انجان دُنیاؤں کا مسافر ۔۔وائجر1/محمد یاسر لاہوری

وائجر وَن، زمین اور اہلِ زمین کی معلومات کو لئے ستاروں کے درمیان ویران، سیاہ اور ٹھنڈی خلاء میں بھٹکتا ہوا انسانی عقل و شعور کا نمونہ!

آپ میں سے بہت سے افراد یہ بات جانتے ہونگے کے وائجر ون (خلائی جہاز جو کہ اکتالیس سال سے مسلسل خلاء میں سفر کرتے ہوئے زمین سے اکیس ارب کلومیٹر دور جا چکا ہے) اور اس طرح کے دوسرے خلائی جہازوں پر بھی ان کو روانہ کرتے وقت زمین کی بہت سی زبانوں میں (بشمول ہماری اردو اور پنجابی کے) آڈیو پیغامات چھوڑے گئے ہیں جو کہ ایک گولڈن ڈسک میں ریکارڈ ہیں، جنہیں گولڈن ریکارڈ بھی کہا جاتا ہے۔اس ڈسک میں خاص قسم کا میٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔اس میٹریل کے استعمال کی وجہ ان پیغامات کو آنے والے لاکھوں، کروڑوں سالوں تک محفوظ رکھنا ہے۔وائجر ون مشن پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ۔۔۔۔یہ پیغامات اور معلومات اس مقصد کے لئے ہیں کہ اگر یہ جہاز کبھی کسی خلائی مخلوق کے پاس پہنچ پائے تو وہ مخلوق یہ جان لے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا بھی اس کائنات میں رہتا ہے، اب ظاہر بات ہے اپنے علاوہ کسی دوسری مخلوق کا جان کر وہ ہماری زمین پر پہنچنے کی یا رابطہ کرنے کی کوشش ضرور کریں گے اور اگر کہیں وہ ہم سے بڑھ کر طاقتور اور ذہین ہوئے تو زمین پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ (اگر وہ تہذیب یافتہ ہوئے تو)

ان خلائی جہازوں پر آڈیو آوازوں کے ساتھ ساتھ ملکی وے گلیکسی میں ہمارے سولر سسٹم کو ڈھونڈنے کے لئے ایک نقشہ بھی بنایا گیا ہے۔مطلب ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ مشہور سائنس دان اسٹیون ہاکنگ کے مطابق خلائی مخلوقات کو انسانوں کا اپنی موجودگی کے بارے میں آگاہ کرنا اور ان کے لئے خیر سگالی کے پیغامات بھیجنا نہایت بیوقوفانہ کام ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اسٹیون ہاکنگ کے خدشات غلط نہیں ہیں۔ایک ایسا انجان جنگل جس کے خطرات سے آپ بے خبر ہیں۔۔۔کیا وہاں شور و غل مچا کر اپنی موجودگی کا ڈھول بجانا عقلمندی کہلائے گا۔۔۔؟

وائجر وَن خلائی جہاز کو ستمبر 1977ء میں نظام شمسی سے جڑی کچھ جانکاریوں سے پردہ اٹھانے کے لئے امریکہ سے لانچ کیا گیا تھا، سات سو بائیس کلو وزنی یہ خلائی جہاز خود کار سسٹم سے آراستہ ہے۔لیکن وائجر وَن مشن اور اس کے ڈیزائن پر کام 1972ء میں ہی شروع ہو گیا تھا۔Voyager 1 باسٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہمارے نظام شمسی کے ہمسایہ ستارہ (ایلفا سینٹوری) کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ رفتار اس قدر تیز ہے کہ وائجر وَن ایک دن میں اتنا سفر کر لیتا ہے جو کہ زمین اور چاند کے دمیانی سفر کا چار گنا ہے (زمین اور چاند کا درمیانی فاصلہ تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو کلومیٹر ہے) اگر وائجر ون کی رفتار سے پوری دنیا کا ایک چکر لگایا جائے تو صرف چالیس منٹس ہی لگیں گے پوری دنیا کا ایک چکر کاٹنے میں۔

کم و بیش چھہتر ہزار (76000) سال بعد یہ خلائی جہاز ہمارے نزدیک ترین ستارے ایلفا سینٹوری کے پاس پہنچے گا۔ایلفا سینٹوری سٹار سسٹم ہم سے کم و بیش ڈھائی سو کھرب میل دور ہمارے سورج کا ہمسایہ ستارہ ہے۔کیا پتہ تب انسان رہے نا رہے، زمین “خطرات میں گھری اور لڑ کھڑاتی اپنی اس زندگی” کو قائم رکھ پائے یا نہیں، مزید یہ کہ یہ خلائی جہاز صحیح سلامت وہاں پہنچ پائے یا نہیں۔۔۔یہ جہاز چلتا رہے گا، بڑھتا رہے گا جب تک کہ اس کی ٹکر کسی خلائی اوبجیکٹ سے نہیں ہو جاتی۔خلاء میں نمی نہیں جو اسے زنگ لگا دے اور نا ہی ہوا ہے جو اس کی رفتار و چال میں رکاوٹ ڈالے۔کشش ثقل نا ہونے کی وجہ سے آگے بڑھنے کے لئے نا ہی اسے ایندھن کی ضرورت ہے۔
چار دہائیاں (اکتالیس سال) قبل اپنی اُڑان کے دن سے لے کر آج تک یہ خلائی جہاز مسلسل اہل زمین سے رابطہ رکھے ہوئے ہے، لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جہاز کے سینسرز، کیمرے اور مواصلاتی نظام کو چلانے والی بیٹریاں 2025ء تک کام کرنا چھوڑ دیں گی، اس کے بعد انجان راستوں کا مسافر یہ خلائی جہاز زمین سے رابطہ منقطع ہونے کے باوجود حیرتوں بھری اس کائنات میں اپنا سفر جاری و ساری رکھے گا۔

اس کو آگے دھکیلنے اور اس کا رخ موڑنے کے لئے ہائیڈرجین (ہائیڈروجن اور نائٹروجن کا سمپل ملاپ) کو چنا گیا ہے، زمین پر کسی بھی چیز کو آگے بڑھانے کے لئے کشش ثقل کی وجہ سے اس چیز کو مسلسل دھکے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن خلاء میں دیا گیا ایک دھکا صدیوں تک کام آ سکتا ہے اگر اوبجیکٹ کے راستے میں ملبہ یا کسی ستارے سیارے کی گریویٹی رکاوٹ نا بنے۔اس خلائی جہاز میں اس کے آلات کو چالو رکھنے کے لئے پلوٹونیم 238 کو استعمال کیا گیا ہے، جس کی ریڈیو ایکٹوفیشن کی ہیٹ سے تھرمل پاور جنریٹرز بجلی پیدا کرتے ہیں۔اپنی اڑان کے وقت کے مقابلے آج اس کے جنریٹرز لگ بھگ آدھی بجلی پیدا کر رہے ہیں، اسی لئے ناسا نے اس کے کیمروں سمیت مختلف آلات کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔وائجر وَن سے پیغامات کی آمدورفت ریڈیو سگنلز کے ذریعے ہوتی ہے۔(یاد رہے ریڈیو سگنلز کی رفتار بھی روشنی کی رفتار “تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ” کی رفتار کے لگ بھگ برابر ہوتی ہے)

وائجر وَن زمین سے اتنا دور جا چکا ہے کہ اس کا چھوڑا ہوا پیغام ہم تک پہنچنے میں چھتیس گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے، ہماری زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں میسج کریں تو وہ میسج ایک سیکند کے تقریبا پچیسویں حصے میں مطلوبہ نمبر پر پہنچ جاتا ہے جو کہ وائجر کے میسج کی طرح ریڈیو سگنلز ہی کی مرہونِ منت ہے، اب آپ سوچئیے اکیس ارب کلومیٹر کے فاصلے کو کہ۔۔۔وائجر ون کا چھوڑا ہوا میسج ڈیڑھ دن بعد زمین پر پہنچتا ہے۔

وائجر ون انسانی ہاتھ سے بنا بلا شک و شبہ ایک عظیم شاہکار ہے، اس نے ہمیں نظام شمسی (خصوصا مشتری اور زحل) کے بارے میں نئی اور اہم معلومات فراہم کی، اس خلائی جہاز نے ایک نایاب تصویر لی، پوری تصویر میں ایک سیاہ اندھیری چادر پر ایک چھوٹا سا نیلا نقطہ نظر آ رہا ہے۔۔۔جس وقت اس جہاز نے یہ تصویر لی اس وقت یہ جہاز اس نیلے نقطہ سے چھ سو کروڑ کلومیٹر دور تھا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ نیلا نقطہ کیا تھا؟ وہ ہماری زمین تھی، چھ سو کروڑ کلومیٹر دور سے نظر آتا ہمارا سیارہ زمین۔اسی نے ہمیں بتایا کہ مُشتری (Jupiter) کے چاند یوروپا کی سطح زمین کے قطبین کی طرح برف سے ڈھکی ہوئی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اس برف کے نیچے پانی کے سمندر بہ رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان سمندروں میں ہمارے سمندروں کی طرح زندگی پنپ رہی ہو۔وائجر وَن نے ہی ہمیں بتایا کہ مشتری یعنی Jupiter کے چاند آئی او (Io) کی سطح پر نظر آنے والے خوبصورت رنگ دراصل آتش فشانی عمل کا نتیجہ ہیں، آئی او io چاند پر موجود آتش فشاں پہاڑ لاوا اگلتے رہتے ہیں، جس وجہ سے اس کی سطح دور سے بہت ہی خوبصورت اور رنگوں سے مُزيّن نظر آتی ہے۔

وائجر وَن نے ہی ہمیں اس بات سے باخبر کیا کہ مُشتری Jupiter کا نظارہ مشتری سے دور رہ کر ہی کریں تو بہتر ہے کیوں کہ مُشتری Jupiter پر کھڑا ہونے کے لئے سطح موجود نہیں ہے، مشتری پر اترنے والا گیس کے ان عمیق بادلوں میں غرق اور نابود ہو جائے گا جو ہمیں زمین سے رنگ برنگی لائنوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔وائجر وَن نے ہی ہمیں بتایا کہ زحل کے کَڑے یعنی rings در اصل زحل کے ایک چاند (جسے زحل کی کشش ثقل نے توڑ پھوڑ دیا) کی باقیات ہیں، پھر ان باقیات کو زحل کی کشش ثقل نے جکڑ کر اپنے ارد گرد اکٹھا کر کے خوبصورت رنگز کی شکل دے دی اور گھمانا شروع کر دیا۔اسی خلائی جہاز کی بدولت ہم جان پائے کے زحل Saturn کے چاند ٹائٹن Titen پر ہائڈروکاربن کے سمندر موجود ہیں جو ایتھین اور میتھین گیسوں سے مل کر بنے ہیں۔آج پورے ںظام شمسی میں زمین سے ملتا جلتا ماحول اگر کہیں پایا جاتا ہے تو زحل کے چاند ٹائٹن Titen اور انسیلیڈس Enceladus پر ہی موجود ہے۔انسیلیڈس زحل کا چھٹا بڑا چاند ہے، جس کو “نئی زمین” کا نام بھی دیا جا چکا ہے۔یہ دونوں چاند آنے والے کسی دور میں انسانی زندگی کا ٹھکانا بن سکتے ہیں، بشرطیکہ سپیس ٹیکنالوجی آج کی بدولت کہیں آگے بڑھ جائے تب!

وائجر وَن نظام شمسی کی اہم معلومات ہم تک پہنچا کر اور ہم پر اس طرح کے بہت سے احسانات کر کے ایک ایسے سفر پر نکل چکا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے، یہ خلائی جہاز اپنا قدم نظام شمسی سے باہر نکال چکا ہے۔
وہ کیا کہتے ہیں کہ “کسی کو باہر کی ہوا لگ جانا” وائجر وَن کو بھی نظامِ شمسی کے باہر والے ماحول کی ہوا لگ چکی ہے، اب یہ لوٹ کر واپس آنے والوں میں سے نہیں! اگر یہ راستے کی تمام آفتوں اور رکاوٹوں سے بچتا گیا تو ہو سکتا ہے اس کا آخری قدم ہماری نگاہوں کے آخری مرکز (مشاہداتی کائنات کی آخری حد) سے بھی دور ہو۔۔۔۔ہو سکتا ہے آج ہی اسے کوئی خلائی اوبجیکٹ ٹکر مار کر ناکارہ کر دے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسانی ہاتھوں سے بنا یہ شاہکار آنے والی کئی صدیوں تک خلاء کی نئی دنیاؤوں کو سلام کرتا ہوا آگے بڑھتا رہے!!!

محمد یاسر لاہوری
میں لاہور سے ہوں، دینی و دنیاوی علم حاصل کرنے کے بعد کافی عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا رہتا ہوں۔جن میں سے میرا من پسند موضوع معاشرے میں موجود بگاڑ کا سبب بننے والی اہم اور اصل وجوہات پر لکھنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فلکیاتی مضوعات پر بھی میرے قلم کی نظرِ خاص رہتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *