عورت مارچ،اپنے گریبان میں جھانک لیجئے۔۔۔۔۔۔۔اسماء گلفام

عین چلتی لڑائی میں کُود پڑنا ہماری بچپن کی عادت ہے بعض اوقات لڑنے والی دونوں پارٹیاں موقع واردات سے غائب ہو جاتیں اور دونوں اطراف کے حامیوں سے مقابلے کے لئے ہم اکیلے ہی دستیاب ہو تےبعد میں دونوں پارٹیوں کی آپس میں صلح صفائی اور ہم سے ناراضگی چلتی رہتی تو واقعات و حالات نے ہمیں بھی دُنیا داری سِکھا ہی دی کہ چلتی لڑائی میں ناک گُھسانے سے گریز ہی کرنا چاہئے بلکہ عین وقت پر اِدھر اُدھر کِھسک جانا چاہئے کہ اس سے جان اور عزت دونوں ہی محفوظ رہتے ہیں پر انسان اپنے جذبات پر جتنا بھی قابو پالے بُری عادتیں جاتے جاتے ہی جاتی ہیں ۔آخر خطا کا پُتلا ہی ہے ناں تو عورت مارچ کو لے کر دونوں فریقین کی جانب سے جب گولا باری عروج پر ہے ہم نے اپنے آپ کو بڑا بہلانے کی کوشش کی کہ اے بندہ خُدا اِن دونوں پارٹیوں میں ثالثی نہ تمھارے بس کی بات ہے نہ ہی دائرہ اختیار میں اچھا خاصا منور جن ہو رہا ہے ابھی نندن کو واپس بھیج دینے کے بعد ویسے بھی ماحول پہ بڑی اُداسی اور ٹھنڈ سی چھائی ہوئی تھی تو ماحول کی حدّت کو ذرا انجوائے کرنا چاہئے لیکن یہ بھی ہماری مجبوری ہے کہ جس کام سے ہمارا دِل اور دماغ ہمیں شدّت سے منع کر رہے ہو ں وہ ہم سےاکثر ہو ہی جایا کر تا ہے، ویسے بھی اتنے اہم سماجی اور معاشرتی مسئلے پرچُپ سادھے بیٹھے رہنا بھی کوئی شرافت کی علامت نہیں کل کو قیامت کو کیا منہ دِکھانا ہے کہ جب آپ کی ہم جنس غور سے پڑھیں میں نے آگے پرست ہر گز نہیں لکھا عورتیں محاذ پر مزید گالیاں کھانے کا بندوبست کر چُکی ہیں تو آپ نےاپنی ہی نماز کی نیّت باندھ لی اور سماج کی بھلائی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا (یہ اور بات ہے کہ ہم سے کبھی کسی بھلائی توقع کم ہی رکھی جاتی ہے)تو یہ سوچتے ہوئے کہ ہمیں بھی اس معاملے پر کچھ روشنی ڈالنی چاہئیے حالانکہ ہماری ذاتی بتی اکثرگُل ہی رہتی ہے۔۔۔

تُو مدّعے کی طرف آتے ہیں کہ مارچ میں عورت مارچ ورنہ ہمیں ابھی تک مارچ کا یہی پتہ ہے کہ اس میں کچھ لوگوں کی سالگرہ ہوتی ہے تو یہ کیسا مارچ بر پا کر دِیا ان خواتین نے کہ پورا معاشرتی سماجی اور اسلامی نظام خطرے میں گِھر گیا اسلام بھی وہ عرب سے لے کر ہند تک جس کا نفاذ ہم سے آج تک نہ ہو سکا ویسے میں نے غلطی سے خواتین لِکھ دِیا ہے لفظ ہے لنڈے کی لبرل طلاق یافتہ آنٹیاں جیسے سب کی طلاقوں پر ان لوگوں کی ہی گواہیاں ڈالی گئیں ہیں جن کو پکا یقین ہے کہ یہ سب مستندطلاق یافتہ خواتین ہیں ۔۔۔ٹھہرئیے ذرا یہ دانت مت نکوسیے (کیونکہ میں دند وی پَن دیندی آں )نہ تو میں لبرل ہوں الحمدللّٰہ شادی شدہ ہوں اور نہ اس طرح کے کسی مارچ کی حمایتی ہوں اور نہ ہی عورت کے عزت رتبے وقار پر لیکچر دینے کا کوئی ارادہ رکھتی ہوں اور نہ ہی عورتوں کو درپیش مسائل حل کروانے میں دلچسپی رکھتی ہوں کیونکہ مسائل تو مَردوں کے بھی ابھی تک حل نہیں ہو پائے میں تو بس لوگوں کے تلملانے پر حیران ہوں یہ جو طلاق یافتہ کھُسرا نما خواتین اتنے بیہودہ پلے کارڈز اُٹھا کر نسوانیت کی توہین کی مرتکب ہوئی ہیں یہ آسمان سے ٹپکی ہیں یا زمین سے اُگی ہیں اُن پلے کارڈز پر جو ننگے نعرے درج ہیں یا جو غلیظ زبان استعمال کر رہی ہیں یہ کہیں سُنی سُنی تونہیں لگ رہی یہ جو مان بہن ایک کرنے پر تُلی ہے یہ کوئی اور تو ماں بہن ایک نہیں کرتا رہا آج تک۔۔۔

ابھی کچھ لوگ ناک چڑھا کر بولیں آپ شائد اس ماحول میں پلی بڑھی ہیں یا آپ کے ارد گِرد ایسے ہی لوگ رہتے ہیں جو یہ زبان استعمال کرتے ہوں گے تو میرا جواب ہے ہاں میں پاکستان میں ہی رہتی ہوں تو جناب آپ کچھ غلط سمجھ رہے ہیں یہ غلیظ زبان جو یہ خواتین اپنے بارے میں استعمال کر رہی ہیں تو یہ وہی ارشادات نہیں ہیں جو آج تک آپ ان کی شان میں بیان فرماتے رہےہیں حتٰی کے مسجد کے منبر پر بیٹھ کر بھی زبان پِھسل ہی جاتی ہے یہ جو حشر برپا ہے یہ جو آپ کو قیامت کے منظر نامے در پر دستک دیتے سُنائی دے رہے تو اس کے تخلیق کار کہیں آپ ہی تو نہیں یہ کپڑوں سے چھلکتے جسم اور کُھلے گریبان وہی تو نہیں جن کو آپ کے ہاتھ بغیر عُمر کا تعین کیے ٹٹولنا چاہتےہیں اور ٹٹولتے آئے ہیں جن چیزوں کو راتوں کے اندھیروں اور بند کمروں میں آپ خاموشی سے کرنے کے حامی ہیں وہ دِن کی روشنی میں کِس قدر کریہہ اور غلیظ دکھائی دیتی ہیں یہ تو آپ کی خواہشات کی مجسم صورت سامنے آرہی ہے کہ ٹھہرو کہاں تک چلو گے ہم آپ کے ساتھ ہی چلتے ہیں یہ وہی لباس ہیں جن کو آپ اپنی نظروں سے تار تار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں یہ مغربی کلچر جس کے فروغ سے آپ اس قدر پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں  اسی کے تو آپ دِلداہ ہیں تو عورتیں کبھی بھی نہیں بگڑ سکتیں تھیں یہ تو آپ کی صدیوں کی محنت رنگ لائی ہے آپ جو کچھ خاموشی سے چُپکےچُپکے اتنے عرصے سے کرتے آئےہیں اور اسی خاموشی سے جاری رکھنا چاہتے ہیں جن عورتوں کو صدیوں پہلے طوائف بد چلن بدکار آوارہ کا اعزازی لقب دِیا گیا تھا اُس کو انھوں نے قبول کر لیا ہے اور یہ جو سانجھی رشتے داری تھی اس کا سرِ عام اعلان کردیا ہے تاکہ فاعل اور مفعول دونوں کا دیدار ِ عام ہو سکے تو حیرت کے سمندر سے ذرا نکلیں آپ کے بخشے القابات کو سندِ قبولیت بخش دی گئی ہے الفاظ تو وہی ہیں لیکن اُن کو ادا کرنے والوں کی تبدیلیِ جنس ہو چُکی ہے خواتین کو اوہ سوری لنڈے کی بے حیا لبرل طوائف نما آنٹیوں کو تو صرف یہی کہوں گی کہ آپ جس ایجنڈے کو مغربی سمجھ کر فروغ دے رہی ہیں یہ اصل میں اُنھی کا ایجنڈا آپ پروموٹ کر رہی ہیں جن کے خلاف آپ جھنڈا اُٹھائے کھڑی ہیں آپ برابری کی بات کیسے کر سکتی ہیں آپ اُن کی برابری کبھی بھی نہیں کر سکتیں کیونکہ آپ دشمنوں کا مُنڈا اُٹھا کر کبھی بھی اُس کا گینگ ریپ نہیں کر سکتیں تو جس طرح یہ چند بگڑی بیبیاں معاشرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں تو اسی طرح چند سُدھرے ہوئے احباب اس سماج کا کچھ نہیں سُدھار سکتے ۔

اس اسلامی معاشرے میں جہاں اسّی فیصد لوگ بے نمازی اور پچاس فیصد شراب پی کر اور مختلف نشے کر کےسوتے ہیں حالانکہ شراب تمام مسلمانوں کے لئے حرام ہے جس کا ترجمہ شائد یہ سمجھا جاتا ہے کہ باقی کاموں کی طرح صرف عورتوں کاشراب پینا حرام ہے تو اس اسلامی فلاحی معاشرے کے سماج سُدھار ٹھیکیداروں سے یہ تو پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ یہ کارواں جو لُٹا تو تیری رہبری کا سوال ہے یہ عرصہ دراز سے جو آپ کو فضیلت عطا کی گئی تھی جو برتری بخشی گئی تھی جو آپ کے سر پر دستار رکھی گئی تھی آپ اُس کی حفاظت نہیں کر سکے آپ نے عدل سے کام نہیں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے جوآپ کے مفتوحہ عوام یوں آپ کے سامنے بینرز اُٹھائے آپ کی ہی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کا ترجمہ آپ کی سمجھ شریف میں نہیں آرہا ۔ذرا ان لبرل بے حیا عورتوں اور بچیوں کو دیکھیے ان کی شکلیں بھی ماؤوں بہنوں جیسی ہی ہیں تو اے ماؤں بہنو یہ سب کچھ کر کے بھی آپ انٹرٹینمنٹ ہی فراہم کر رہی آپ خربوزہ ہیں خربوزہ ہی رہیں گی ہر صورت میں نقصان آپ کا ہی ہو گا کیونکہ آپ چُھری نہیں ہیں اگلے مارچ میں مارچ کرنے سے پہلے دانت نکال نکال کر تصویریں اَپ لوڈ کرنے سے پہلے پلے کارڈ کا منہ اپنی طرف کرکے ایک دفعہ پڑھ لینا کہ اس پر لکھا کیا ہے اُردو سمجھ نہیں آتی تو کسی سے پڑھوا لینا، اگلی بار کوئی آپ کو یہ لکھ کر ہی نہ پکڑا دے کہ ہم بھی مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کریں گی یا مردوں کا ریپ کریں گی اُن کی موجیں لگ جانی ہیں ،کئی ذہین لوگوں نے تو یہ بھی لکھا کہ یہ بے حیا عورتیں یہ چاہتی ہیں کہ جس طرح عورتوں کا بازارِحُسن ہوتا ہے اسی طرح مردوں کا بھی بازار لگے تو یہ اپنی پسند کے مرد چُن کر اُن کے ساتھ عیاشی کر سکیں اللہ توبہ اب دیکھیں عورتوں کی طرح مرد بھی بِکا کریں گے کیسی بے حیائی کا دور آگیا بہن تُو مَیں بکیں تو بکیں کیا اب ہمارے بھائی بند بھی بکیں گے تو اے میری بہنو جن مردوں سے آپ کو اچانک ہی سخت الرجی کی شکایت ہو گئی ہے یہ اس معاشرے کا فرد بننے سے پہلے آپ کی گود شریف سے گزر کر آتے ہیں تب آپ کون سی بُوٹی پی کر سو رہی ہوتی ہیں کہ بطور ِماں بہن اپنی عزت کرانا بھی نہیں سِکھا سکتی تو اپنی بیرکوں میں واپس جاؤ اور جو توقعات اِن سےرکھتی ہو انھیں وہ سکھاؤ تاکہ پتہ چلے انکی ماؤوں نے اچھی تربیت کی ہے انھیں عورت کی عزت کرنا سکھایا ہے یہ جن گریبانوں کو چاک کر کے بیچ چوراہے پر آکھڑی ہوئی ہو ، ان میں تھوڑا سا جھانک بھی لو ۔۔۔

اور آؤ اپنے حقوق کی جنگ کرنے سے پہلے اپنے فرائض پورے کر لیں آج تک ہم نے یہ کیسی پروڈکشن دی ہے جو اپنی پیدا کرنے والیوں کی عزت کرنے پہ تیار نہیں ہے اگر قسمت سے پڑھنا لِکھنا سیکھ گئی ہوتو دو چار نسلوں کی اچھی تربیت کر لو تاکہ کل ہماری بیٹیوں کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے نہ کھڑا ہونا اپنے بیٹے سُدھار تحریک چلاؤاُنھیں اپنے ہاتھوں اور نگاہ کی حفاظت کا مطلب بچپن سے ہی  سمجھائیں یہ کہیں اپنے فرائض سے کوتاہی کی سزا ہی تو نہیں بھگت رہیں ہم سب!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *