اپنا موزہ خود ڈھونڈو۔۔۔عارف انیس

ارے بھئی نہیں، اگر اپنا موزہ مجھے خود ڈھونڈنا پڑا اور اپنا کھانا خود گرم کرنا پڑا، تو اپنے بارے میں تو مجھے یقین ہے کہ وہ کھانا ریفریجریٹر میں ہی گل سڑ جائے گا اور موزہ، میں جب تک پہن لوں گا، جب تک وہ لیرولیر نہیں ہو جائے گا، بدبو آئے گی تو سپرے ماردوں گا، مگر مجھ سے نہ موزہ ڈھونڈا جائے گا، نہ کھانا گرم ہوگا. یہ میرا استحقاق نہیں، میری ڈس ایبلٹی ہے، جس پر مجھے ہرگز کوئی فخر نہیں ہے.

اپنا بچپن وادی سون کے ایک روایتی گھرانے میں گزرا. اللہ بخشے صوبیدار مرحوم صاحب بہت جبر جنگ آدمی تھے، مگر اماں نے رج کے بگاڑا، اور جو کثر بچ گئی وہ اہلیہ نے پوری کردی. بچپن میں ہرگز پتہ نہ چلا کہ کھانے کے برتن رکھنے، انہیں اٹھانے اور انہیں دھونے کی زمہ داری میری بھی ہوسکتی ہے. شاید یہ آرکی ٹائپ کی چپ تھی جو خود بخود کام کرتی تھی. اس لیے نہیں کہ میں مرد تھا یہ کوئی افضل بات ہرگز نہیں تھی. سچی بات تو یہ ہے کہ اب محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے گھروں میں اکثر لڑکوں کی تربیت میں سب سے بڑی یہی کجی یہی رہ جاتی ہے کہ وہ اپنا بستر خود سمیٹنے سے لے کر اپنے آپ کو سنبھالنے تک کے اکثر کاموں میں مہارت حاصل کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں.

شادی ہوئی تو انہی دنوں میں سول سروس کی لیلیٰ سے رازونیاز شروع ہوگئے. ایک وقت ایسا آیا کہ گھر پر ڈرائیور، مالی، خانساماں، اور کام کرنے والی ماسیوں کا ہجوم جمع ہوگیا. بہت بے برکتی کا دور تھا، دن رات طرح طرح کے لوگوں سے ملاقات ہوتی اور سب دوستیاں اور ناطے کسی نہ کسی غرض کے گرد بندھے ہوتے. اس دور میں اپنے خاندان سے بھی دور دور سے ملاقات ہوتی کہ ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ قربت کا نشان تک تھا. انگلی ہلاؤ تو چیز حاظر. لگتا تھا سب اپنی دسترس میں ہے. اپنے پاکستان میں جو لوگ اس بلبلے میں رہتے ہیں، ان کو ویسے بھی محروم طبقے کی پستی ہوئی زندگی کی سمجھ نہیں آسکتی. ہمارے لاکھوں گھروں میں جہاں رب کا فضل زیادہ ہے وہاں گھر کے کاموں کو آؤٹ سورس کردیا گیا ہے. صفائی، دھلائی اور کھانا پکانے کی زمہ داری کام کرنے والوں پر ڈال دی جاتی ہے اور بیگم صاحبہ صرف ان کو سنبھالنے، میک اپ کی مشقت اور خاندان بھر کی چغلیوں سے ہی نڈھال ہوئی رہتی ہیں.

جب اکیلے ولایت آیا تو پہلی مرتبہ ہجوم سے باہر اپنے آپ سے اور اپنے رشتوں سے ملنے کا وقت ملا. پہلے سال فیملی کے بغیر ٹھہرا تو معلوم ہوا کہ کسی کام کا نہیں ہوں. یونیورسٹی کے دنوں میں سہیلیوں کو پتہ چلتا کہ انڈا فرائی کرنے کے علاوہ کسی جوگا نہیں ، تو وہ چچ چچ کرتے ہوئے کہتیں. ‘سو یوزلیس. سو سپائیلڈ’. تب بعض اوقات جان کے لالے پڑگئے کہ کئی دن بغیر کھائے گزار دیے، یا پھر بازار سے چلتے پھرتے کچھ پکڑ لیا. سال بعد ہی جب فیملی آگئی تو سب شانت ہوگیا. لندن میں مکئی کی روٹیاں، آلو کے پراٹھے، نہاری، ہریسہ بننے لگا، موزے دھلے ہوئے ملنے لگے، کراری روٹیاں توے پر لگنے لگیں اور بگاڑ کے دوسرے دور کا آغاز ہوا. ہاں یہ البتہ یاد ہے کہ یہ کچھ کبھی ڈیمانڈ نہیں کیا گیا، کبھی تقسیم نہیں ہوا کہ یہ تیرا کام ہے، تجھے کرنا ہوگا.

ابھی تک تو سمجھ یہی آئی کہ عورت اور مرد کا اصل جھگڑا طاقت کا جھگڑا ہے اور اس کی تان پیسے پر آکر ٹوٹتی ہے. مرد، عورت کا خرچہ اٹھا کر اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے. کتابیات کو چھوڑ کر میرا تو یہی مشاہدہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک خودمختار عورت کو تسلیم کرنے میں ابھی بہت سال باقی ہیں. ہم شاید اسے ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں تو قبول کر لیں، مگر کسی رشتے کے بغیر اسے قبول نہیں کیا جاتا. اور تو اور اپنے معاشرے کی کامیاب ترین خواتین فاطمہ جناح، رعنا لیاقت خان، بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسف زئی، شیری رحمان کے بارے میں پھیلی ہوئی کہانیاں ہی سن لیں. میں نے کھلے منہ کے ساتھ پاکستان کی سب سے طاقتور خاتون بے نظیر بھٹو پر تشدد کے واقعات کے بارے میں سنا تھا. کیا کریں ہمارے ہاں اکثر افراد کے خیال میں آدم کو جنت سے نکلوانے سے لے کر دنیا کے اکثر حادثات کی دمیں عورت کے ساتھ ہی بندھی ہوئی ہیں.

آج کراچی میں آنٹی مارچ کے خلاف غلغلہ برپا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں عورت مظلوم ہے. اس کا وجود آج بھی آدھا تصور کیا جاتا ہے. نوے فیصد گھروں میں اے وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا. تعلیم سے لے کر پروفیشن تک، ہرجگہ اس کا استحصال کیا جاتا ہے. گھر سے باہر نکلے تو چاہے اس نے نیکر پہنی ہو یا ٹوپی والا برقہ، دنیا کے سب سے بڑے تاڑو ملک میں دست درازیاں، سیٹیاں، گھسے اور چونڈیاں اس کا مقدر ہوتی ہیں. میں نے ارب پتی گھرانوں کی آکسفورڈ سے پڑھی لکھی، ڈپٹی کمشنروں اور ایس پی کی بیویوں کے جسموں پر بھی نیل دیکھے ہیں. تاہم ان سارے مظالم کا جواب وہ بینر نہیں ہیں جو کراچی میں لہرائے گئے. عورت کا مرد سے مقابلہ ہے ہی نہیں. وہ پہلے ہی مرد سے بہت آگے کی مخلوق ہے. یہاں بانو قدسیہ یاد آئیں. کہتی تھیں، عمراں لنگھیاں پباں بھار، کہ صرف عورت ہی نہیں، غریب مرد کی زندگی بھی پباں بھار گزرتی ہے، یہ عورت مرد سے زیادہ اقتصادیات کا مسئلہ ہے. جہاں پیسہ مرد کے ہاتھ میں ہے، وہاں غلط صحیح کا فیصلہ وہی کررہا ہے. بدقسمتی سے عورت کے زمے جو کام لگائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر نان پیڈ ہیں؛ ور مرد صرف کمائی کا سہارا لے کر اس پر سبقت نہیں لے سکتا.

آج سے کچھ سال پہلے جب فیملی پاکستان سے لندن پہنچی تو معلوم ہوا کہ ماہرین نفسیات کی خوب چاندی ہے. اہلیہ نے مزید سپیشلائزیشن کرلی تو جابز کی بوچھاڑ ہوگئی، تاہم عظمیٰ نے فیصلہ کیا کہ بچے جب تک او لیول میں نہیں پہنچ جاتے، وہ ساری توجہ انہی کو دے گی. سو اب چھ، سات سال سے انہی کی شامت ہے. عظمیٰ کا دن چھے بجے سے رات بارہ بجے پر محیط ہے. بچوں کو چھوڑنا، لینا، ٹیوٹر کے پاس جانا، غیر نصابی سرگرمیاں، گراسری کرنا، سب کی والی وارث وہی ہے. ہم سب کو توے سے اتری روئی ملتی ہے. گھر شیشے کی طرح چمکتا ہے. لندن میں یہ سارے کام اگر پاؤنڈ سے سنبھالنے کی کوشش کریں، تو چھ سات ہزار پاؤنڈز کا مہینے خرچہ ہے، جو یہ بی بی اکیلے کیے جاتی ہے. کئی بار سوچتا ہوں تو لگتا ہے ماں کے بعد زندگی میں سب سے زیادہ احسان مجھ پر اس بی بی کے ہیں، جس نے شہزادیوں والی زندگی چھوڑ کر ایک خانہ بدوش کے ساتھ غریب الوطنی والی مشقت پر سمجھوتہ کرلیا اور آف تک نہیں کی. میرا کمانا، میرے خاندان کی زندگی میں صرف %20 اہم ہے، باقی زندگی کے سارے تاروپود اس بی بی کے ہاتھ سے نکلتے ہیں، مگر یہ میرے گھر کی نہیں، ہمارے کروڑوں گھروں کی بات ہے. یہ ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور سب بیویوں کا ہمارے اوپر احسان ہے، جس کا بدلہ ہم دونوں جہان کما کر بھی نہیں اتار سکتے. ہاں، یہ اپنا کھانا گرم کرنے، اپنے کپڑے استری کرنے اور اپنا موزہ خود ڈھونڈنے سے بہت آگے کی بات ہے.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *