لیاری۔۔۔ذوالفقار علی زلفی/قسط7

ساٹھ کی دہائی میں لیاری کو کچی آبادی قرار دے کر شہر کے مضافات میں منتقل کرنے کے ایوبی منصوبے نے عوام کو خوف زدہ کر دیا تھا۔ قوم پرستوں کے زبردست احتجاج کے بعد مارشل لا حکام منصوبے سے دست کش ہوگئے مگر لیاری میں گھر چھن جانے کا ڈر برقرار رہا۔ دوسری جانب لیاری کے عوام کراچی کی آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث معاشی دباؤ کا بھی شکار ہو چکے تھے۔ ہندوستانی مہاجرین، ڈیمز پالیسی کے متاثرین اور پشتون و پنجابی محنت کشوں کی مسلسل آمد نے کم وسائل کے حامل شہر کے مسائل بڑھا دیے۔

بڑھتی آبادی سے منسلک سیاسی، معاشی اور ثقافتی خطرات نے شہر کے قدیم باشندوں کے سر پر ریڈ انڈین بننے کی تلوار لٹکا دی۔ لیاری کی انتخابی نمائندگی ہارون خاندان کے پاس تھی جب کہ ہارونوں کی سیاسی ہمدردیاں مارشل لا حکام کے ساتھ تھیں۔ لیاری اور ہارون خاندان کے درمیان سیاسی خلیج بڑھتی جا رہی تھی۔ نظریں کسی متبادل قیادت کو ڈھونڈھ رہی تھیں۔ لینن گراڈ کے اراکین نے نیشنل عوامی پارٹی کو متبادل سیاسی پلیٹ فارم کی صورت پیش کیا۔ عوام نے ابھی نیپ کے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے پر تولے ہی تھے کہ ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آ گیا۔

نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان اعوان اور خودساختہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے درمیان عرصے سے اندرونی کشمکش جاری تھی۔ 1966 کو بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔

لیاری کے ایم این اے محمود ہارون کو کابینہ میں وزیر لیے جانے کے بعد لیاری کی سیٹ خالی ہوگئی۔ ایوب خان کی خواہش تھی کہ اس سیٹ پر ان کے وفادار خان بہادر حبیب اللہ پراچہ کو کنونشن لیگ کا ٹکٹ دے کر کامیاب کرایا جائے۔ گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ نے ان کے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ دوسری جانب محمود ہارون بھی اس فیصلے سے خوش نہ تھے۔ حبیب پراچہ ان کے دیرینہ سیاسی رقیب تھے۔ محمود ہارون کو خدشہ تھا اگر پراچہ اس سیٹ پر کامیاب ہوگئے تو مستقبل میں وہ اس سیٹ سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ نواب کالا باغ اور محمود ہارون مشترکہ مفادات کے باعث ایک ہوگئے اور انہوں نے ایک ایسے شخص کی تلاش شروع کر دی جو حبیب پراچہ کو شکست دے سکے۔ بالآخر ان کو وہ شخص لیاری سے قریبی تعلق رکھنے والے میر غوث بخش بزنجو میں نظر آ گیا۔

بزنجو کو نواب کالا باغ کی ایما پر 1964 کو نہ صرف بلوچستان کے انتخابات میں ہروایا گیا تھا بلکہ انہیں پابندِ سلاسل رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا چکا تھا۔ گویا یہ آگ اور پانی کا ملاپ تھا ـ نیرنگیِ سیاست شاید اسی کا نام ہے۔ محمود ہارون کی کوششوں سے بزنجو نے ضمنی انتخاب لڑنے کی پیشکش قبول کر لی۔ سردار خیر بخش مری غالباً نیپ کے واحد رہنما تھے جنہوں نے اس فیصلے کی شد و مد سے مخالفت کی۔ سردار عطااللہ مینگل، سردار شیر باز خان مزاری اور ولی خان نے اس فیصلے کو اپنی حمایت بخشی۔

میر غوث بخش بزنجو سے عقیدت کی حد تک محبت کرنے والے افراد لیاری کے عوام کی امنگوں کے اس سودے بازی کو کمالِ مہارت سے چھپا لیتے ہیں۔ ان کے مطابق بزنجو متحدہ اپوزیشن کے امیدوار تھے۔ راقم نے ایک دفعہ یوسف نسکندی سے اس بابت دریافت کیا، قابلِ احترام بزرگ نے مجھے بزنجو مخالف قرار دے کر ڈانٹ دیا۔ نسکندی حالاں کہ فکری لحاظ سے خیر بخش مری کے مؤقف کے حامی تھے مگر سابقہ سیاسی رکھ رکھاؤ والی تربیت کے باعث وہ بزنجو کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔

میر غوث بخش بزنجو کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سکہ بند مہرے جام آف لسبیلہ میر غلام قادر کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ تالپور حکمرانوں کے قبضے سے قبل کراچی ریاستِ قلات کا حصہ تھا، جس کا انتظام و انصرام جام آف لسبیلہ کے ہاتھ ہوا کرتا تھا۔ کراچی کا معروف علاقہ “لسبیلہ چورنگی” اسی دور کی یادگار ہے۔ جام، لیاری میں رہائش پذیر لاسی بولنے والی برادری میں زبردست اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ جام نے لاسی بی ڈی ممبروں (پاکستان کی سیاسی تاریخ سے واقف افراد بی ڈی ممبر کے پسِ منظر سے واقف ہوں گے) کو بزنجو کی حمایت کرنے کا حکم دیا۔ نواب کالا باغ نے میانوالی برادری کی حمایت حاصل کرنے کا بیڑہ اٹھایا جب کہ محمود ہارون میمن، موہاڑ، بھیل اور دیگر قدیم برادریوں کی حمایت حاصل کرنے نکلے۔ یوں تو بزنجو کا نام ہی کافی تھا لیکن پھر بھی نوزائیدہ بی ایس او اور لینن گراڈ کے نوجوانوں نے بلوچ بی ڈی ممبران کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دیا۔

یہ حکمرانوں کے دو گروہوں کی لڑائی تھی۔ عوامی مفادات کے تحفظ پر یقین رکھنے والے افراد عوامی جذبات کو پسِ پشت رکھ کر ایک گروہ کے ساتھ چل پڑے۔ بزنجو الیکشن جیت گئے مگر نیپ ہار گئی۔ نیپ کی ہار نے لیاری میں قوم پرست سیاست کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ جس محمود ہارون اور نواب کالا باغ سے عوام بے زار تھے، نیپ ان کے ساتھ کھڑی تھی۔ لاکھ تاویلیں گھڑی جائیں مگر سچ یہی ہے کہ پاکستانی پارلیمانی سیاست کی قربان گاہ پر لیاری کی بھینٹ دینے کا رواج اسی دور سے پروان چڑھا۔

نیپ کی ہار کا پہلا نقصان بی ایس او کی تقسیم کی صورت برآمد ہوا۔ چوں کہ زیرِ نظر تحریر لیاری کے سیاسی اور سماجی اتار چڑھاؤ تک محدود ہے اس لیے بی ایس او کی تقسیم کے معاملے کو نظرانداز کرنا مجبوری ہے ـ البتہ بی ایس او نے لیاری کے سماج میں جو مثبت تبدیلیاں پیدا کیں ان کا ذکر ضروری ہے تاکہ مستقبل میں پیش آنے والی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکے۔

بی ایس او تین مختلف قوتوں کا سنگم تھی؛ لینن گراڈ، ادبی تحریک اور بلوچستان ـ طلبا نے ان تینوں کو اپنے اندر سمو کر کراچی میں بلوچ سماج کا نقشہ بدلنے میں مثبت کردار ادا کیا۔

بی ایس او نے پہلی دفعہ کراچی یونیورسٹی میں پرہجوم “بلوچی دیوان” کا انعقاد کر کے بلوچ ثقافت کو شہری سطح پر پیش کیا۔ اس دیوان کے ذریعے بلوچی موسیقی کے ستاروں عبدالستار بلوچ اور شفیع بلوچ عوامی سطح پر متعارف کیے گئے۔ گو کہ دیوان کی ہر دل عزیز شخصیت فیض محمد بلوچ ثابت ہوئے مگر چوں کہ فیض محمد بلوچ پہلے ہی آسمان پر چمک رہے تھے اس لیے میری نظر میں یہ ثقافتی تقریب عبدالستار بلوچ اور شفیع بلوچ کے ہی نام رہی۔

اس تقریب کے بعد عبدالستار بلوچ اور شفیع بلوچ نے لکشمی کانت پیارے لال یا شنکر جے کشن طرز پر شفیع ستار کی موسیقار جوڑی بنائی اور اس جوڑی نے کلاسیک ہندوستانی سنگیت کو بلوچی موسیقی میں ڈھال کر موسیقی کے شعبے کو ایک نیا آہنگ دیا۔ اس جوڑی کو بلاشبہ بی ایس او کے طلبا نے ہی گم نامی کے اندھیروں سے نکالا۔

شفیع ستار جوڑی کو استاد فتح نظر بلوچ اور استاد نظر بلوچ کے تسلسل کی صورت دیکھنا چاہیے۔ استاد نظر بلوچ، مغربی بلوچستان کے علاقے نسکند سے ہجرت کر کے لیاری آ کر آباد ہوئے ـ ان کے متعلق میری معلومات کم ہیں مگر مانا جاتا ہے موسیقی کا فن انہوں نے مقامی ہندو سنگیت کاروں سے حاصل کیا۔ ان کے بعد ان کے عظیم فرزند استاد فتح محمد نظر نے ان کی وراثت کو آگے بڑھایا۔ استاد فتح نظر کو دیگر پر یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ انہوں نے باقاعدہ فنِ موسیقی پر “نظر گند” نامی کتاب لکھی۔

ستار شفیع بھی تقریباً اسی دوران موسیقی کے شعبے میں وارد ہوئے۔ موسیقی کے روشن میناروں نے شہنشاہِ غزل مہدی حسن کو بھی نوجوانی میں لیاری کا گرویدہ بنایا۔ مہدی حسن تقریباً ہر شام لیاری میں گزارتے تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑے نام کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ وہ ہیں؛ استاد ولی محمد بلوچ۔ استاد ولی محمد بلوچ لیاری کے رہائشی نہ تھے، ان کا مسکن ٹرانس لیاری کہلانے والا علاقہ پرانا گولیمار تھا۔ انہوں نے سُر، ساز اور تال کی تعلیم کلکتہ کے ہندو پنڈتوں سے حاصل کر رکھی تھی۔ ولی بلوچ کے فرزند ساجد ولی نے اپنے والد کی وراثت کو آگے بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر خراب اقتصادی حالات کے باعث انہیں اکیسویں صدی کے اوائل میں خلیج منتقل ہونا پڑا۔ ان کے دوسرے فرزند سلمان ولی بھی موسیقی کی زبردست سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، مگر افسوس آج وہ بھی اپنی سرزمین سے کٹ کر عرب صحراؤں کے اسیر بن چکے ہیں۔

اپنے دیگر ہم عصروں استاد فتح نظر، استاد شفیع بلوچ، فیض محمد بلوچ اور ولی بلوچ کے برعکس استاد عبدالستار بلوچ، قوم پرست سیاست میں بھی فعال رہے۔ انہوں نے بی ایس او کے اسٹیج سے عوامی گائیکی کی شروعات کی اور زندگی کی آخری سانس تک وہ بی ایس او کے ہم نوا رہے۔ اپنے سیاسی اصولوں کی وجہ سے انہوں نے خود پر سرکاری اعزازات حرام کر رکھے تھے۔ انہوں نے متعدد دفعہ سرکاری امداد لینے سے محض اس وجہ سے انکار کر دیا کہ ان کے مطابق سرکاری پیسوں سے بلوچ لہو کی مہک آتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی لیاری کی تنگ گلیوں میں گزار دی۔ انہیں نہ ستائش کی تمنا تھی اور نہ ہی صلے کی پرواہ۔

استاد عبدالستار بلوچ نے اپنے فن کو خود تک محدود رکھنے کی بجائے اسے پھیلانے کی کوشش کی۔ ان کے چھوٹے سے کلب میں ایسے متعدد نوجوانوں نے موسیقی کی تعلیم حاصل کی جو آج بلوچی گائیکی کے سپراسٹار مانے جاتے ہیں۔ جن میں استاد شوکت مراد بلوچ، عارف بلوچ، شاہ جہان بلوچ اور مسلم حمل کے نام سرِ فہرست ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی عبدالرشید بلوچ بھی زبردست موسیقار گزرے ہیں مگر افسوس بڑے بھائی کی نسبت ان کا نام اور کام گم نام ہی رہا۔

لیاری کی موسیقی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ استاد عبدالعزیز بلوچ بھی ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں ـ عبدالعزیز بلوچ البتہ ہندوستانی کلاسیک سے زیادہ فیض محمد بلوچ کے طرز پر عمل کرتے تھے۔ ان بڑے بڑے استادوں کے بعد لیاری کی موسیقی کوئی بڑا کارنامہ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ گو کہ نوشکی سے لیاری آ کر آباد ہونے والے نور محمد نورل نے اسلاف کی روایت برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ اپنے پیش روؤں کی مانند موسیقی کی لازوال دھنیں تخلیق کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ البتہ نور محمد نورل کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کلاسیک و جدید بلوچی شاعری کو اپنی پُراثر آواز کے ذریعے گلی کوچوں تک پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ سنجیدہ اور بامعنی شاعری کو عوامی اذہان تک پہنچانے میں نورل نے جو کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ ناقابلِ فراموش ہے۔

موسیقی کی بات چل نکلی ہے تو کچھ ذکر ایک گم نام موسیقار کا بھی ہو جائے ـ لیاری میں آج بھی ہندوستانی موسیقی پر کمال کی دسترس رکھنے والے ایک استاد رہتے ہیں۔ وہ ہیں؛ جناب غلام محمد بلوچ عرف خان صاحب۔ خان صاحب نے کلاسیک ہندوستانی موسیقی کی تعلیم کراچی کے ہندو پنڈتوں سے سیکھی ہے۔ موسیقی پر ان کا علم ششدر کر دیتا ہے۔ افسوس جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کی حکمرانی کے اس ظالم دور نے ان کے فن کو نگل لیا ہے۔ آج وہ اپنے گھر کے کمرے میں باجا تھمائے گم نامی کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جب کہ موسیقی کے نام پر اچھل کود کرنے والے بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ لیاری کا زوال ہی تو ہے۔

بات بی ایس او کی ہو رہی تھی اور موضوع موسیقی کی جانب مڑگیا۔
بہرحال، یوں تو لینن گراڈ نے لیاری میں مثبت علمی سرگرمیوں کی داغ بیل ڈالی مگر اسے پھیلانے کا سہرا بی ایس او کے سر جاتا ہے۔ بی ایس او نے اسٹڈی سرکلز کے کلچر کو پھیلا کر طلبا کو غیرنصابی کتابوں کی جانب موڑا۔ اسٹڈی سرکلز سے نکلنے والے نوجوانوں نے بعد میں ترقی پسند سیاست کی آبیاری میں پرجوش حصہ لیا۔ اس زمانے میں فیض احمد فیض لیاری میں واقع عبداللہ ہارون کالج کے پرنسپل تھے۔ بی ایس او کے طلبا اور فیض کے درمیان اچھے تعلقات بنے اور دونوں نے مل کر سماج میں انسانی آزادی، معاشی مساوات اور سیاسی برداشت جیسے اعلیٰ اصولوں کو فروغ دیا۔ ادبی سرکل کی سرپرستی کے باعث طلبا میں بلوچی ادب کا حصہ بننے کا رجحان بھی پیدا ہوا۔ اس رجحان نے مستقبل میں بلوچی ادب کو مبارک قاضی جیسے ہونہار شاعر فراہم کیے۔ لکھنے پڑھنے کی تربیت نے ہمیں صدیق جنگیان المعروف لالہ/ماما صدیق بلوچ دیے جنہوں نے آگے چل کر بلوچ صحافت کی نشوونما میں جاندار کردار ادا کیا۔

لیاری کے طلبا شمشاد بلوچ، لطیف بلوچ، صدیق جنگیان، اکبر جلال و دیگر نے بی ایس او کو فیض محمد بلوچ کی گائیکی کی صورت لیاری میں ہونے والی شادیوں میں متعارف کروایا۔ بلوچوں میں شادی کی تقاریب عام طور پر خواتین کے ہاتھ ہوتی ہیں۔ طلبا نے بڑی ہنرمندی سے استاد عبدالمجید گوادری کے ترانے “ما چکیں بلوچانی” کو شادیوں کی تقاریب کے ذریعے خواتین تک پہنچایا اور خواتین نے اسے گھر گھر کا حصہ بنا دیا۔

ان نوجوانوں نے کراچی میں لیاری کو ترقی پسندی کا مرکز بنا دیا تھا ـ ان کی کاوشوں سے لیاری کے سماجی و سیاسی شعور نے قابلِ رشک ترقی کی۔ اگر نیپ اپنے سستے مفادات کی اسیر ہو کر بی ایس او کو تقسیم نہ کرتی اور خود کو انتظامی صوبہ بلوچستان تک محدود نہ رکھتی تو شاید آج لیاری کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ ہماری نسل اپنے ان تمام بزرگوں کی شکرگزار ہے جنہوں نے کم اور محدود وسائل کے باوجود انتھک اور پُرخلوص جدوجہد کے ذریعے لیاری کو عظیم انسانوں کے قافلے کا حصہ بنایا۔

(جاری ہے)

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *