نقطہء ارشمیدس اور فلسفے کا مخمصہ۔۔قیصر شہزاد

ارشمیدس نے کہا تھا کہ اگر اسے زمین سے باہر کھڑے ہونے کی جگہ اور ایک بڑی سلاخ {لیور} مل جائے تو وہ زمین کو اٹھا سکتا ہے۔ عقلمند آدمی تھا جسے یہ ادراک تھا کہ زمین کو اٹھانے کے لیے اس سے باہر کسی مقام پر جانے کی ضرورت ہے۔ بیشتر فلسفیوں خصوصا پرانے اور نئے {یونانی اور پوسٹ ماڈرن} سوفسطائیوں کی فکر کی بنیادی خرابی یہ رہی ہے کہ آپ زمین کو اٹھالینے کا دعوی کرتے تو ہیں لیکن اسی زمین پر کھڑے ہوکر۔ آپ کہتے ہیں “انسان ہر چیز کا پیمانہ ہے” لیکن جب پوچھا جاتا ہے کہ کہ آپ کے اس دعوے کی صداقت کا پیمانہ بھی انسان ہی ہے تو آپ کو بغلیں جھانکنا پڑتی ہیں۔ آپ کہتے ہیں ریاضی، مذہب ، فلسفہ آرٹ سمیت سب کچھ دبا دی گئی ناآسودہ جنسی خواہشات کی تکمیل کی پیدا وار ہے لیکن خود آپ کی یہ دریافت کس ارشمیدسی مقام پر کھڑے ہوکر کی گئی کہ آپ کی اپنی دبی ہوئی جنسی خواہشات کا نتیجہ نہیں۔آپ بتاتے ہیں کہ نظریہ وظریہ سب بکواس ہے اصل عامل حقیقی دنیا میں پائے جانے والی پیداوار کی مادی طاقتیں ہوتیں ہیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ آپ کا یہ ارشاد نظریہ ہے آپ کہتے ہیں بامعنی کلام صرف وہی ہے جو یا تو ریاضی کی زبان میں ہو یا طبعی علوم کی لیکن آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ نہ ریاضی ہے نہ یکے از طبعی علوم، آپ کہتے ہیں تعبیر{انٹرپریشن} کے سوا کچھ نہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ آپ کی یہ دریافت کس چیز کی انٹرپریٹیشن ہے اور کیسے؟ آپ کہتے ہیں کہ کلی صداقت کچھ نہیں ہوتی ہر نظریہ اور موقف کسی خاص معاشرے اور زمانے کی پیداوار ہوتا ہے اور اسے ہرجگہ نہیں منطبق نہیں کیا جاسکتا لیکن پھر خود اس بات کوآپ ہر معاشرے پر ٹھونسے ہیں۔آپ کا ارشاد ہوتا ہے کہ اشیاء و تصورات کی مخالف قطبوں میں صف بندی{درست، غلط/فعال، منفعل/خدا ، کائنات/ مذکر ، مونث وغیرہ} پر مبنی سوچ ہر طرح کے استحصال اور ظلم کی بنیاد ہے، لیکن آپ کی توجہ اس طرف نہیں جاتی کہ قطبیت پر مبنی اور اس سے پاک سوچ کی قطبیت پر کھڑے ہوکر آپ یہ نعرہ بازی کررہے ہیں۔
تاریخ فکر کے بیشتر اور خصوصا جدید دور کے اس آسیب سے بچ تو شاید کم ہی لوگ سکے لیکن بہر حال {اپنی معلومات کی حد تک } اس کے وجود کا ادراک کرنے والے صرف تین لوگ { نطشے، وٹگنشٹائین اور ہائیڈیگر} رہے ہیں اور یہ تین بھی کیا رہے ہیں۔ “آوارہ گرد اور اس کا سایہ” میں نطشے نے مشہور ارتیابی فلسفی پِرہو اور کسی بوڑھے کے درمیان ایک خیالی مکالمہ بیان کیا ہے۔ پِرہو کہتا ہے، ‘میں لوگوں کوخود سے بھی منتبہ کرنا چاہتا ہوں، میں انہیں سکھانا چاہتا ہوں کہ ہرشے اور ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھیں’۔جب یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بہرحال وہ ہر چیز کے مشکوک ہونے کی صداقت کا تو کٹر پن کے ساتھ دعوی کررہا ہے تو وہ جواب دیتا ہے: “تم ٹھیک کہہ رہے ہو، میں تمام باتوں کو مشکوک قراردیتا ہوں” اس پر بوڑھا کہتا ہے : “پھر تمہارے پاس خاموشی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا ” مکالمے کے اختتام کے قریب بوڑھا دریافت کرتا ہے ،”کیا ہم ایک دوسرے کی بات پوری طرح سمجھ رہے ہیں؟ ” اس پر پِرہو ہنس پڑتا ہے ۔ بوڑھا کہتا ہے: “کیا اب تمہارے فلسفے میں خاموشی اور ہنسی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا؟”پرہو جواب دیتا ہے: “میں اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتا۔” اسی لیے تعبیریاتِ شک{ہرمینوئٹکس آف سسپیشن} کا باوا آدم ،نطشے اپنی تحریروں کے حوالے سے ہمیں نصیحت کرتا ہے: “جو ان پر ہنس نہیں سکتا اسے انہیں پڑھنا ہی نہیں چاہیے۔” {حوالہ : کارل یاسپرز} ۔ ٹریکٹیٹس میں وٹگنشٹائن کا کہنا یہ تھا کہ چونکہ زبان صرف قابلِ ادراکِ حسی حقائق کے بیان کے لیے بامعنی طور پر استعمال کی جاسکتی ہے اور چونکہ اسی کتاب میں زبان کا استعمال اس مقصد کے لیے نہیں ہوا بلکہ زبان کو اپنے بارے میں بات کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اس لیے “میرے {پیش کردہ} قضیوں کو سمجھ لینے اور ان سے اوپر پہنچنے کےلیے انہیں سیڑھی کے طور پر انہیں استعمال کرلینے والا شخص بالاخر جان لے گا کہ یہ قضیے لایعنی ہیں۔ اس لیے سیڑھی پر چڑھنے کے بعد اسے پھینک دینا چاہیے۔” {قضیہ چھ اعشاریہ چَوَّن}۔ اپنے آخری دور کے فلسفے میں اس نے سیڑھی کے ساتھ اس نصیحت کی پوٹلی بھی پھینک دی ۔ ہائیڈیگر نے زیادہ جوانمردی کا ثبوت دیا:اپنے فلسفہ ء تعبیر کے ضمن میں وہ بھی اسی مسئلے سے دوچار ہوا۔ اس کی تعلیم یہ تھی کہ چونکہ موجودِ انسانی {ڈا زائن} نے اپنے وجود کی غلط سلط تعبیرات کا جالا اپنے گرد بُن رکھا ہوتا ہے اس لیے لازما ہر تفسیر و تعبیر کو تخریبی ہونا چاہیے۔ لیکن اگر کسی پیش کردہ تعبیر کے تخریبی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ، غیر تخریبی یا معروضی تعبیریات کے نقطہء ارشمیدس کی عدم موجودگی میں کیسے کیا جائے گا؟ اس مسئلے کے وجود کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے ہی ہائیڈیگر نے تعبیریاتی دائرے {ہرمینوئٹک سرکل } کا مشہور تصور پیش کیا تھا ۔سلیس زبان میں :”ٹھیک ہے کہ میرے نتائجِ فکر خود میرے قائم کردہ اصول کی زد میں آتے ہیں لیکن یہ مسئلہ میرا ہی نہیں اس دائرے میں پھنسے رہنا بذاتِ خود فکرِ انسانی کا خاصہ ہے آپ اس چکر میں پھنسے بغیر سوچ ہی نہیں سکتے۔ تو سوچنے کی بات یہ نہیں کہ اس میں پھنسنے سے کیسے بچا جائے بلکہ یہ ہے کہ اس میں پھنسنے کا درست طریقہ کیا ہے۔

نوٹ:یہ تحریر قیصر شہزاد صاحب کی فیس بک وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی کی گئی ہے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *