حقیقی تبدیلی منتظر۔۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

پنجاب اور کے پی کے میں موسم سرما کے تعطیلات کے بعد سکول کھل گئے ،لیکن سردی تاحال پورے زور و شور سے جاری ہے ،بلکہ اب تو جنوری دسمبر سے بھی زیادہ سرد ہے،رہی سہی کسر گیس بجلی کی عدم فراہمی نے پوری کردی،بندہ کرے تو کیاکرے؟سمجھ نہیں آتا یہ یکایک آخر ہوا کیا؟سردی میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ کرنے کی بھلا کوئی تک بنتی ہے ،بہانہ سنو جناب دھند ہے پاور سیٹشنز اور گرڈ سیٹشنز ٹرپ کر جاتے ہیں،بھائی اسکا کوئی علاج بھی ہو گا،کیا یورپ امریکہ میں سردی یا دھند نہیں ہوتی ان کے ہاں سرد ترین موسم میں بجلی گیس کی فراہمی کیوں معطل نہیں ہوتی،خیر یہ تویوں ہی ضمناً گیس بجلی کا ذکر آگیا ،بات ہو رہی تھی چھٹیوں کی،ہمارے ہاں ابھی تک کچھ باتیں اور معاملات زندگی دور غلامی کے چل رہے ہیں،انگریز اپنے ساتھ ایک مکمل دفتری نظا م لائے ،جس نے برصغیر کے ہر شعبے زندگی  میں  خاص طور پر سرکاری معاملات کو اپنی  لپیٹ میں لے لیا،اور یہ نظام ابھی تک کسی نہ کسی حد تک چل رہا ہے۔

گو کافی حد تک ہم نے 71 برسوں میں تبدیلی لائی ۔لیکن کچھ شعبے ابھی بھی ایسے ہیں جو فوری اصلاحات کے متقاضی ہیں،جن میں سر فہرست محکمہ تعلیم ،محکمہ پولیس اور عدلیہ شامل ہے،موجودہ حکومت نے چونکہ تبدیلی کا نعرہ لگا یا،انتخابات میں کامیابی حاصل کی لہذا اس حکومت کو ان تین اہم ترین شعبوں سے دور غلامی کی یادگاروں کو ابھی ہمیشہ کے لئے ختم کر ناہو گا،بظاہر یہ نظر نہ آنے والی چیزیں ہیں ،لیکن بنظر غائر ان کا تعلق براہ راست تاج برطانیہ کے نظام سے ہے،سب سے پہلے چھٹیوں کو ہی لیجیے،تعلیمی اداروں اور عدلیہ میں ہر سال موسم گرما اور موسم سرمامیں چھٹیاں ہو تی ہیں،لیکن یہ چھٹیا ں چندشمالی علاقوں کو چھوڑ کر پاکستان کے مقامی موسم سے مطابقت نہیں رکھتیں،برطانیہ میں جولائی اگست کے دو مہینے چونکہ گرم شمار ہوتے ہیں لہذا انگریز نے اپنی سہولت کے لئے ان مہینوں کو ہالی ڈیز یعنی چھٹیوں کے دن بنا دئیے،اس طرح دسمبر میں کرسمس کے موقع پر بھی انگریز سرکار نے اپنی سہولت کے لئے برصغیر میں چھٹیوں کو رواج دیا،گرمی اور سردی دونوں چھٹیوں میں انگریز سول و فوجی افسرا ن اور برصغیر میں تعینا ت برطانوی جج برطانیہ چلے جاتے ،یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انگریز نے گرمی اور سردی کی چھٹیوں کا جو نظام برصغیر میں رائج کیا وہ مقامی نہیں بلکہ اپنی سہولت کے لئے رائج کیا ،جس سے مقامی موسم اور حالات کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

بہتر تو یہ تھا کہ ہم اپنے مقامی موسم اور حالات کے مطابق چھٹیو ں کا نظام بناتے ،جس سے نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے شہریوں کو آسانی ہوتی ،اُلٹا 71سال سے ہم وہ انگریزی نظام تعطیلات اپنائے ہوئے ہیں،اب ہو تا کیا ہے ؟سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں فرق،جس سے بچوں کی نفسیات پرگہرا اثر پڑتا ہے ،نیز اساتذہ کرام کے لئے بھی مسئلہ ،کیونکہ مثال کے طور پر اگر ایک گھر میں میاں سرکاری سکول کا استاد ہے اور بیوی نجی تعلیمی ادارے کی تو چھٹیوں کے حوالے سے دونوں کی مصروفیت میں ٹکراؤ،یہی معاملہ بچوں کے بارے میں بھی ہوتاہے،ابھی حالیہ مثال دیکھ لیں،پنجاب اور کے پی کے میں موسم سرما کی تعطیلات میں اضافہ ہو ا لیکن نجی تعلیمی اداروں نے سرکار کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا،جس سے بچوں ،والدین اور اساتذہ کرام کو خجل خوار ہونا پڑا،رہی عدلیہ تو اسکی چھٹیوں کی کوئی تک سمجھ میں نہیں آتی،اگر ایسا ہی ہے تو ملک کے باقی اداروں کو بھی عدلیہ کی طرح سال میں دو بار تعطیلات دے دیں جائیں ،آخر انہوں نے کیا قصور کیا ہے،ایک ایسا ملک جہاں عدالتیں اور جج حضرات کی کمی ہے،اور لاکھوں کیسز پینڈنگ پڑے ہیں اور کئی بے گناہ ناکروہ گناہوں کی سزا جیلو ں میں پڑ ے بھگت رہے ہیں،وہاں دور غلامی کی اس یادگار کو سرے سے ختم ہو کیوں نہیں کر دیا جاتا،رہی تعلیمی اداروں کی چھٹیاں تو بہتر ہے تعلیمی اداروں میں سموسم کے مطابق سہولیا ت میں اضافہ کیا جائے اور چھٹیاں دینی ہی ہیں تو مقامی موسم کے مطابق نہ کہ انگریز کی 100سال پرانی پالیسی کے مطابق ،کیونکہ اب کسی افسر ،کسی جج یا کسی فوجی نے نہ تو گرمی میں اور نہ ہی کرسمس کرنے برطانیہ جانا ہوتا ہے،قارئین یہ تو ہوئی چھٹیاں۔

اب ذرا ایک نظر ہمارے پولیس کے جھنڈے اور رنگ پہ،برطانیہ کے یونین جیک کے دو رنگوں سرخ اور نیلے پر مشتمل پولیس فلیک اور فیتے ابھی تک چل رہے ہیں اور کسی کی نظر اس جانب نہیں گئی کہ ہمارا سرکاری رنگ سبز ہے نہ کہ یونین جیک کے دو رنگ،71سال سے ہماری پولیس برطانوی رنگ اپنائے ہوئے ہے ،پولیس کی یونیفارم ہو یا کوئی تھانہ ،اعلی افسران کے دفاتر ہوں یا رہائش گائیں ،الضرض ہر جگہ یونین جیک کے سرخ اور نیلے رنگ نظر آتے ہیں،نہ صرف رنگ بلکہ پولیس کا نظام بھی نو آباد یاتی طرز پر جاری و ساری ہے،ساری دنیا میں پولیس کو شہریوں کے لئے فرینڈلی بنادیا گیا ہے لیکن ہمارے ہاں وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب ہے۔جناب حقیقی تبدیلی تب ہی ممکن ہے کہ پاکستان کے ان تین اہم ترین شعبوں سے نوآباد یاتی نظام کو ختم کر کے ایک حقیقی فلاحی ریاست کا رنگ اور نظام دیا جائے،کیونکہ یہ نظام اب مزید چلنے کے قابل نہیں رہا،سب سے پہلے یکساں نصاب اوریکساں نظام تعلیم،اور وہ بھی قومی زبان اردومیں،خاص طور پر ابتدائی تعلیم ،اسکے بعد عدالتی اصلاحات خاص طور پرسستا اور فوری انصاف،اورتیسرا پولیس کو عوام دوست بنانا۔وقت آگیا ہے کہ انگریز کے بنائے اس نظام اور یونین جیک کے رنگ سے جان چھڑالی جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *