سعادت حسن منٹو کا قتل کس نے کیا؟ ۔۔۔۔۔سعید احمد

اٹھارہ جنوری 1955 کو اردو ادب کے ایک عظیم، منفرد، ہنگامہ خیز، جرات مند اور بہادر افسانہ نویس سعادت حسن منٹو اپنے گھر لکشمی مینشن ہال روڈ سے چند قدم کے فاصلے پر میو ہسپتال جاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ منٹو کی موت بہت سے لوگوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے متوقع تھی، ممبئی میں عصمت چغتائی، اشوک کمار، اداکار شیام، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی اس کی صحت کے بارے میں فکر مند تھے اور جانتے تھے کہ وہ تیزی سے موت کی جانب سفر طے کررہا ہے۔ منٹو کی موت پر لوگوں نے ادب کے قارئین سے دکھ، غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک مذمتی بیان دیا کہ منٹو کے بارے میں ان کے دوستوں کی بے اعتنائی تو ایک طرف حکومت کی لاتعلقی کی بھی مثال نہیں ملتی۔ منٹو یقیناً اپنے علاج کے لیے حکومتی تعاون یا مدد قبول نہ کرتا لیکن منٹو کو بالآخر اس کے دوستوں نے اور خاص طور پر ترقی پسندوں نے قتل کردیا۔ ہاں منٹو کو مارا گیا، منٹو اپنی طبعی موت نہیں مرا۔ اس کے ساتھ شراب پی کر شہر بھر میں شہرت حاصل کرنے والوں نے اس کو مار کر دم لیا۔ اس کی عمر کیا تھی، صرف 44 برس اور اس نے دہلی ریڈیو سٹیشن کیلئے 100 ریڈیو ڈرامے لکھے، افسانوں کے درجنوں مجموعے تحریر کیے۔ فلمیں لکھیں اور سعادت حسن منٹو کا ایک بہت بڑا ادبی کارنامہ “گنجے فرشتے” ہے۔ جس سے اس نے اپنے عہد کی نامور شخصیات قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر ملکہ ترنم نور جہاں، اشوک کمار، نرگس، شیام، میرا جی، دیوان سنگھ مفتون ہر ایسے ادبی خاکے تحریر کیے کہ ان اعلی ادب کے شاہکار خاکوں کو پڑھ کر مکمل شخصیت سے ہماری ملاقات ہوجاتی ہے۔ جو ملک اور معاشرے اپنے ادیب کو نہ بچا سکے، وہ قاتل ہوتا ہے۔ ترقی پسندوں نے اسے بہت زچ کیا۔ اس کو کبھی فحش نگار، جنس پرست، تلذد پسند، لذتیت کا شکار قرار دیا تو کبھی اس کے کردار کی نکتہ چینی کی۔
مجھے افسوس ہے کہ منٹو پر بہت کم کام ہوا لیکن منٹو کے ساتھ ترقی پسندوں کے ساتھ اختلافات پر تحقیق کی ضرورت کی کمی آج بھی بری طرح محسوس ہوتی ہے۔ میرے دوست انیس ناگی جن کی وفات کا مجھے بے حد دکھ ہے نے شاید سعاست حسن منٹو پر سب سے زیادہ کام کیا۔ انہوں نے بہت محنت کے بعد منٹو پر چلنے والے فحاشی کے مقدمات کا تمام ریکارڈ حاصل کرکے ایک کتابی شکل میں شائع کیا اور جس کو پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک تخلیق کار، ایک ادیب کے ساتھ قانون اور انصاف کا کیا رویہ ہے اور انصاف کے تقاضے کسی اعلی درجے پر پورے کیے جارہے ہیں۔ منٹو کے ممتاز مترجم خالد حسن نے اپنے ایک کالم میں احمد راہی کا ایک فقرہ دہرایا ہے کہ منٹو اسی دن مرنا شروع کردیا تھا جب وہ پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ 1967 کا ذکر ہے میں نے منٹو میموریل سوسائٹی بنائی اور پاک ٹی ہاوس کے سامنے اس زمانے میں بی این آر کے آڈیٹوریم میں منٹو کی برسی کا انعقاد کیا تو شہر بھر کے لوگوں کا ردعمل تھا کہ منٹو جو کچھ عرصے کیلئے غائب ہوگیا تھا واپس لاہور اگیا ہے۔
احمد ندیم قاسمی کی صدارت اور بیگم صفیہ منٹو مہمان خصوصی تھیں، بیگم باری علیگ کو سٹیج پر بلانے سے منتظمین اور حاضرین دونوں خوشی محسوس کررہے تھے۔ اسی تقریب سے ایرک اسپرین نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ انجمن ترقی پسند مصنفین نے منٹو کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری اختلاف کو بنیاد بنایا۔ حبیب جالب نے منٹو پر نظم سنائی، افتخار جالب نے منٹو کے آسان افسانے پر مشکل مقالہ پڑھ کر سنایا۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا منٹو ضدی تھا، حکومت سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے ایک افسانے کو فحش قرار دے کر اس پر مقدمہ دائر کردیا۔ منٹو نے ضد میں اکر ایک اور افسانہ لکھا، اس پر مقدمہ دائر کردیا گیا۔ احمد ندیم قاسمی کاخیال تھا کہ اگر حکومت منٹو کے کسی سیاسی افسانے پر مقدمہ دائر کرتی تو منٹو کو چند ایسے یادگار سیاسی افسانے لکھتا، لیکن حکومت نے منٹو کو جنسی افسانوں میں الجھا دیا۔
احمد ندیم قاسمی نے اسی شام اعلان کیا اگر سارے اردو ادب میں سے ہمیں بیس بہترین کہانیوں کا انتخاب کرنا پڑے تو ان مین دس کہانیاں منٹو کی ہوں گی۔ ایک بات سنا کر احمد ندیم قاسمی نے لوگوں کو ورطہ حیرت ذدہ کردیا۔ قاسمی صاحب نے کہا کہ منٹو کی خراب ہوتی ہوئی صحت کے پیش نظر میں نے منٹو کو شراب چھوڑنے کا مشورہ دیا تو اس نے میری طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا دوست بنایا ہے اپنے ضمیر کی جامع مسجد کا امام نہیں۔ مظفر علی سید جیسا تنقید نگار اب ہمیں کہاں سے ملے گا۔ منٹو کے بارے میں لکھتے ہیں کہ منٹو میں جبلت زیست اور جنبت مرگ دونوں بہت شدید تھیں اور آپس میں متصادم، اوپر سے فن کا اصول تخلیق اور اصول تخریب بھی دونوں ان کے یہاں برابر کام کرتے رہتے تھے۔
منٹو صاحب کہا کرتے تھے کہ ادم کا خمیر دو چیزوں سے گندھا ہے شہید اور زہر، منٹو نے زہر تو پچپن سے چکھ لیا تھا۔ جب وہ جلیانوانہ باغ میں بیٹھ کر بھیانک ظلم پر تڑپ اٹھتا، اس کے لکھنے کی میز پر بھگت سنگھ کا مجسمہ تھا۔ اور ایک ٹیلی فون ریسیور جو اس نے ٹیلی فون بوتھ سے توڑا تھا جس کو وہ پیرویٹ کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اس کا تکیہ کلام تھا “تم سب فراڈ ہو” اور ابھی وہ ہائی سکول میں پڑھتا تھا تو اس نے انگریزوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کیلئے افواہیں پھیلانی شروع کیں اور اس کی پھیلائی ہوئی یہ افواہیں جنگ کی اگ کی طرح پورے امرتسر میں پھیل گئی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جلوس نکالا کہ انگریز ایک بڑی کرین لارہے ہیں جس کی مدد سے وہ تاج محل کو اٹھا کر انگلستان لے جائیں گے۔
سعادت حسن منٹو کو اس دنیا سے گئے 64 برس بیت گئے۔ منٹو کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں اس کے ڈرامے سٹیج ہو رہے ہیں۔ انیس ناگی نے منٹو پر ڈاکومنٹری فلم بنائی۔ پاکستان میں سرمد کھوسٹ نے اور حال ہی میں انڈیا میں نندیتا داس نے منٹو پر فلم بنائی، منٹو پر کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہے منٹو کا ادب پھیل رہا ہے۔ دوسری زبانوں میں ان کی کہانیوں کے تراجم ہورہے ہیں لیکن ایک ہم سوال باقی ہے کہ کیا منٹو کے جانے کے بعد پاکستان کے ادبی، سماجی، اخلاقی، انسانی، سیاسی حالات میں کوئی تبدیلی ائی؟
کیا اج بھی “نیا قانون” کا منگو کوچوان حوالات میں بند نہیں، منگو کوچوان ہندوستان میں نیا قانون لاگو ہونے پر خوش تھا، اس نے ایک انگریز کو بندر کی اولاد کہہ کر “نیا قانون” کی خوشی میں بہت مارا، پولیس نے منگو کوچوان کو گرفتار کیا۔ وہ پکارتا رہا کہ ہندوستان میں نیا قانون اگیا ہے۔ پولیس والے اس کو حوالات میں بند کرتے ہوئے کہنے لگے کہ وہی پرانا ہے تم ذرا حوالات میں چلو!
ہر سال سعادت حسن منٹو کی برسی کے موقع پر میانی صاحب قبرستان لاہور میں ان کے عزیزوں، رشتہ داروں، اور دوستوں کے علاوہ وہاں ان سے ملنے کے لیے موذیل، سوگندھی، سلطانہ، ایشر سنگھ، کلونت کور، سکینہ، سہائے، تانگہ چلانے والی کوچوان سب ان کی قبر پر موجود ہوتے ہیں۔ اور ان کو یاد کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ جب آپ کہانیاں لکھا کرتے تھے تب شہر میں طوائفوں کی تعداد اتنی نہیں تھی، منٹو صاحب اب آپ قبر کے چور دروازے سے نکل واپس اجائیں۔
سعادت حسن منٹو کے قتل کی ایف ائی ار کون درج کرائے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے۔ منٹو کا ادب “مدعی” ہے اور منٹو کا ادب ہی ایف ائی ار درج کرائے گا۔ منٹو کے پبلشروں کا نام سرفہرست ہے وہ ملک، وہ معاشرے اور افراد جو اپنے بڑے ادیبوں اور تخلیق کاروں کا علاج معالجہ نہیں کرسکتے ان کی زندگیاں نہیں بچا سکتے وہ قتل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ منٹو کا ادب مدعی ہے اور منٹو کا سماج ملزم ہے اور ان ملزموں میں بڑا ملزم وہ پبلیشر ہیں جو اج بھی اس کے ادب کو بھیج کر اپنی جائیدادیں بڑھا رہے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سعادت حسن منٹو کا قتل کس نے کیا؟ ۔۔۔۔۔سعید احمد

  1. بہت اچھی تحریر ہے ۔۔
    سب جانتے ہوئے بھی اسے پڑھتے ہوئے ایک انفرادیت کا احساس ہوا ۔ شائد یہ رائٹر کی منٹو سے محبت کا ثبوت ہے ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *