک پہنچنے کے بعد دیکھ رہا ہوں۔ آپ کے جسم سے میری آنکھوں تک روشنی کو پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے جو اس صورت میں بالکل معمولی ہے لیکن پھر بھی میں آپ کو 2 نینو سیکنڈ ماضی میں دیکھ رہا ہوں۔ آپ کے جسم سے منعکس شدہ روشنی میری  آنکھوں میں ٹکرانے کے ساتھ ساتھ مسلسل سفر میں ہے (تاوقتیکہ اسے کوئی  بیرونی قوت روک نہ دے)۔

لائٹ کا یہ سپیکٹرم مسلسل سفر میں رہے گا، آپ نے غٹاغٹ پانی پی کر گلاس نیچے رکھ دیا لیکن آپ کے پانی پینے والا وہ منظر یا روشنی خلا میں اب بھی مسلسل سفر کررہی ہے۔ میں نے آپ کو 2 نینو سیکنڈ کے وقفے سے  دیکھا تھا، جب یہ لائٹ چاند پر پہنچے گی تو ہوسکتا ہے کہ آپ نے گلاس نیچے رکھ دیا ہو لیکن وہاں سے دیکھنے والوں کو آپ اس لمحے بھی پانی پیتے ہوئے نظر آرہے ہونگے۔

آپ کے جسم سے منعکس شدہ روشنی اب بھی خلا میں تیررہی ہوگی ۔ تقریبا ًًً ساڑھے بارہ منٹ بعد جب یہ روشنی مریخ پر پہنچے گی تو ممکن ہے اس وقت آپ پانی پی کر گاڑی میں بیٹھ کر سڑک پر نکل چکے ہوں لیکن مریخ سے کوئی  جدید خلائی  مخلوق اب بھی آپکو پانی پیتے ہوئے دیکھ رہی ہوگی۔

یہ روشنی اب بھی خلا میں ہرطرف سفرکررہی ہے اور الفاسنٹوری ستارے کے گرد پہنچ جاتی ہے اس ستارے کے مدار میں کسی سیارے پر کوئی  ترقی یافتہ خلائی  مخلوق کسی ایڈوانس دوربین کا رخ زمین کی طرف کرتی ہے تو اسے اس وقت بھی آپ پانی پیتے ہوئے ہی دکھائی  دیں گے لیکن اس وقت تک آپ زندگی کے ساڑھے چار سال گزار چکے ہونگے۔ ہوسکتا ہے آپ اس وقت اسلام آباد سے امریکہ منتقل ہوچکے ہوں۔

ممکن ہے 70 نوری سال دور کسی سیارے سے کوئی انتہائی ترقی یافتہ مخلوق کسی انتہائی  ایڈوانس اور دیوقامت عدسے والی  دوربین کا رخ زمین کی طرف کرے اور آپ کو فوکس کرے، اگرفوکس کرنے کے بعد آپ کی تصویر کے پکسل واضح ہوئے تو آپ اسے اس وقت بھی پانی پیتے ہوئے دکھائی  دیں گے لیکن حقیقت میں آپ اس وقت زمین کے نیچے دفن ہوچکے ہونگے۔

روشنی کا یہ سفر جاری ہے اور 25 لاکھ سال بعد یہ روشنی انڈرومیڈا گلیکسی کے کسی سیارے پر پہنچ جاتی ہے۔ وہاں سے کوئی  ترقی یافتہ مخلوق زمین کی طرف دیکھنے کی کوشش کرے تو اسے اس وقت بھی زمین چمکتی دمکتی دکھائے گی، لیکن ہوسکتا ہے کہ اس وقت تک زمین پر قیامت برپا ہوچکی ہو اور زمین تباہ و برباد ہوچکی ہو۔

ہمیں رات کو ہزاروں ستارے آسمان پر چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ان میں سے بہت سارے ہزاروں لاکھوں سال پہلے ختم ہوچکے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم تک انکی روشنی اب پہنچ رہی ہوتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *