طلبۂ علی گڑھ سے حضرت شیخ الہند کا خطاب

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی علیہ الرحمہ 1851 میں بریلی اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا محمد ذوالفقار علی ایسٹ انڈیا کمپنی کے محکمہ تعلیم میں بطور استادِ زبانِ عربی ملازم تھے۔ 1857 کے غدر کے دنوں میں آپ اپنے والدین کے ساتھ میرٹھ میں تھے۔ آپ نے 1873 میں دار العلوم دیوبند سے تعلیم مکمل کی اور اگلے سال وہیں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی۔ تدریس کے ساتھ ساتھ اس وقت کے مخصوص سماجی حالات کی وجہ سے آپ میں سیاست میں فعال حصہ لینے کا داعیہ پیدا ہوا۔ ہندوستان میں فرنگی راج کے خلاف آپ نے بہت عملی کام کیا لیکن خدا نے آپ کو ایسی حکمت اور زمانہ شناسی کے ایسے جوہر سے نوازا تھا کہ حکومتِ پنجاب کے محکمہ سی آئی ڈی کے تحریکِ ریشمی رومال سازش کیس میں آپ کو 19 دسمبر 1916 کو مکہ مکرمہ میں گرفتار کرنے کے موقع پر بھی آپ کو سوا تین سال کے لیے جزائر مالٹا میں قید کرنے کے سوا کوئی قرار واقعی سزا نہ دی جا سکی۔ 8 جون 1920 کو آپ کی رہائی عمل میں آئی۔ آپ نے فتویٰ دیا کہ مسلمانوں کو گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت کرنی چاہیے جو حکومت سے عدمِ تعاون اور عدمِ تشدد کے ذریعے سول نافرمانی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ آپ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ قرآنِ پاک کا مشہور و معروف ترجمہ ’’موضحِ فرقان‘‘ آپ کی یادگار ہے جو مولانا شبیر احمد عثمانی کی تفسیر کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ آپ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور مولانا رشید احمد گنگوہی سے بیعت تھے اور آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ صابریہ امدادیہ سے تھا۔ 30 نومبر 1920 کو آپ کا انتقال ہوا اور دار العلوم دیوبند کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ آپ کی وفات سے تحریکِ دیوبند کا حریت و حمیت اور بیدار مغزی کا بے مثال باب ختم ہوا۔ حاکمِ وقت سے مسلح تصادم کے بجائے سیاسی جد و جہد کا راستہ اختیار کرنا آپ کی زندگی کا حتمی اسوہ ہے۔

حضرت شیخ الہند مالٹا سے واپس ہوئے تو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے بعضے لوگوں نے علی گڑھ میں ایک اجلاس کی صدارت کے لیے آپ کو دعوت دی، جسے آپ نے یہ کہتے ہوئے قبول فرمایا کہ اگر میری صدارت سے انگریز کو تکلیف ہوگی تو میں اس جلسے میں ضرور شریک ہوں گا۔

یہاں یہ ذکر ازبس ضروری ہے کہ علی گڑھ یونیورسٹی کا نام آتے ہی ذہن فوری طور پر سید القوم سر سید احمد خاں علیہ الرحمہ کی قائم کردہ مسلم یونیورسٹی کی طرف جاتا ہے اور یہ خیال ہوتا ہے کہ حضرت شیخ الہند کی میزبان یہی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تھی، حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ آپ اصلًا مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے بعض ’’باغی‘‘ لوگوں (جن میں ایک اہم نام مولانا محمد علی جوہر کا تھا) کی سرپرستی اور ان کی مجوزہ ’’مسلم نیشنل یونیورسٹی علی گڑھ‘‘ کی تاسیس کے لیے تشریف گئے تھے اور یہی لوگ اس خطبۂ صدارت کا محرک ہوئے تھے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس مجوزہ مسلم نیشنل یونیورسٹی میں مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی اصلًا مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ہی سے متعلق تھے، اس لیے یہ کہنا قرینِ انصاف ہے کہ اس خطبہ کے ذریعے حضرت شیخ الہند نے انگریز سے آزادی کے لیے دیوبند اور علی گڑھ میں سیاسی قبلہ کی وحدت پیدا کرنے کی ابتدا فرما دی تھی، اور اسی کے نتیجے میں اس جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے ایک دینی جذبے سے تحریکِ آزادی اور قیامِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا جس کے ہاتھوں انجامِ کار فرنگی اقتدار ختم ہونا مقدر ہوا اور برِ عظیم پر چھائی 90 سالہ غلامی کا سیاہ سورج غروب ہوا۔ اس خطبے میں اسی مجوزہ مسلم نیشنل یونیورسٹی کا ذکر آ رہا ہے۔ یہ ادارہ بعد ازاں جامعہ ملیہ کے نام سے معروف ہوا۔

29 اکتوبر 1920 کو ہونے والے اس یادگار اجلاس میں تاسیسی خطبۂ صدارت آپ کی طرف سے مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھا۔ اس خطبے کا جائزہ لیا جائے تو حضرت شیخ الہند کی باریک بینی اور وسعتِ نظر پر تعجب ہوتا ہے کہ آج سے ایک صدی قبل انھوں نے وہ چیز دیکھ لی تھی جو ہمارے بیشتر علما آج تک نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ 100 سال پہلے حضرت نے نونہالانِ وطن کی تعلیم و تربیت کے لیے جو حل پیش کیا تھا اور تعلیم کو جس رخ پر ڈالنے کی تجویز دی تھی اگر اس کو اپنا لیا جاتا تو جدید و قدیم کی جنگ، مدرسہ و سکول کی کشمکش اور دیندار و دنیا دار میں وہ دوریاں پیدا ہی نہ ہو پاتیں جن کی خلیج آج ناقابلِ عبور ہو چکی ہے اور جن کی وجہ سے علمِ دین کی تعلیم کا سماجی و افادی پہلو ختم ہوکر رہ گیا اور اہلِ وطن کو مدارس کے نصاب پر جائز اعتراضات کا موقع ملا۔ علمِ دین کی تعلیم کے سماج سے کٹ جانے کے سبب سے آج اسے فراری ذہنیت کے اور سماج کے لیے ناکارہ لوگ پیدا کرنے کا طعنہ سننا پڑتا ہے۔ حضرت شیخ الہند نے تحریکِ دیوبند کے مطاع کی حیثیت میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے متعلقین کے سامنے نہایت دلسوزی سے ایسی سیکولر تعلیم کا قابلِ عمل نظریہ پیش فرمایا تھا جو ہماری قومی و ملی ثقافت سے ہم آہنگ تھا اور جس میں مرعوب ہوئے بغیر فرنگی زبان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب تھی۔ آج ایک صدی گزرنے کے بعد بھی حضرت شیخ الہند کے اس پالیسی خطبے میں قومی و ملی تعلیمی حکمتِ عملی اور کامیاب سیاسی لائحہ عمل کی رہنمائی کا بیش از بیش سامان موجود ہے۔

ذیل میں اس یادگار خطبے کا متن ضروری تصحیح کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔

۔
حامدا و مصلیًا۔ اما بعد
جلسوں کی عام روش کا اقتضا یہ ہے کہ میں سب سے پہلے اس عزتِ صدارت پر، جو ایک نہایت ہی سرفروشانہ ایثار و شجاعانہ جد و جہد کرنے والی جماعت کی طرف سے مجھ کو مرحمت ہوئی ہے، شکر گزاری اور منت پذیری کا اظہار کروں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ شکریہ چند وقیع اور شاندار الفاظ سے ادا نہیں ہوسکتا اور نہ مجھ کو محض رسمی اور مصنوعی ممنوعیت کی نمائش اس بھاری ذمہ داری کے بوجھ سے سبکدوش کرسکتی ہے جو فی الحقیقت آپ نے اس عزت افزائی کے ضمن میں مجھ پر عائد کی ہے۔ دو چار پھڑکتے ہوئے جملے بلاشبہہ عارضی طور پر مجلس کو محظوظ کرسکتے ہیں، مگر میں خیال کرتا ہوں کہ میری قوم اس وقت فصاحت و بلاغت کی بھوکی نہیں ہے اور نہ اس قسم کی عارضی مسرتوں سے اس کے درد کا اصلی درمان ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے ایک قائم و دائم جوش کی، نہایت صابرانہ ثباتِ قدم کی، دلیرانہ مگر عاقلانہ طریق عمل کی اور اپنے نفس پر پورا قابو پانے کی۔ غرض ایک پختہ کار، بلند خیال اور ذی ہوش محمدی بننے کی۔
میں ہرگز آپ کے لیکچراروں اور فصیح اللسان تقریر کرنے والوں کی تحقیر نہیں کرتا ہوں، کیونکہ میں خوب جانتا ہوں کہ جو چیز سوئے ہوئے دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور زمانہ کی ہوا میں اول تموج پیدا کرتی ہے وہ یہی دعوتِ حق کا غُلغلہ ڈالنے والی زبان ہے۔ ہاں، اس قدر گزارش کرتا ہوں کہ تاوقتیکہ متکلم اور مخاطب کے دل میں سعیِ جمیلہ کا سچا جذبہ، اس کے اخلاق میں شجاعانہ استقامت و ایثار، اس کے جوارح میں قوتِ عمل، اس کے ارادوں میں پختگی اور چستی نہ ہو، محض گرم جوش تقریریں کسی ایسے کٹھن اور بلند پایہ مقصد میں آپ کو کامیاب نہیں کرسکتیں۔

وکیف الوصول الیٰ سعاد و دونہا
قلل الجبال و دونہن حتوف

اے حضرات! آپ خوب جانتے ہیں کہ جس وادیِ پرخار کو آپ برہنہ پا ہوکر قطع کرنا چاہتے ہیں وہ مشکلات اور تکالیف کا جنگل ہے۔ قدم قدم پر وہاں صعوبتوں کا سامنا ہے۔ طرح طرح کے بدنی، مالی اور جاہی مکروہات آپ کے دامنِ استقلال کو الجھانا چاہتے ہیں، لیکن حُفَّتِ الجَنَّۃُ بِالمَکارِہِ کے قائل کو اگر آپ خدا کا سچا رسول مانتے ہیں (اور ضرور مانتے ہیں) تو یقین رکھیے کہ جس صحرائے پرخار میں آپ گامزن ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے راستہ پر جنت کا دروازہ بہت ہی نزدیک ہے۔ کامیابی کا آفتاب ہمیشہ مصائب و آلام کی گھٹاؤں کو پھاڑ کر نکلا ہے اور اعلیٰ تمناؤں کا چہرہ سخت سے سخت صعوبتوں کے جھرمٹ میں سے دکھائی دیا ہے۔

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ۔ (البقرہ)
کیا تم کو خیال ہے کہ تم جنت میں جا گھسو گے اور تمھیں اس طرح کے حالات پیش نہ آئیں گے جو کہ تم سے پہلے لوگوں کو پیش آئے؟ ان کو سختیاں اور اذیتیں پہنچیں اور وہ اس قدر جھڑجھڑائے گئے کہ پیغمبر اور اس کے ساتھ مومنین بول اٹھے کہ خدا کی مدد کہاں ہے؟ یاد رکھو کہ خدا کی مدد نزدیک ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ۔ (آلِ عمران)
کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے بدون اس کے کہ اللہ جانچ کرے تم میں سے مجاہدین اور صابرین کی؟

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے:
الٰم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ* وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ۔ (العنکبوت)
کیا لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ محض آمنّا کہنے پر وہ چھوڑ دیے جائیں گے؟ حالانکہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی ہے۔ تو ضرور ہے کہ اللہ پرکھے گا سچے اور جھوٹے لوگوں کو۔

یہ حق تعالیٰ جل شانہ کی سنتِ مستمرہ ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی و تغیر کو راہ نہیں۔ کوئی قوم اللہ جل شانہ کی محبت اور اس کے راستے پر چلنے کی مدعی نہیں ہوئی جس کو امتحان و آزمائش کی کسوٹی پر نہ کسا گیا ہو۔ خدا کے برگزیدہ اور اولوالعزم پیغمبر جن سے زیادہ خدا کا پیار کسی پر نہیں ہوسکتا، وہ بھی مستثنیٰ نہیں رہے۔ بے شک ان کو مظفر و منصور کیا گیا۔ مگر کب؟ سخت ابتلاء اور زلزالِ شدید کے بعد۔ وہ خود فرماتے ہیں:

حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ۔ (یوسف)
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انھوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انھوں نے کہی تھی اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر ہم نے جسے چاہا بچا لیا اور ہمارا عذاب گناہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا۔

پس اے فرزندانِ توحید، میں چاہتا ہوں کہ آپ انبیا و مرسلین اور ان کے وارثوں کے راستہ پر چلیں اور جو لڑائی اس وقت شیطان کی ذریت اور خدائے قدوس کے لشکروں میں ہو رہی ہے اس میں ہمت نہ ہاریں، اور یاد رکھیں کہ شیطان کے مضبوط سے مضبوط آہنی قلعے خداوندِ قدیر کی امداد کے سامنے تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا۔ (النساء)
ایماندار تو خدا کے راستے میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے راستہ میں، پس تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ بلاشبہہ شیطان کی فریب کاری محض لچر پوچ ہے۔

میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں (جس کو آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں) آپ کی دعوت پر اس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گم شدہ متاع کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔

بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا اٹھو اور اس امتِ مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچاؤ، ان کے دلوں پر خوف و ہراس مسلط ہو جاتا ہے، خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامانِ حرب و ضرب کا۔ حالانکہ ان کو تو سب سے زیادہ جاننا چاہیے تھا کہ خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو خدا کا غضب اور اس کا قاہرانہ انتقام ہے اور دنیا کی متاعِ قلیل خدا کی رحمتوں اور اس کے انعامات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اس قسم کے مضمون کی طرف حق تعالی جل شانہ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا۔ (النساء)
کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو یکایک ان میں ایک فریق ڈرنے لگا آدمیوں سے، خدا کے برابر یا اس سے بھی زیادہ، اور کہنے لگا: اے ہمارے پرورگار، آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا؟ اور کیوں تھوڑی مدت ہم کو اور مہلت نہ دی؟ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا۔ اور تم پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔ کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو اپنے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتائیں، لیکن اہلِ نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے۔

دوش دیدم کہ ملائک در مے خانہ زدند
گِلِ آدم بسرشتند و بہ پیمانہ زدند

ساکنانِ حرم سر عفاف ملکوت
بہ امن راہ نشیں بادۂ مستانہ زدند

شکر ایزد کہ میان من و او صلح فتاد
حوریاں رقص کناں ساغر شکرانہ زدند

جنگ ہفتاد و دو ملت ہمہ را عذر بنہ
چوں نہ دیدند حقیقت رہِ افسانہ زدند

آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان سے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ ہاں، یہ بے شک کہا گیا کہ اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عمومًا دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اڑائیں یا حکومتِ وقتیہ کی پرستش کرنے لگیں، تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لیے جاہل رہنا ہی اچھا ہے۔ اب از راہِ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثرِ بد سے؟ اور کیا یہ وہی بات نہیں جس کو آج مسٹر گاندھی اس طرح ادا کر رہے ہیں کہ: ’’ان کالجوں کی اعلیٰ تعلیم بہت اچھی، صاف اور شفاف دودھ کی طرح ہے جس میں تھوڑا سا زہر ملا دیا گیا ہو۔‘‘

باری تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری قوم کے نوجوانوں کو توفیق دی ہے کہ وہ اپنے نفع و ضرر کا موازنہ کریں اور دودھ میں جو زہر ملا ہوا ہے اس کو کسی بھیکے کے ذریعہ سے علیحدہ کرلیں، آج ہم وہی بھیکا نصب کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ بھیکا مسلم نیشنل یونیورسٹی ہے۔ (یہ ادارہ بعد ازاں جامعہ ملیہ کے نام سے معروف ہوا۔ اضافہ از حافظ صفوان محمد)

مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہ رہی، کیونکہ زمانے نے خوب بتلا دیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور تدبر اور ہوش مندی کے پودے نشو و نما پاتے ہیں اور اس کی روشنی میں آدمی نجاح و فلاح کے راستے پر چل سکتا ہے۔ ہاں، ضرورت اس کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو اور اغیار کے اثر سے بالکل آزاد ہو۔ کیا باعتبارِ عقائد و خیالات کے اور کیا باعتبارِ اخلاق و اعمال کے اور کیا باعتبارِ اوضاع و اطوار کے۔ (ان سب میں) ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں۔

ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں پر غلام پیدا کرتے رہیں، بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہییں بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں اور ان عظیم الشان مدارس کے جنھوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا، اس سے بیشتر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ بغداد میں جب مدرسۂ نظامیہ کی بنیاد ایک اسلامی حکومت کے ہاتھوں رکھی گئی ہے تو اس دن علما نے جمع ہوکر علم کا ماتم کیا تھا کہ افسوس آج سے علم حکومت کے عہدے اور منصب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے گا۔ بلاشبہہ مسلمانوں کی درس گاہوں میں جہاں علومِ عصریہ کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہو، اگر طلبہ اپنے اصول و فروع سے بے خبر ہوں اور اپنے قومی محسوسات اور اسلامی فرائض فراموش کر دیں اور ان میں اپنی ملت اور اپنے ہم قوموں کی حمیت نہایت ادنیٰ درجہ پر رہ جائے تو یوں سمجھو کہ وہ درس گاہ مسلمانوں کی قوت کو ضعیف بنانے کا ایک آلہ ہے۔ اس لیے اعلان کیا گیا ہے کہ ایک آزاد یونیورسٹی کا افتتاح کیا جائے گا جو گورنمنٹ کی اعانت اور اس کے اثر سے بالکل علیحدہ اور جس کا تمام تر نظامِ عمل اسلامی اور قومی محسوسات پر مبنی ہو۔

مجھے ان لیڈروں سے زیادہ ان نونہالانِ وطن کی ہمت بلند پر آفرین اور شاباش کہنا چاہیے جنھوں نے اس مقصد کی انجام دِہی کے لیے اپنی ہزاروں امیدوں پر پانی پھیر دیا اور باوجود ہر قسم کے طمع اور خوف کے وہ موالاتِ نصاریٰ کے ترک پر مضبوطی اور استقلال کے ساتھ قائم رہے اور اپنی عزیز زندگیوں کو ملت اور قوم کے نام پر وقف کر دیا۔ شاید ترکِ موالات کے ذکر پر آپ اس مسئلہ کی تحقیق کی طرف متوجہ ہو جائیں اور ان عامۃ الورود سوالات اور شبہات کے دلدل میں پھنسنے لگیں جو اس بہت ہی اہم و اعظم مسئلے کے متعلق آج کل عمومًا زبان زد ہیں، اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ آپ تھوڑا سا وقت مجھ کو اس تحریر کے سنانے کے لیے عنایت فرمائیں جو میں نے بعض مسائل دریافت کیے جانے پر دیوبند سے تیار کرکے بھیجی تھی۔ (یہاں تحریکِ ترکِ موالات سے متعلق حضرت شیخ الہند کا مشہور فتویٰ سنایا گیا جس کی تائید بعد میں پانچ سو علما نے فرمائی تھی۔)

اب میری یہ التجا ہے کہ آپ سب حضرات بارگاہِ رب العزت میں نہایت صدقِ دل سے دعا کریں کہ وہ ہماری قوم کو رسوا نہ کرے اور ہم کو کافروں کا تختۂ مشق نہ بنائے اور ہمارے اچھے کاموں میں ہماری مدد فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ وصلی اللہ علیٰ خیر خلقہٖ محمد وآلہٖ و اصحابہٖ اجمعین۔

آپ کا خیر اندیش
محمود عفی عنہ

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *