خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

آپ میں یا کوئی بھی انسان جو کسی پریشانی میں ہو تو اس کے لئے اسکی زندگی ایک مشکل ترین دور سے گزر رہی ہوتی ہے اس کا بے بس ہونااور مشکل کا ختم نہ ہونا اس وقت اس کے لیے وبال جاں  سے کم نہیں ہوتا۔ان سب کیفیات کے ساتھ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے دیکھنا بہت تکلیف دہ یا کہیں کہ ایک مشکل امر ہے۔ جس طرح سے کسی کی تکلیف کو دیکھنا اور اسکو رفع کرنے کی کوشش کرنا انسانیت کا معیار اور مقصد ہے۔ اسی طرح انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تکلیف کو ختم کرنے کی کوشش کرے ۔اور اس میں کامیاب نہ ہو تو ان سب باتوں سے گھبرا کر جو سب سے پہلا احساس ہوتا ہے وہ ہوتا ہے کہ میں کیوں ہوں اور میرا انسان ہونا آسان تھوڑی ہے۔
اور اس کیفیت میں مجھ جیسے کم ظرف انسان کا اپنے خدا سے برابر گلہ شکوہ جاری رہتا ہے۔
مگر یہ سب باتیں آپ کی میری اور شاید دنیا میں بسنے والے ہر انسان کی ہو سکتی ہیں ہم صرف انسان نما لوگ ہی چھے ارب سے زیادہ ہیں۔
باقی چرند پرند جمادات کی کوئی گنتی نہیں، کتنے  ہی آنکھوں سے اوجھل اور کتنے ابھی تک زمین یا سمندر کی تہوں میں ہیں ۔ان کا ااندازہ لگانا شاید ابھی ناممکن ہے۔ اور کائنات کی وسعتوں کا تو کوئی اندازہ ہو ہی نہیں سکتا جومسلسل پھیلتی جا رہی ہیں اور کہاں جا کے اس کا رکنا ممکن ہے کوئی علم نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہر شہ جس کا وجود ہے ۔
وہ اپنے رب سے سوال ضرور کرتی ہو گی۔ ہم اس کو صرف انسانوں کی زبان میں ہی سمجھ سکتے ہیں مگر ایک سوال ایک فریاد اپنے ہونے کو لے کر یا نہ ہونے کو لے کر جاری رہتی ہو گی ہزاروں گلے شکوے اپنے خدا سے متواتر رہتے ہوں گے اکیلے اکیلے چپکے چپکے یا کھلم کھلا۔
سڑک پے پڑے پتھر کوجب ٹھوکر لگتی ہو گی تو وہ بھی ضرور اپنے خدا کو یاد کرتا ہو گا اس سے گلہ کرتا ہو یا شاید شکر ادا کرتا ہو اس بارے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
پہاڑوں میں آرام وسکون سے خواب میں سوتا ہوا لاوا جب باہرایک چنگھاڑ سے نکلتا ہو گا اور زمینوں کو تہس نہس کرتے آگے بڑھتا ہو  گا تو ضرور اپنے خدا سے سوال کرتا ہو گا۔
سمندر کی موجیں سمندر میں اٹکھیلیاں کرتے جب سونامی کی صورت اپنے مکان سے بے دخل کی جاتی ہوں گی تو اپنی شناخت اپنے وجود کے متعلق ضرور سوال کرتی ہوں گی۔
آسماں میں جگمگاتا تارا جو اپنے وجود پے اتراتا ہو گا ۔اور پھر ٹوٹ کر کسی بلیک ہول میں اپنے وجود کا انکار کرتے ہوئے وہاں دھکیلا جاتا ہو گا تو اس کی آوازیں شکوے شاید بلیک ہول سے باہر سنائی نہ دیتے ہوں مگر اپنے خدا تک ضرور پہنچتے ہوں گے۔
کروڑوں سال سے جلتا سورج بھی تو آخر کچھ دیر آرام اور سکون کے مانگتا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہو کہ ہر چیز کو جلا کر خاک کرنے کی اجازت مانگتا ہو۔
کتنے ہی انسان جن کی خبر ہم تک نہیں پہنچتی کتنے ہی عقوبت خانے اور کتنی ہی ان گنت وہ قبریں جن کا کوئی وارث نہیں ۔جن کا کوئی جاننے والا ان کی موت سے با خبرنہیں ہے ۔مگر ایک خدا سب کو دیکھ رہا ہے ۔نا صرف گلے اور شکوے سن رہا ہے بلکہ ان کی ڈھارس بھی باندھ رہا ہے۔ان کی آوازوں پے لبیک بھی کہہ رہا ہے۔
کتنی ہی ماؤں کے چھلنی کلیجے اور انتظار میں بیٹھی بیٹیوں جن کے باپ سچ بولنے کی پاداش میں اٹھا لئے گئے۔ ان کی فریاد سنتا ہو گا اور خیر و شرکا اختیار انسان کو دینے کے باوجود اپنے جبار و قہار ہونے کی  صفت پر اپنے رحمن و رحیم ہونے کی چادر ڈھانپتا ہو گا۔ تو کس قدر رحم کا مظاہرہ کرتا ہو گا۔ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی وہ ستار و عیوب کس طرح ستر پوشی کرتا ہو گا۔ یہ اسی کی ہمت ہے یہ اسی کو زیب دیتا ہے۔ زمین پر تکبر کرتے انسانوں کو دیکھ کر وہ المتکبر کس طرح ان کے لوٹ آنے کا انتظار کرتا ہو گا۔ ایک طرف مظلوم کی داد رسی اور ظالم کا حساب جو کہ اسی کا بندہ ہے مگر سرکش بھی ہے ۔مظلوم کے لئے ہر اسباب فراہم کرناان سب حالات کے باوجود ہر اختیار رکھتے ہوئے ہر چیز پے عدل قائم کرنا اسی کو زیب دیتا ہے ۔کافر اور اس کے  منکر  پر بھی رزق کو تنگ نہ کرنا اسے اس کا صلہ عطا کرنا یہ اسی کا ظرف ہے۔ ۔
اور کتنے ہی دل جلوں کے شکوے اس تک پہنچتے ہوں گے ۔کتنی ہی مرادیں چیختی  ہوں گی ۔اور کتنی ہی بددعائیں ڈری سہمی اسکی بارگاہ میں پڑی ہوں گی۔کتنے مسائل کتنی عدالتوں کی فائلیں وہ دیکھتا ہو گا ۔جو ہر وقت مصروف عمل ہے ۔اور “کُن” کے بعد لوگوں کا ردعمل کس محبت سے برداشت کرتا ہو گا۔طعنے سن کر ان کا جواب اپنی “الرحمن و الرحیم” صفت کے ساتھ دیتا ہو گا۔کائنات اور انسان جیسی حسین تخلیق پر المصور کس قدر خوبصورتی سے مسکراتا ہو گا۔ تو مجھے اپنا انسان ہونا بہت آسان لگتا ہے اور بس ایک ہی سوچ ذہن میں آتی ہے کہ خدا ہونا آساں تھوڑی ہے۔

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *