رحم میرے مولا۔۔رحم/ربیعہ فاطمہ بخاری

‌مملکتِ خداداد پاکستان میں یوں تو انسانی جان پہلے بھی کوئی  ایسی خاص قدرو منزلت کی حامل چیز نہیں رہی۔ خود کش دھماکے ہوں یا چوری یا ڈکیتی کی وارداتیں، ٹارگٹ کلنگ ہو یا روڈ ایکسڈنٹ مارا غریب ہی جاتاہے۔ لیکن سانحٕہ ماڈل اور اب ساہیوال میں پیش آیا تازہ ترین سانحہ اپنی مثال آپ ہیں کہ جہاں قانون کے رکھوالےخود قانون شکن بن گئے  بلکہ قانون شکن بہت معمولی لفظ ہے۔ یوں کہنا چاہیے  کہ ظالم درندے بن گٸے۔ بے گناہ، معصوم شہریوں کو یوں سرِ عام سیدھی سیدھی فاٸرنگ کر کے گولیوں سے بھون دیا جانا کوٸی معمولی جرم نہیں۔ اس معصوم فیملی ک تصویریں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، صاف نظر آتا ہے کہ مقتول خلیل کی بیوی مکمل تیاری اور سج دھج کے ساتھ کزن کی شادی میں شرکت کرنے گھر سے نکلی تھی۔ وہ خود اور ننھے بچے جو معجزانہ طور پر اس درندگی سے بچ نکلے شادی پہ جانے کی مکمل تیاری میں دکھائی  دیتے ہیں۔ گھر سے نکلتے ہوئے  ان کے سان و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موت کا فرشتہ قانون کے رکھوالوں کی صورت میں ان کا انتظار کر رہا ہوگا۔ کوئی  اس سانحے کی جو مرضی تاویل پیش کرے ہم عوام الناس کو اس سانحے کے مجرمان کی قرار واقعی سزا چاہیے ۔ ہم کیا جانیں کہ آج خلیل کی فیملی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ہے کل کو ہمارے ساتھ نہیں ہو گا۔۔ ہم کیسے خود کو اس طرح کے ”محافظوں“ کے درمیان ”محفوظ“ تصور کریں۔؟؟؟ بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ بالعموم اور پنجاب پولیس بالخصوص پہلے ہی بد نام ترین فورس تصور کی جاتی ہے۔اور اس طرح کے واقعات ان ک بدنامی کی سیاہی کچھ اور بھی گہری کر کے ان کے منہ پر ملنے کا موجب بنتے ہیں۔
‌اس سانحے کے مقتولین کا دکھ اور صدمہ تو ہر ایک درد مند دل رکھنے والے کیلئے  انتہائی غم و اندوہ کا باعث ہے، پھر ان مقتولین کی والدہ اپنے بیٹے، بہو اور جوانی کی دہلیز پہ کھڑی پوتی کی ناگہانی موت نہیں سہار سکیں اورداعی  اجل کو لبیک کہہ دیا۔ اس خاندان پہ ایک اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔لیکن اس سب سے سوا ان تین معصوموں کا غم ہے جو ان کی خوش بختی کہیے  یا بد بختی کہ اس سانحے میں زندہ بچ گئے۔ نہ سر پہ ماں کا سایہ رہا نہ باپ کی شفقت اور اب ددی کا بچا کھچا آسرا بھی چھن گیا۔ وہ بچے کس کے رحم و کرم پر زندگی گزاریں گے؟؟؟ انہیں شاید دنیاوالوں سے ترس، رحم، ہمدردی اور احساسِ محرومی تو مل ہی جاٸے گا لیکن انہیں ماں باپ کی بے لوث محبت اور دادی کی شفقت کہاں سے ملے گی۔۔ کیا وہ بچے اپنی آنکھوں کے سامنے پیش آئے اس سانحے کو ساری زندگی فراموش کر پائیں گے، کیا ان کے معصوم ذہن اس سانحے کے اثرات سے کبھی نکل پائیں گے؟؟ یہ سانحہ ”نئے پاکستان“ کی نئی نویلی حکومت کیلئے حقیقتاً ایک چیلنج اور ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ سانحٕہ ماڈل ٹاٶن پر ان سب نے بطور اپوزیشن اپنی ساست خوب چمکائی  اب اسی سے ملتا جلتاواقعہ ان کے دورِ حکومت میں پیش آیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتِ وقت اس کیس کو کس طرح حل کرتی ہے، کیا مجرمان کو حقیقتاً کیفرِ کردار تک پہنچا پائیں گے یا محض خانہ پری کی جائے گی۔ اللہ پاک متاثرہ خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرماٸے کہ وہ اس اتنے بڑے سانحے کو جھیل جائیں اور حکومتِ وقت کو توفیق دے کہ مجرمان کو حقیقی معنوں میں کیفرِ کردار تک پہنچا کر انصاف کے تقاضے پورے کر سکے۔۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *