انسان اور قبر۔۔۔۔روبینہ فیصل

کوئی تین سال پہلے مجھے حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری کا موقع ملا تو میں نے لاکھ کوشش کی کہ میں خود کو اس ماحول میں جذب کر کے مجذوب بن جاؤں اور مجھے وہ روشنی نظر آجائے جس کی تلاش میں لوگ دور دور سے یہاں حاضری دینے آتے ہیں مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور مجھے وہاں تاریکی کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا ور اس کی وجہ رات کا اندھیرا نہیں بلکہ کچھ اور تھا ۔
گو کہ میں دلی میں تین دن قیام کا حال احوال پہلے بھی لکھ چکی ہوں لیکن آج، وہ قبر جو کسی نیک انسان کی ہو تو اسے مزار کہہ دیا جاتا ہے ،کی یاد اچانک سے آگئی۔مزار، برصغیر کی ثقافت اور نفسیا ت کا حصہ ہیں ۔ لوگ مسجدوں میں جائیں یا نہ جائیں مزاروں پر باقاعدگی سے حاضری دیتے ہیں۔ کچھ میرے جیسے بھی ہیں جو لاہور میں رہنے کے باوجود کبھی داتا صاحب تک نہیں گئے تھے لیکن انڈیا کے اس ٹرپ میں ہوا یہ کہ ساتھ ٹھہرے سیمنار کے مندوبین، جو کینیڈا امریکہ اور یورپ سے تشریف لائے تھے وہ سب نظام الدین اولیا کے مزار پر جانے کا پکا ارادہ کر چکے تھے ان کے بقول اتنی دور آئیں اورمزار پر نہ جائیں یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ۔ سو وہ سوال پیدا نہ ہو ، اس لئے حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ مجھے بھی سب کا ساتھ دینا پڑا ۔ عام انسانوں کی قبروں پر ایک اپنائیت اور سکون کا احساس ہوتا ہے کسی بزرگ یا کسی مغل بادشاہ کی قبریں ہوں تو میں اس سوچ میں گم ہو جاتی ہوں کہ مرنے کے بعد بھی نصیب ایک سا نہیں ہوتا اگرچہ سب ایک مٹی میں مل کر کیڑوں کے پیٹ تک ہی پہنچتے ہیں پھر بھی کہیں سنگ مر مر کی ٹائلیں لگی ہوئی ہیں اور قبروں کو مزار کہہ کر انہیں خوبصورت چادروں سے ڈھکا ہوا ہے اور کہیں کچی قبروں کی مٹی تک چوری ہو جاتی ہے ۔میرا ذہن قبروں میں بھی طبقاتی نظام کی اس تفریق کو نہیں مانتا ، میرا دل تو خیر زندہ انسانوں کے مابین بھی اس تفریق کا سب سے بڑا باغی ہے ۔
ایک بات اوربھی ہے کہ جب مزاروں پر رینگنے والے کیڑوں تک کی شاندار دعوتیں ہو تی رہیں اور باہر انسان کے بچے بھوک سے مر رہے ہوں یا ان کا جسم بیچا جا رہا ہو تو سوال بنتا ہے یا نہیں ؟ چادریں جوان لڑکیوں کے جسم کو ڈھانپنے کی بجائے مزاروں کو ڈھانپ رہی ہوں تو کیا اس نیک بزرک سے پو چھوں جو اس قبر کے نیچے نجانے کب سے مٹی ہو چکا ہے یا اس خدا سے جس نے ایک جیسی مٹی سے ایک جیسے انسان تو بنا دئے مگر قسمتیں الگ الگ بنا دیں بلکہ ساتھ لکھ کے بھیجا کہ اگر تو کینہ پرور، حاسد اور خود غر ض ہے تو جا تجھ پر دنیا کی ساری نعمتیں نچھاور ہوں گی ، دوسروں کے منہ سے چھین کر نوالہ کھانا ،حق مار کر حق ہو کا نعرہ بلند کرنا ۔۔ اور اگر تو کھلے دل سے انسانوں کی مدد کرتا ہے تو تیرادماغ تیرے نصیب اور ہاتھ کی طرح خالی رہے گا۔۔
کالے پیلے ، سکڑے سہمے جوان لڑکیوں کے جسموں کوچادروں سے ڈھکے مزار کے باہر تھڑوں پر چیتھڑوں سے اپنا جسم پھٹی ہو ئی چادر میں چھپانے کی ناکام کوشش کر کے سوتے دیکھا تو ان کی بے نیازی ، خدا جیسی لگی ۔ ان سے خدا بھی بے نیاز تھا اورایسی حالت میں ایسی نیند سو کر وہ خود سے بھی بے نیاز تھیں ۔۔ یہاں حاضری سے پہلے ہم مرزا غالب کے مزار پر بھی جاچکے تھے اور وہاں کچھ عرصہ پہلے گذری بقر عید کی باقیات چارپائیوں کے نیچے یا نالیوں میں بو چھوڑرہی تھیں ، میں نے وہاں قہ کی تھی اور مجھے مرزا غالب کے مزار میں دلچسپی نہ ہو نے کے برابر محسوس ہو ئی تھی ۔ اس سے بھی بری حالت نظام الدین اولیا کے مزار کے باہر جوان جسموں کو ننگے آسمان اور ننگے فرش پر یوں بے کس حالت میں دیکھ کر ہو ئی تھی کیونکہ یہاں بقر عید کی آلائشیں تو صاف ہو چکی تھیں مگر انسانی گوشت ادھر اُدھر ادھ ڈھکا بکھرا ہوا تھا ۔۔جو مجھے بکروں کے باسی گوشت سے بھی  زیادہ سڑاند دیتا محسوس ہوا تھا ۔
مزار کے احاطے میں داخل ہو نے سے پہلے باقی سب ساتھیوں نے مزار پر ڈالنے کے لئے چادریں ،اور اگر بتیاں وغیرہ خریدی اور مجھے بھی تھمادی گئیں ۔میں نے لاکھ کوشش کی میرا دل عقیدت سے بھر جائے ، اور میں اسی عقیدت سے چادر چڑھاوں اور ان سے التجا کروں کہ خدا کے آگے میری فلاں دعا لے جاؤ اور میرے اور رب کے درمیان وسیلہ بن جا ئیں لیکن ایک خیال نے ذہن پکڑ لیاکہ اگر میں یہ چادر باہر لیٹی کسی ایک جوان لڑکی کے جسم پر ڈال دوں تو میرا رب میرےزیادہ نزدیک ہو جائے گا ۔یہ بات کہنے کے لئے میں نے بہت دفعہ حوصلہ کر نا چاہا مگر ساتھ آئے سنئیر رائٹرز جو عقیدت میں لتھڑ ے ہو ئے تھے ، ان کے سامنے میں ایک لفظ بھی نہ بول سکی اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے سب رسومات اس منافقت سے نبھاتی گئی کہ سر سے دوپٹہ بھی سرکنے نہ دیا اورآنکھ میں ایک آنسو بھی آنے نہ دیا ۔ ویسے بھی اب کوئی جذباتی فول کہے تو بہت شرمندگی ہوتی ہے ۔واپسی پرڈھلتی رات اور راہ چلتے لٹیروں سے ڈر کر سب تیز تیز قدم اٹھا رہے تھے ۔۔ا ور ان قدموں کے نیچے کتوں کا جسم آرہا ہے یا انسانی، کسی کو اتنا سوچنے کی نہ فرصت تھی، نہ ہمت اور نہ خواہش ۔۔ بس وہاں سے جلد از جلد نکلنا تھا ورنہ ہماری نقدی اور جیولری کوئی بھی لوٹ سکتا تھا ۔۔ یہ خبر وہیں پر کسی اہلِ دلی والے نے بڑی دیر سے دی تھی ۔
ایک سوال اتنے سالوں سے ساتھ ساتھ اٹھائے پھر رہی ہوں مگر پوچھوں کس سے حضرت نظام الدین اولیا سے یا مرزا غالب سے یا خدا سے یا کسی مُلاسے کہ پتھر میں پڑے کیڑے کو جس رب نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے کیا ان کیڑوں کا رب کوئی اور ہے اور ان بھوک سے پچکے ، چھت سے محروم ،بیمار اور ناتواں جسموں کا تخلیق کار کو ئی اور ہے ؟ جس نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کر رکھا ۔۔ جس نے انسان کو انسان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔۔
سوشلسٹ کہتے ہیں کہ خدا نے قدرتی ذرائع پر سب کا مساوی حق رکھاہے ، اس لئے سب کے درمیان برابری کی تقسیم کرو مارکسزم کا خالق کارل مارکس ، خود سب سے بڑی نا انصافی کا شکار رہا حتی کہ اسکے اپنے بچے غربت کے ہاتھوں ہی مارے گئے تھے۔کیپٹیل داس اور مارکس کی دیگر موٹی موٹی کتابوں سے سوشلزم کو رٹایا تو جا سکتا ہے مگر لاگو نہیں کیا جا سکتا ۔۔ یہ سب علم رکھنے کے بعد بھی انسان ، دوسرے کا استحصال کرتا ہے ۔۔کافر قرار دے دی جاؤں گی مگر پھر بھی کہنے کو دل کرتا ہے کہ خود مختاری کے نقلی نعروں میں چھپا خدا کے ہاتھ وہ ریموٹ کنڑول ہے جس سے ان پتلیوں کی حرکت کنڑول ہو تی ہے ۔ ناحق ہم پر تہمت ہے خود مختاری کی ۔۔
مذہب کو تہذیب سے نکال کر صرف رسومات تک محدود کر دیا گیا ہے اور مختلف نام رکھ چھوڑے ہیں ایک خدا کی کرو تو عبادت ، تراشے بتوں کی کرو تو پوجا پاٹ مگر مذہب میں انسانی تہذیب کا پہلو نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ مذہب نے نہیں دین نے لوگوں کو جکڑ رکھا ہے، دینی لوگوں کی بات تو چھوڑیں ،میں نے بڑے بڑے دہریوں کو خدا سے منکر اور ان دینی رسومات کو نبھاتے دیکھا ہے ۔ ایک دوست کے جواں سال بیٹے کی حادثاتی موت پر جب میں نے کہا اللہ کی مرضی پر صبر کرنا پڑتا ہے اس نے کہا تمھاری یہ بات پڑھ کر مجھے بہت ہنسی آئی ، میں نے کہا جانتے ہو مجھے اس سے بھی زیادہ ہنسی کب آئی تھی جب میں نے تمھارے بیٹے کی نمازِ جنازہ کی خبر پڑھی تھی اور وہ تمھاری طرف سے آنے والے میسج میں تھی کہیں اور سے بھی نہیں ۔۔ ایک اور صاحب ہیں جو خدا کے وجود سے مکمل طور پر منکر ہیں مگر روزے ، رمضان میں ہی رکھتے ہیں یہ کہہ کر کہ میں اپنے شوگر لیول کو آزمانا چاہتا وہں ۔
مذہب کوئی بھی ، خدا کوئی بھی مگر ان سب باتوں سے، کسی بھی دینی عبادت ، کتنی بھی پاک انسان کی قبر ہو، کیا زندہ انسان کی بے بسی سے زیادہ قابلِ توجہ باتیں ہیں ؟ ۔۔۔کیا ایک زندہ انسان کی ضرورت سب سے بڑھ کر اہم نہیں ہو نی چاہیئے ؟باقی تو اللہ ہے ہی ۔ وہ تھا اور رہے گا ۔۔ وہ ہماری عبادتوں کا محتاج نہیں مگر یہ بے بس انسان ہمارے محتاج ضرور ہیں ۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *