لائکس کمنٹس، کیا ہم ذہنی مریض ہیں؟۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

موجودہ دور میں دنیا کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ سینکڑوں میلوں دور دنیا کے ایک سرے میں بیٹھا ہوا شخص دنیا کے دوسرے سرے میں بیٹھے ہوئے شخص کے ساتھ نہایت صاف و شفاف انداز میں بلا روک ٹوک کے گھنٹوں بات چیت کرسکتا ہے، اور بات چیت بھی ایسی جس میں دونوں حضرات ایک دوسرے کو بلکل اِس انداز سے دیکھ سکتے ہیں جیسے وہ دونوں ایک ایسی کھڑکی کے آر پار بیٹھے ہوں جس کے فریم میں صرف ایک نہایت صاف ستھرا شیشہ لگایا گیا ہو اور یہاں تک کے ایک دوسرے کے چہرے پر موجود جھریوں تک میں فرق کر سکتے ہیں وہ بھی نہایت آسانی کے ساتھ، یہ کرشمہ اگر ممکن ہوا تو صرف انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ سے، انٹرنیٹ کے استعمال کا سب سے آسان ذریعہ آج کل ہینڈ سیٹ یا آسان الفاظ میں موبائل فون ہے جو کہ آج کے دور میں تقریباً ہر انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بوڑھا  سب کی  دسترس میں ہے اور اتنی وسیع پیمانے پر اِس جدید سہولت تک پہنچ اگر ممکن بنی  تو وہ ہے سائنسدانوں کی انتھک محنت اور جدید ٹیکنالوجی کی ایجاد، ایک وہ دور بھی تھا جب ایک شہر سے دوسرے شہر تک کوئی پیغام پہنچانا ہوتا تو صبح کاذِب پیغمبر کو جاگنا پڑتا اور میلوں میل بھوکا پیاسا چلتا چلتا گِرتا پڑتا اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی سرتوڑ کوشش میں لگا رہتا اور آخر کار کئی دنوں کی مسافت طے کرکے نہایت مشکل حالات سے گزر کر وہ اُس پیغام کو پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا، انسان اُس دور سے بڑی سرعت کے ساتھ نکل آیا اور آج کل ایسے کروڑوں اربوں پیغامات سیکنڈوں میں دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پہنچ جاتے ہیں خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔
سوشل میڈیا جس میں فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دوسرے لاتعداد ایسے سافٹ وئیر/ویب سائٹس شامل ہیں جو آج کے انسان کو نہایت جدید انداز کے ساتھ پیغام رسانی اور ایک دوسرے کے ساتھ روابط قائم کرنے  کا موقع مہیا کرتا ہے، اگر اِن سب میں پھر اُس کو چُنا جائے جو بہت ہی زیادہ مقبول ہوا ہے تو وہ ہے فیس بک، فیس بک کے صارفین تقریباً دوسرے تمام ویب سائیٹس سے زیادہ ہیں، فیس بک جہاں ایک طرف آپ کو روابط قائم کرنے کی آسان ترین سہولت مہیا کرتی ہے وہاں دوسری طرف ہر صارف کو ایک ایسا نہایت شاندار پلیٹ فارم بھی مہیا کرتا ہے جہاں پر صارف اپنی زندگی کی  خوبصورت یادیں محفوظ رکھ سکتا ہے اگر صارف شاعر ہیں تو اُس کی شاعری نہایت خوبصورت لفظوں میں محفوظ ہوتی ہے، اگر کوئی نثر نگار ہے تو اُس کی بھی ہر کاوش کے لئے جگہ موجود ہے، اگر کوئی عکس بندی کا شوقین ہے تو اُس کے لئے تو اور بھی سہولت ہے غرض یہ کہ ہر ایک کے لئے فیس بک اپنی خدمات پیش کردیتا ہے۔
اب جب اِس کی افادیت کے بارے میں کچھ باتیں ہو چکی ہیں تو آتے ہیں اِس کی بہت سے الجھنوں کی طرف، یوں تو اِس شاہکار میں الجھنیں کافی زیادہ ہیں جیسے کہ  وقت کا ضیاع، پسند نا پسند مواد کا آپ کے ساتھ جُڑ جانا مطلب “ٹیگ مافیا”، بغیر جان پہچان کے متواتر فرینڈ ریکوسٹ آنا جو کہ صنفِ نازک کے لئے خاصا بڑا مسئلہ بن چکا ہے، وغیرہ وغیرہ
اب ہم بات کرتے ہیں اِس ویب سائٹ کی اُن نفسیاتی اور کسی قدر ذہنی اذیت ناک دو حصوں کی طرف جسے اِس کی زبان میں ایک کو لائک اور دوسرے کو کمینٹ کہتے ہیں، یہ دونوں انگریزی زبان کے الفاظ ہیں جن کے اُردو معانی بالترتیب لائک کرنا یعنی پسند کرنا اور دوسرا کمینٹ یعنی اپنی رائے دینے کے ہیں۔
ایک عام اندازے اور جائزے سے اگر دیکھا جائے تو یہ دونوں خصوصیات انسان کو شخصی آزادی مہیا کرتی نظر آتی ہے یہ آپ کو اِس کی کُھلی اجازت دیتی ہے کہ آپ کسی کے بھی مواد پر اپنی پسندیدگی یا ناپسند کا اظہار کرسکتے ہیں یہ تو ہوئی اختیار کی باتیں کہ آپ جو چاہیں کریں کسی کو اچھا سمجھیں یا برا اپنی پسند کا اظہار کرسکتے ہیں
المیہ یہ ہے کہ آج کل یہ رجحان بہت وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے کہ لوگ دوسروں کے اِنہی لائکس اور کمینٹس کو حاصل کرنے کے لئے عجیب و غریب حرکتیں کر رہے ہیں، اِن حرکتوں میں انسانی سے لیکر حیوانی جذبات تک سب شامل ہیں بہت سے ایسے کام ہونگے جو ایک نارمل انسان کرنا تو دور دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گا، کچھ قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں۔

پہلا
فیس بک کی ایک صارف لکھتی ہیں جو کہ لڑکی ہے،
” آج میں نے انڈے کو چھلکے سمیت تیل میں ڈال کر فرائی کیا، فرینڈز پلیز اب مذاق نہ اڑائیں میرا کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ کیسے فرائی کرتے ہیں، اور ہاں میری  پوسٹ لائک کریں اور کمینٹ میں غلط بات نہ لکھیں پلیز اگین ” اِس کے ساتھ ہی اُس لڑکی نے وہ تصویر بھی لگائی ہوئی تھی جس میں انڈہ چھلکے سمیت ایک فرائی پان میں موجود تھا۔

دوسرا
“دوستوں کے ساتھ شرط لگائی کہ ریوالور میں ایک گولی چھوڑ کر باقی نکال دی جائے اور کنپٹی پر رکھ کر ٹریگر دبایا جائے، فرینڈر آج میں بال بال بچ گیا میری ویڈیو لائک کریں اور شئیر بھی تاکہ دوسروں کو بھی پتہ چلے اور کوئی نقصان نہ اٹھائیں” ساتھ ہی وہ ویڈیو لگائی ہوئی جس میں یہ سب کھیل دکھایا گیا تھا۔

تیسرا
“میں ناول لکھ رہی ہوں، فرینڈز آج پہلی قسط یہاں شائع کردوں گی اگر میرے ناول پر لائکس اور کمینٹس آئے تو مجھے معلوم ہو جائے گا کہ ناول کی دوسری قسط بھی لکھنی چاہئے” اِس کے فوراً بعد ایک لمبا تڑنگا سا پوسٹ لگتا ہے ناول کے نام پر موضوع وہی عشق وشق وغیرہ وغیرہ

مندرجہ بالا واقعات جِن کا صاحبِ تحریر خود گواہ ہے اُن لاتعداد کیفیات میں سے تھوڑے سے ہیں جن کی بدولت آج ہم ایسے حالات سے گزر رہے ہیں.

لکھاری خود بھی دورغ گوئی سے کام نہیں لے گا اِس مرض کا وہ بھی شکار رہ چکا ہے اور اِس مرض سے چھٹکارہ کیسے پایا کافی مشکل کام ہے سمجھیں کافی قربانیاں دی گئی ہیں تب جاکہ مرض کا خاتمہ ہوا ہے۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ فیس بک پر ہر انسان اپنے ساتھ وہ لوگ بطور فیس بک دوست رکھیں جِن کے ساتھ اُس کی ذہنی ہم آہنگی ہو، نہ کہ ایسے لوگ جو رسیا تو ڈھول باجے کے ہوں اور آپ کا مزاج مرزا غالب چچا کے جیسا ہو تو وہ کیا خاک آپ کی کاوشوں کا قدردان ہو گا، اور یہ بہت بُری عادت ہے کہ آپ کسی کو جبراً دعوتیں دیتے ہیں کہ وہ آپ کی فلاں فلاں شے کو لائک کرے، حقیقی زندگی کے رنگوں میں یہ سب نخرے بےنوری کے شکار ہیں، اِن باتوں کی کوئی اہمیت نہیں اگر آپ کے کسی بھی پوسٹ پر دس ہزار لائکس بھی ہوں تو آپ کے یہ لائکس کسی کے زندگی میں بدلاو نہیں لاسکتے، ہوگا تو صرف اِتنا کہ آپ اِس بیماری کا اور زیادہ شکار ہوں گے اور جب جب آپ کی اِس آمدنی میں کمی بیشی ہوگی تو آپ کے ذہنی تناو میں اضافہ ہوتا رہے گا، کسی کے پوسٹ پر لائکس اور کمینٹس کا وافر مقدار میں موجود ہونا اِس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ وہ صاحبِ اہل علم ہے یا وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہ اُس کے اپنے خیالات ہیں۔
مشورہ یہ ہے کہ آپ جو بھی محسوس کرتے ہیں ضروری نہیں کہ دوسرے بھی اُس سے متفق ہوں آپ اپنی شخصیت کو کسی کے لائکس اور کمینٹس کے لئے تبدیل نہ کریں اور نہ  ہی اپنے الفاظ کو غلاف چڑھائیں، سچائی اور حقیقی زندگی کے واقعات ہر حال میں حقیقی ہوتے ہیں اُس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ کے پوسٹ پر مکھیوں کی طرح دھڑا دھڑ کمینٹس نازل ہوتے رہیں آپ کے خیالات اور روزمرہ کی سرگرمیوں کا مثبت ہونا اِس بات کی محتاج نہیں کہ کوئی دوسرا اُس پر اپنا مہر ثبت کرے۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *