گھٹیا افسانہ نمبر 14۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

تانیہ کی گفتگو میں بہت آسانی، بہت روانی اور بہت استدلال آ گیا ہے. شاید یہ اُس کی علم بینی کا نتیجہ ہے. میں نے اُس کو پہلی مرتبہ ایسی سنجیدگی سے دیکھنے پہ تب مجبور ہوا جب وہ کچن میں سالن بنا رہی تھی، ساتھ ساتھ تفہیم القرآن کی جلد کی ورق گردانی کر رہی تھی، اور ساتھ میں ہیڈ فون کو ایک کان سے لگا کر اُس میں کچھ سن رہی تھی. میرے پوچھنے پہ مجھے یاد ہے کہ وہ کانوں میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی کو سن رہی ہے. لیکن میں حیران تب ہوا جب اُس کی لائبریری کو دیکھنے کا اتفاق ہوا. چھبیس ستائیس سال کی لڑکی جس نے تاریخ ابن خلدون کی تمام جلدیں پڑھی ہیں. شہاب نامہ اور علی پور کا ایلی میٹرک میں پڑھیں تھیں. مختار مسعود کو انٹر میں ہی پڑھ لیا تھا. میں قسم سے حیران رہ گیا تھا. اب جب واپس آیا تو تانیہ خاموش ہونے کی بجائے استدلال اور تجزیہ کی گفتگو کر رہی تھی. وہ سائنس سے زیادہ مرعوب نہیں تھی. دو دن آرام کے بعد تیسرے دن شام کو آسیہ، میں اور تانیہ باہر بالکونی میں کافی پیتے رہے. کیا کیا نہ باتیں ہوئیں. مگر تانیہ وسیع ہو چکی ہے. بتیس سال کی تانیہ ساٹھ سال کی گفتگو کرتی ہے مگر لہجہ انداز آداب وہی بچگانہ ہیں. قہقہہ لگاتی ہے، ہاتھ پہ ہاتھ مارتی ہے، گالی بھی دے لیتی ہے. باتیں چلتی چلتی برطانیہ میں جیرمی کاربین کے سیاسی حالات تک جا پہنچیں. اُس کے موقف میں جو جامع بنیاد ہوتی ہے اُس کو رد کرنا میرے جیسے بین الاقوامی سیاسی کالم نگار کے لیے بھی مشکل بن جاتا ہے. اُس کا استدلال مزاحیہ نہیں ہوتا، مگر وہ سامع کے لیے جارحانہ بھی نہیں ہوتا ہے. آسیہ جو ابھی فِن لینڈ سے فنون لطیفہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کرکے آئی ہے کا تھیسسز بھی ڈسکس ہونا تھا. لیکن ہم کل نتھیا گلی چلے آئے تھے. اب بھیگی سڑک کے کنارے کھوکھے سے چائے پیتے ہوئے جو گفتگو ہوئی. آسیہ نے بتایا ہے کہ معاصر لبرل اور سیکولر معاشرے میں رومانوی پیار و محبت ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں. عمومی خیال یہی ہے کہ یہ جذبات بہت سے ذاتی اور سماجی پریشانیوں کو کم کرتے ہیں. یہ جذبہ لوگوں کو اپنے اندر اور اپنے ارد گرد میں موجود بہت ساری اذیتوں کے دوران راحت کا سبب بنتا ہے. تانیہ نے ساری گفتگو غور سے سنی. میری باتیں اور دلائل بھی وہ خاموشی سے سن رہی ہے. تانیہ نے ایک فقرے میں گفتگو کو بلکل نوے کے زاویے پہ بدل دیا ہے. ہم کھوکھے سے اُٹھ کر ہوٹل کی بالکونی میں آ چکے ہیں. چاچو اسماعیل بھی ہمارے ساتھ گفتگو میں شریک ہیں. لیکن میں ابھی تک تانیہ کے فقرے کے اسرار و رموز میں الجھا ہوا ہوں. کیسی آسانی کیسی بےنیازی اور کیسے جامع انداز میں تانیہ نے کہا تھا کہ “مگر میری تفہیم میں تمام حکمراں نظریات کی طرح 2019 کی محبت سرمایہ دارانہ تسلط کا ایک ذریعہ ہے. لوگوں میں جھوٹی امید پیدا ہوتی کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو بہتر بنانے کے خوابوں کی تعبیر کر لیں گے. یہ بھی تو افیون ہی ہے”.

میں کمرے سے نکل کر برآمدے اور پھر صحن میں آ چکا ہوں. حویلی کا دروازہ کھول کے باہر سے کنڈی لگا دی ہے. ہاتھ میں گیلن ہے. سپورٹس گراؤنڈ سے گزر کے اِن ڈور روم میں گھس آیا ہوں. چوکیدار اور سٹاف گرمی کی وجہ سے باہر لان میں سو رہے ہیں. مجھے ابھی بھی وہاں تماشائی، مہمان خصوصی اور ساجد کا تفاخر سامنے آ رہا ہے. مسلسل دوسری بار جتنے کی خوشی ساجد کے چہرے پہ عیاں ہے. میں گیلن کا ڈھکنا کھول کر پورے کورٹ میں پھیلا چکا ہوں. نیٹ کو بھی تیل سے بھگو دیا ہے. اب واپس دروازے پہ آ چکا ہوں. کمشنر نے ساجد کو گلے میں گولڈ میڈل پہنایا ہے تو اُس کے باپ نے سیٹیاں بجانی شروع کر دی ہیں. پورا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا. پورے کمپلیکس کا لاڈلا بنا ہوا ہے. میں نے کپڑے کی گیند بنا کر اُس کو تیل سے بھگو کر ڈنڈے کے اوپر باندھ دیا ہے. آگ لگا کر احتیاط سے تیل میں لت پت کورٹ کی طرف پھینک دیا ہے. دبے پاؤں بےآواز دوڑ لگا دی ہے. مگر یہ دوڑ اُس طرف نہیں جس طرف سے آیا تھا. بلکہ ان ڈور کمپلیکس کی ملحقہ دیوار کو پھلانگ کر قبرستان میں آ چکا ہوں. قبرستان سے ہوتا ہوں. ناصر کے گھر کی دیوار پھلانگ کر حویلی کے دروازے سے ہوتا ہوا اپنی گلی میں نکل آیا ہوں. میرے چہرے پہ ساجد سے زیادہ تفاخر ہے. مگر رات کے اندھیرے میں نہ تالیاں ہیں نہ سیٹیاں ہیں.

julia rana solicitors london

نادر اور شائستہ کو ہسپتال سے واپس گھر چھوڑنے کے بعد نکر والے ریستوران میں آ بیٹھا ہوں. فیس بک اوپن کی تو سال پرانی پوسٹیں اور تصاویر سامنے آ گئیں. ایک سال ہونے کو آ گیا ہے. زینب کا چہرہ بس ایک بار دیکھا تھا. دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی. لیکن…! میں سوچے جا رہا ہوں سوچے جا رہا ہوں سوچے جا رہا ہوں. کراچی کے ایک شاعر کی سال پرانی دردناک نظم سامنے آ گئی تھی. لیکن ہوا کیا؟ ہم نے دھرنے دئیے، ہم نے احتجاج کیے. ہم روئے. ہم پیٹے. جلسے کیے. تقاریر کیں. لوگ برطرف ہوئے. کئی جیلوں میں گئے. ہزاروں مضامین اور کالم چھپے. لیکن ہوا کیا؟ زینب کے واقعے کے بعد، جنوری 2018 میں زینب ریپ اور قتل کیس سامنے آیا تھا. جون 2018 تک مزید 2321 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و تشدد کے کیس رپورٹ ہوئے. جس میں 56 فیصد اور 44 فیصد بچیاں اور بچے شامل ہیں. سنہ 2017ء میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و تشدد کے نو کیس یومیہ رپورٹ ہوئے جبکہ سنہ 2018ء کے صرف ابتدائی چھ ماہ میں ہی رپورٹ ہونے والے کیسوں کی یہ تعداد 12 فی یوم ہو گئی. میں مسلسل سوچ رہا ہوں. یہ تو میں ایک بچوں کے لیے کام کرنے والی این جی او کے ساتھ وابستہ ہوں اِس لیے مجھے یہ اعداد و شمار معلوم ہیں. باقی عوام بیچاری تو بس اللہ رحم کرے. یار سمجھ نہیں آتی. کیا حکمران طبقات عوام غضب، عوامی تکلیف اور عوامی ردعمل کو سنجیدہ لے رہے ہیں؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتی یہ ہو کیا رہا ہے. کیا حکمران طبقات ہیں ہی نااہل کے وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ سوچنے کے قابل ہی نہیں؟ لیکن اِن کے اپنے ادارے کو چکاچک چل رہے ہیں. سابقہ حکمرانوں کی اپنی سٹیل ملز دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھیں، نہیں چل رہی تھی تو عوام کی سٹیل مل نہیں چل رہی. قابل تو یہ لوگ ہیں. یا پھر ہمارے حکمران طبقات ہوس میں ایسے پاگل ہیں کہ اُن کو اپنے مفاد کے سوا دنیا میں ہوتا ہوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا؟ خیر زینب کو ہم میں سے کئی ایک بھول بھی گئے ہوں گے اور کئی تو ایسے بھی ہوں گے جو کسی زینب کی تلاش میں پھر رہے ہوں

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply