خاموش پیغام

شام کے علاقے ادلب میں مبینہ طور پربشارالاسد کی جانب سے کیمیائی حملہ ہونے کے بعد امریکہ ہاک کروز میزائلز سے شامی ائیر بیس کو نشانہ بناتا ہے اور اس حملہ میں لگ بھگ ساٹھ کے قریب ہاک کروز میزائلز داغے جاتے ہیں جو ائیر بیس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔ قبل از حملہ روسی فوجیوں کو جو اس بیس پر تعینات تھے امریکہ کی جانب سے بتا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے روسی فوجی وہ بیس چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے بیلسٹک میزائل اور کروز میزائلز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

بیلسٹک میزائلز آواز سےبھی تیز رفتار رکھتے ہیں اور وسیع پیمانے پر دشمن کے علاقہ میں تباہی پھیلاتے ہیں جبکہ اس کی نسبت کروز میزائل آواز کی رفتار سے کم سفر کرتےہیں اور یہ بیلسٹک میزائلز سے کم نقصان پہنچاتے ہیں۔ عموماً یہ مزائلز ایک مخصوص ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ امریکن ہاک کروز میزائلز کمپیوٹر گائیڈڈ ہوتے ہیں اور اپنے حدف کا درست نشانہ بنانےکی صلاحیت کے حامل بھی ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ میزائل اٹیک کیوں کیا گیا اور وہ بھی اس وقت کہ جب شام میں خانہ جنگی روکنے کے سلسلہ میں امن معاہدے کی بات کی جارہی ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی کی بات ہے کہ امریکہ بشارالاسد کو ہٹانے کے سابقہ موقف سے کچھ پیچھے ہٹا ہے اور بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی تھیں تو دوسری طرف داعش بھی کافی حد تک پسپا ہو چکی ہے۔ ساتھ میں شامی باغیوں کو بھی کافی حد تک دیوار سے لگایا جا چکا ہے۔اس سارے منظر نامہ میں یکایک کیمیائی حملہ کی اطلاعات آتی ہیں جس میں سینکڑوں معصوم لقمہ اجل بن جاتے ہیں، ایسے سینکڑوں معصوم دوسرے دسیوں بم دھماکوں اور بمباری میں بھی شہید ہوتے ہیں مگر کیمیائی حملہ سے ہونے والے جانی نقصان پر امریکہ کا ایسا ری ایکشن کیوں؟؟؟

اس ضمن میں سوشل میڈیا پر عجیب و غریب قسم کے مو قف اور توجیہات پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ اسد کے مخالف ان کروز حملوں کو نہ صرف درست قرار دے رہے ہیں ساتھ میں ساری صورتحال کا اسد کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں تو اسد کے حامی کیمیائی مواد کی تلفی اور منتقلی سے لے کر اس کے اقدام کو اسد کا پاکستان پر احسان عظیم قرار دے رہے ہیں کہ اسد کے اس اقدام سے جو کیمیائی ہتھیار افغانستان منتقل ہونا تھے انہیں تلف کرنے کے چکر میں یہ سب ہوا۔ یہ کوئی ان سے پوچھے کہ جیٹ طیاروں کی بمباری سے کیمیائی مواد تلف کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے؟

دراصل کیمیائی حملہ کے بین الاقوامی میڈیا میں رپورٹ ہونے کے اثرات تباہ کن تھے، ایسے میں بین الاقوامی طاقتوں کی نام نہاد انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کی نام نہاد ساکھ پر انگلی اٹھنا شروع ہو گئی اور امریکہ کا یہ ٹارگٹڈ اٹیک بھی اسی نام نہاد ساکھ کو سیف کرنے کی کوشش کے ساتھ ایک خاموش پیغام لیے ہوئے ہے کہ مسلمانو آپس میں ایک دوسرے کو بم سے اڑا دو، خود کش حملے کرو، جیٹ طیاروں سے بمباریاں کرو، اس سے ہمیں کوئی خاص مسئلہ نہیں، مگر تمہارے اس کیمیائی حملے سے جو ہماری ساکھ خراب ہو رہی ہے یہ کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں۔

ہم نے جو اقوام متحدہ کا کھڑاک پال رکھا ہے جس کے ذریعے ہم اقوام عالم کو اپنے جال میں پھنسائے ہوئے ہیں اگر اس پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئیں تو ہماری بالا دستی کا جواز مٹی میں مل جائے گا۔ اب روس اپنے بحری بیڑے کو بحیرہ روم کی جانب بھیج رہا ہے، سلامتی کونسل کا اگلا اجلاس ہو گا، مذمتیں ہوں گی،قراردادیں ہوں گی اور پھر وہی پرانا حال کہ مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی مسلمان،معصوم لوگ اس کے بعد بھی مریں گے بس فرق اتنا پڑے گا کہ کیمیائی حملہ سے نہیں مریں گے کیونکہ امریکہ جو پیغام پہنچانا چاہتا تھا پہنچا چکا ہے۔

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *