ابو حمار اور نفسیات۔۔۔ اختر علی سید

آغاز ہی میں ایک اعتراف ضروری ہے۔ حضرت وجاہت مسعود کی تحریر سے پہلے میں ابو حمار نامی کسی اصطلاح اور اس کے معنی کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم تھا اور اب بھی ہوں۔ اس لئے کہ انہوں نے بھی اس اصطلاح کی نہ تو تعریف فرمائی اور نہ ہی اس کا ماخذ بتلایا۔ تاہم ابوحمار کے چند اوصاف ضرور گنوائے۔ جن احباب کی نظر سے ان کی بصیرت افروز تحریر نہیں گزری ان کے لیے وہ اوصاف بیان کیے دیتا ہوں۔ ابو حمار سے ان کی مراد لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو آمریت کو اپنی منزل، بھیک کو رزق، اور جہالت کو ایمان سمجھتا ہے۔

جناب وجاہت مسعود کی تحریر پڑھ کر خیال گزرا کہ نفسیات کی دنیا میں ایک اصطلاح اس مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ اصطلاح AUTHORITARIAN PERSONALITY ہے۔ نفسیات کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس اصطلاح سے مراد وہ ذہنی حالت ہے جس کے حامل افراد ایک ایسے سماجی نظام کی خواہش رکھتے ہیں جس میں درجہ بدرجہ صاحب اختیار کی اطاعت کا چلن عام ہو۔ جس طرح ایک خاندان کے حاکم کی اطاعت تمام اہل خانہ پر واجب سمجھی جاتی ہے۔ ایک دفتر کے صاحب اختیار کی اطاعت اس دفتر میں کام کرنے والوں پر واجب ہوتی ہے۔ اور اسی طرح اس دفتر کے صاحب اختیار پر اپنے سے بالا تر افراد کی اطاعت کو واجب خیال کیا جاتا ہے۔ اور سلسلہ ریاست کے حکمران پر جا کر منتج ہوتا ہے۔ ریاست میں بسنے والے ہر ایک فرد پر اپنے حکمران کی اطاعت کو واجب اور ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ اس اطاعت میں اختلاف، چون و چرا، اور اپیل کا حق حاصل نہیں ہوتا۔۔

صاحب اختیار (AUTHORITY) کی اطاعت سے مراد اپنے ارادہ و اختیار سے مکمل کنارہ کشی ہے۔ ہمارے ہاں اس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے اولی الامر اور امیر جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ ان اصطلاحات کے مستحق اور حامل افراد کے سامنے ان کے احکامات کی ذیل میں سوال اٹھانا، اطاعت میں تامل، اور انکے احکامات کے بارے میں ناپسندیدگی کے احساسات رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔ اور اس کی بنیادی وجہ ان اختیارات کا منبع ان صاحبان اختیار کی بجائے کسی بالاتر ہستی کو ٹھہرانا ہوتا ہے۔ شاید اسی لئے ان صاحبان اختیار کو خدا کا سایہ (ظل الٰہی) کہا گیا ہو گا۔

آپ کو یقیناَ یاد ہوگا کہ ہٹلر نے مبینہ طور پر اپنی سماجی اور سیاسی شناخت تشکیل کے لئے ایک مصنف وکٹر وان کوربر سے 1923 میں کتاب لکھوائی تھی۔ اس کتاب کا نام تھا “ایڈولف ہٹلر کی زندگی اور تقاریر”. یہ کتاب ہٹلر کی پہلی سوانح عمری سمجھی جاتی ہے۔ اس میں ہٹلر کی مختصر سوانح عمری اور اس کی چند تقاریر موجود ہیں۔ اس میں ہٹلر کو جرمنی کا نجات دہندہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کا موازنہ حضرت عیسی سے کیا گیا ہے۔ اس کی سیاست کو حضرت عیسی کی موعودہ واپسی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کتاب کا طرز تحریر بائبل سے مشابہ ہے اور اس کتاب میں مذہبی اصطلاحات کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ہٹلر کے سیاسی کیریئر کا آغاز تھا۔ آپ اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ چند سال قبل ایک برطانوی مورخ ٹامس ویبر THOMAS WEBER نے اپنی ایک تحریر میں اس کتاب کو کوربر کے بجائے ہٹلر کی اپنی تحریر ثابت کیا اور اس ضمن میں انہوں نے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے۔ کتاب کے مندرجات کے بارے میں جو کچھ اوپر بیان کیا گیا اس پر دوبارہ غور فرمائیں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ سب باتیں ہٹلر نے خود اپنے بارے میں لکھی تھیں۔

نفسیات کے ہم جیسے طالب علم جو پاکستان، اسکے سماج، اور سیاست کو سمجھنے کی اپنے تئیں کوشش کرتے رہتے ہیں ان کے لئے ہٹلر کی زندگی اور سیاست میں سمجھنے کے لئے ہمیشہ بہت سے اشارے موجود رہیں گے۔

وجاہت مسعود صاحب کے بیان کردہ ابو حمار کے اوصاف ذہن میں رکھیے اور برطانوی سیکرٹ سروس کے اس تجزیے کو یاد کیجئے جو اس وقت کیا گیا تھا جب ہٹلر پے درپے شکست سے دوچار تھا۔ اس تجزیہ کو بہت آسانی سے برطانوی پروپیگنڈا کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے اس کو سچ سمجھ یے اور اوپر بیان کردہ حقائق سے ملا کر پڑھیئے۔ یہ نفسیاتی تجزیہ مارک ابرام نے 1942 میں کیا تھا۔ ابرام کے کچھ کاغذات 2012 میں دریافت ہوئے اور یہ رپورٹ منظر عام پر آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ھٹلر خبط مسیحائی MESSIAH COMPLEX کا شکار تھا۔اس رپورٹ کے مندرجات قابل غور ہیں اور خصوصاً پاکستانی عوام کے لئے یاد رکھنے کے لائق ہیں۔ شکست سے دوچار ہٹلر نے اس رپورٹ کے مطابق جرمنی کی موجودہ حالت کا ذمہ دار ایک مفروضہ دشمن (یہودیوں) کو قرار دینا شروع کر دیا تھا. ناکامیوں نے ہٹلر کو دلبرداشتہ کردیا تھا تاہم اس کی یہ مایوسی مزید غصے اور جارحیت کا سبب بنتی چلی گئی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خدا کے چنے ہوئے لوگوں کا قائد بنایا گیا ہے جو برائی یعنی یہودیت کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنے خبط مسیحائی میں ہٹلر یہودیت کو برائی اور خود کو خدا کا نمائندہ سمجھتا تھا۔ اپنے زوال کو سامنے دیکھنے کے باوجود بھی اس کو یہ یقین تھا کہ خدا اس کی قربانیوں کو  فتح سے ضرور ہمکنار کرے گا۔ فتح اور کامیابی کا تصور بہت سادہ، واحد حل اور خود عظمتی کے تصورات پر مبنی تھا۔ یعنی کامیابی کے لئے صرف ایک انتہائی سادہ، سنگل پوائنٹ ایجنڈہ اس یقین کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا کہ ہم اپنا مقصد ضرور حاصل کرلیں گے۔ ہٹلر پر اس مختصر سی گفتگو کا مقصد کسی (جرمن) معاشرے میں ایک صاحب اختیار AUTHORITY اور اس معاشرے میں ابو حمار ذہنیت کے تشکیلی مراحل کی وضاحت تھی۔  آیے واپس ابو حمار کی جانب چلتے ہیں۔

آپ کو رومن فلسفی لوسیس سینیکا Seneca یاد ہوگا۔ اس نے کہا تھا کہ عوام مذہب کو سچ، دانشور قابل غور، اور حکمران اپنے لئے مفید سمجھتے ہیں۔ حکمرانوں کے لئے مذہب کو مفید سمجھنے کی وجہ بہت واضح ہے۔ مذہب کا عمومی فہم حکمرانوں کو عوام پر حکمرانی کا حق دلاتا اور ان کو لائق اطاعت ٹھہراتا ہے۔ جبکہ دانشور کے لیے مذہب قابل غور و فکر شے ہے وہ سوال اٹھاتا ہے۔ سوال کے جواب ڈھونڈنے پر اصرار کرتا ہے۔ یہ سوال مذہب کے انفرادی استعمال سے لے کر اجتماعی اطلاق تک ہر پہلو سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن ابوحمار AUTHORITARIAN PERSONALITY کے نزدیک مذہب کلی اطاعت سے عبارت ہے۔ یہ غوروفکر سے ماورا سچ ہے۔ جس پر سوال کی اجازت نہیں ہے۔ مذہب پر سوال مذہب کی تفہیم کی کوشش کے بجائے حکمران کے حق کے اطاعت کے لئے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ لہذا سوال ممنوع قرار دینے کے بعد مذہبی اتھارٹی کے بیان پر قناعت کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ مذہب سے سوال کا اخراج اس کو ایک جامد اور غیر متحرک تصور میں تبدیل کر دیتا ہے۔ میں نے شائد غلط کہا۔ مذہب کا یہ جامد تصور حکمرانوں کی دسترس میں دیدیا جاتا ہے کہ جو جب چاہیں اس کو تبدیل کرسکتے ہیں اسے استعمال کرکے وہ جب چاہیں انسانوں کا قتل عام کر والیں اور جب چاہیں اسی کو بنیاد بناکر قاتلین کو ہیرو قرار دے دیں۔ مجھے یقین ہے کہ ثبوت مانگتے ہوئے آپ ماضی قریب کی تاریخ دہرانے پر اصرار نہیں کریں گے۔

ابو حمار اور اس کی نفسیاتی تشریح کے بعد آپ آج کی دنیا پر غور فرمائیں۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 1977 میں لگنے والے مارشل لا کے خلاف کیسی کیسی جدوجہد کی گئی تھی سیاسی جدوجہد کرنے والوں نے قربانیوں کی کیسی لازوال داستان رقم کی تھیں۔ ادیبوں اور شاعروں نے کیسا کیسا شہ پارہ تخلیق کیا تھا۔ لیکن 1999 میں لگنے والے مارشل لا اور اس دوران میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف کوئی قابل ذکر تحریک چلی نہ ادبی شہ پارہ تخلیق ہوا۔ اسی ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر نہ سیاسی کارکن گھر سے نکلے نہ اہل دانش کے قلم حرکت میں آئے۔ نفسیات کے ایک مبتدی اور ادنیٰ طالب علم کے طور پر میں یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ کیا پورا معاشرہ ابو حمار ہو گیا تھا۔

 

 

 

Avatar
اختر علی سید
آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *