سطحی علم۔۔۔۔وہارا امباکر

اگر آپ راہ چلتے سو افراد سے پوچھیں کہ “کیا آپ جانتے ہیں کہ ریفریجریٹر کیسے کام کرتا ہے؟” زیادہ تر جواب دیں گے کہ وہ جانتے ہیں۔ لیکن اب اگر ان سے پوچھیں کہ اس کو تفصیل سے سمجھائیں تو آگے سے خاموشی یا ہکلاہٹ سننے کو ملے گی۔ اپنے علم کے اس سراب کو 2002 میں روزن بلِٹ اور فرینک کیل نے علمی گہرائی کے سراب کا نام دیا اور لکھا کہ “زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا کو اس سے کہیں زیادہ تفصیل، گہرائی اور ربط کے ساتھ سمجھتے ہیں جتنا کہ وہ اصل میں سمجھتے ہیں۔”

روزن بلٹ اور کیل نے اس کو کئی مرحلوں سے کی گئی سٹڈی سے واضح کیا۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے شرکاء سے پوچھا کہ وہ سلائی مشین، موبائل فون یا تیر کمان جیسی چیزوں کو کتنا اچھا سمجھتے ہیں، اس پر اپنے آپ کو خود نمبر دیں۔ دوسرے مرحلے میں انہوں نے شرکاء سے تفصیلی وضاحت لکھنے کو کہا کہ وہ بتائیں کہ یہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں۔ تیسرے مرحلے میں انہوں نے شرکاء کو ایک بار ان چیزوں کے بارے میں اپنی سمجھ کو نمبر دینے کو کہا۔ پہلے اور تیسرے مرحلے میں دئے گئے نمبروں میں نمایاں فرق تھا۔ یہ صرف اس طرح کی چیزوں تک محدود نہیں۔ سائنسی شعبہ جات، دماغی عارضوں، اقتصادی منڈیوں اور ہر اس چیز پر یہ اصول اسی طرح لاگو ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ ہم ان کو سمجھتے ہیں۔

آج کی دنیا میں جب معلومات تک رسائی لامحدود ہے، یہ سراب تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ عام طور پر یہ انفارمیشن سطحی طور پر لی جاتی ہے۔ 2014 میں ہونے والے ایک سروے میں معلوم ہوا کہ ساٹھ فیصد اخبار بین خبروں کی صرف سرخی پڑھتے ہیں اور متن نہیں۔ دنیا کے عالمی سیاسی معاملات، خواہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی خانہ جنگی ہو یا موسمیاتی تبدیلی، ان کے بارے میں معلومات اور تجزیے کا سورس مختصر ٹویٹ، وائرل ہونے والی ویڈیو، فیس بک پر بنائے گئے کارٹون، ان کی اپنی “مطلب کی وضاحت” کر دینے والی ویب سائیٹ یا پھر کامیڈی شو بن جاتے ہیں۔ معلومات اس شور میں دفن ہو جاتی ہے۔ جہاں ہمٰیں گمان ہے کہ بہت ساری چیزوں کا “پتا” ہے، وہاں پر بس ان کے بارے میں ہمارا پتا ہونا اپنی پسند کی ہیڈلائن تک محدود ہے۔

علمی سطحیت کو سمجھنا انتہاپسندی سے مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔ 2013 میں فلپ فرن باخ کی سٹڈی نے بتایا کہ لوگ سیاسی اور سماجی معاملات میں بھی اپنی پوزیشن اسی طریقے سے لیتے ہیں۔ اس پر بھی تین مراحل سے سٹڈی کی گئی۔ اہم سیاسی معاملات پر لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ کسی ایشو کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور اس بارے میں کس قدر علم رکھتے ہیں اور اپنی کاز کی خاطر کتنا چندہ دینے کو تیار ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان سے اپنی رائے رکھنے کی تفصیلی وجہ لکھنے کو کہا گیا اور تیسرے مرحلے میں پھر پوچھا گیا کہ وہ اس ایشو کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں، اس بارے میں کس قدر علم رکھتے ہیں اور کتنا چندہ دینے کو تیار ہیں۔ فرق واضح تھا۔ نہ صرف اکثر لوگوں نے اعتراف کیا کہ وہ اتنا نہیں جانتے بلکہ ان کی رائے کی شدت میں بھی کمی آ گئی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے اپنی کاز کے لئے دی جانے والی مالی امداد کا عدد بھی خاصا کم کر دیا تھا۔ اپنی علمی سطحیت کا ادراک گرما گرم جھگڑوں کی شدت میں کمی کر سکتا ہے۔

علمی گہرائی کے سراب کو جاننا ہمیں اس انکساری پر مجبور کرتا ہے جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ کسی بھی شعبے میں جاہل اپنے علم کے بارے میں سب سے زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں۔ کروگر اور ڈننگ اس سے پہلے دکھا چکے ہیں کہ منطقی استدلال، حسِ مزاح اور گرائمر کے علم سے عاری افراد اپنے علم کے بارے میں سب سے زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں۔ جب کسی ٹاپک کے بارے میں معلومات بڑھتی ہے، تب ہی لوگ اس کی پیچیدگی کا ادراک کرتے ہیں اور اپنے علم کے بارے میں اعتماد میں کمی ہوتی ہے۔ کسی چیز کی تفصیلی وضاحت کرنے کا بوجھ ہمیں اس پیچیدگی اور اپنی لاعلمی کو پہچاننے کا ایک موقع دیتا ہے۔

اس وقت جب سیاسی اور نظریاتی تفریق، شہری اور دیہی آبادی کی تفریق، وغیرہ کی شدت میں اضافہ ہمیں توڑ کر گروہوں میں تقسیم کر رہا ہے۔ اپنی لاعلمی کو پہنچاننا ان معاملات میں منقسیم لوگوں کو قریب لانے کا ایک پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

ہمیں اپنی علمی سطحیت کا احساس کسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کیوں آسانی سے ہو جاتا ہے جبکہ لمبے مباحثوں میں یہ احساس کبھی نہیں ہوتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بحث سیکھنے کے لئے نہیں بلکہ جیتنے کے لئے کرتے ہیں۔

تو پھر کیا آپ کو بائیسیکل بنانا آتی ہے؟ یہ سوال چھ سال تک جمینی مختلف لوگوں سے کرتے رہے اور اس پر اعتماد سے “ہاں” کہنے والوں کی ڈرائنگ ویسے تھیں جیسے ساتھ لگی تصویر اور اگر آپ اس کو دیکھ کر ہنس رہے ہیں تو کیا آپ اس تصویر میں کمزوری ڈھونڈ سکتے ہیں؟ ان تصویروں میں اصل مسئلہ آرٹ ورک کی خوبصورتی کا نہیں بلکہ اس کا ہے کہ بنانے والے کو علم نہیں کہ سائیکل آخر ہے کہ اور بنتی کیسے ہے۔ (اس کے لئے نیچے دیا گیا آخری لنک کو پڑھ لیں۔)

روزن بلٹ کا اس پر کہنا ہے کہ
People feel they understand complex phenomena with far greater precision, coherence, and depth than they really do; they are subject to an illusion — an illusion of explanatory depth

یہ خیالات ایڈم ویٹز کے ہیں، ان کے دوسرے اچھے آرٹیکل دیکھنے کے لئے یہاں سے
http://adamwaytz.com/journal-articles

روزن بلِٹ کے تجربے پر
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC3062901/

سائیکلوں کی تصویروں پر
http://www.gianlucagimini.it/prototypes/velocipedia.html

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *