میری پسندیدہ دریائے سندھ کی ” پلہ مچھلی۔۔۔۔۔احمد سہیل

مجھے دریائے سندھ { جام شورو } کی ” پلہ مچھلی” بہت پسند ہے ۔ میری ایک خالہ اور ممانی ذائقہ دار پلہ مچھلی بناتی تھیں۔ اس میں بہت کانٹے ہوتے۔ کچھ لوگ اس کو ” ایرانی پلہ” بھی کہتے ہیں۔ پلہ مچھلی کوسندھ میں مچھلیوں کا ” بادشاہ” بھی کہا جاتا ہے۔ پلہ مچھلی ایک بزرگ خواجہ خضر سندھ میں لائے تھے۔ بادشاہ محمد تغلق کو پلہ مچھلی بہت پسند تھی۔ پلہ مچھلی بہت ڈرپوک ہوتی ہے۔ اگر دریا میں پانی کم ہو جائے اور بادلوں میں گرج چمک ہو تو وہ سمت کی طرف بھاگتی ہے۔ پلہ مچھلی جسامت کے لحاظ سے لمبوترا اور نیچے بطنی حصے میں بہت دبا ہوا یا چپکا ہوا ہوتا ہے پلے کے سارے جسم پر سفید چمکدار چھلکے ھوتے ھیں اور وه سلیٹی نظر آتا ہے اپنے چھلوں کی وجہ  سے پلا جب دریا میں ہوتا ہے تو پانی میں کہکشاں جیسے رنگ نمودار ہوتے ہیں.

1930 میں سکھر کے قریب بیراج تعمیر ہونے کے بعد پلا اس کے دروازوں کو پار نہیں کر سکتا تھا جس کی وجہ  سے پلا سکھر سے واپس آتے ماہی گیروں کے ہاتھ لگتا یا پھر جو بچ جاتا وه سمندر میں چلا جاتا 1955 میں جامشورو کے قریب ایک اور بیراج بنایا گیا جس کے بعد پلا جے اس سفر کو پیش نظر رکھتے ہوئے  پلا مخالف سمت میں سفر کرتا ہے کوٹری بیراج کی تعمیر میں ایک زینہ  بنایا گیا ہے لیکن وه بھی کسی فنی طور پر اس قدر ناقص ثابت  ہوا کہ  پلا کوٹری سے آگے نا جا سکا یہاں تک  کہ مصنوعی طریقے سے پلا کو بیراج کی دوسری جانب دھکیلنے سے بھی وه مقصد پورا نہیں ہو سکاہے اس کا نتیجہ یہ  نکلا ہے کہ  کوٹری سے بالائی حصے میں پلا معدوم ہوچکا ہے کوٹری بیراج اور سکھر بیراج کی تعمیر بھی پلا کی نسل کو برقرار رکھنے اور اس اہم غذائی ذریعے کو بڑھانے میں مدد نہ  دے سکا تاھم پانی کے بہاءو میں جو کمی آئی ھے وه اس سلسلے کو تیز کرنے کے لئے کافی ھےسندھ میں راٹلو میان سے لے کر جام شورو اور ضلع ٹھٹہ میں کھارو چھار تک ایک زمانے میں پلہ پکڑنے کی ساٹھ/60 سے زائد جیٹیاں {JETTIE} موجود تھیں۔ دریائے سندھ کے آخری علاقہ پلہ مچھلی کے خزانے سے خالی ہوگیا، ڈیلٹا کی 17 بڑی کریکس میں 6 ہزار سے زائد مچھلی کے نسل کش جال لگا دیئے گئے، پلہ کی آنی دریائے سندھ کے میٹھے پانی تک نہیں پہنچ سکی، سمندر میں ہی پلہ مچھلی کی نسل تباہ ہونے لگی، خطرناک جالوں کیخلاف قانون بے اثر، فشریز افسران اور مچھلی کی نسل کشی کرنے والی مافیا کروڑوں روپے کمانے لگے، ماہی گیر اور پلہ مچھلی کے شوقین مایوسی میں مبتلا ہیں۔ کراچی سے کاجر کریک سے دریائے سندھ کے آخری علاقے کی 17 بڑی کریکس میں 6 ہزار سے زائد مچھلی کے نسل کش جال لگا کر پلہ مچھلی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے، ہر سال جاری مہینوں میں نمکین پانی سے میٹھے پانی کی طرف سفر کرنے والی پلہ مچھلی کے راستوں پر نسل کش جا لگاکر پلہ کی آنی کو میٹھے پانی تک پہنچنے نہیں دیا گیا ہے۔ دریائے سندھ کے نمکین اور میٹھے پانی کے میلاپ سے 70ء کی دہائی تک 50 ہزار ٹن سالانہ پلہ مچھلی ماری جاتی تھی اور اس وقت مکمل آنی والا پلہ 20 روپے فی کس فروخت کیا جاتا تھا، پلہ مچھلی سے بھرپور سمندر اور دریا آہستہ آہستہ غیر فطری طریقوں، بااثر افراد کی لالچ اور محکمہ فشریز کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے آج پلہ مچھلی نایاب ہوگئی ہے۔جو عام آدمی کے کھانے کے بس کی بات نہیں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نسل کش جال فشریز کے افسران کی رضا مندی اور بھاری رشوت کے عیوض پھٹی کریک، دبو کریک، چھان کریک، حجامڑو کریک، ترچھان کریک، سنہڑی کریک، گھوڑو کریک، مل کریک، والڑی ۔اس مچھلی میں کریک، کانیر کریک اور کاجر کریک تک اور دریائے سندھ کے راستوں چھریجا میان، موسیٰ میان، روہڑی میان، آتھرکی میان سمیت متعدد راستوں پر جال لگا کر پیمانے پر پلہ مچھلی کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

کنور زیدی نے لکھا ہے ” المنظر کا خوبصورت منظر ہو اور “پلا”مچھلی کی اشتہا انگیز خوشبو۔ذائقے کے اعتبار سے مچھلیوں کی  ملکہ تصور کی جانے والی یہ مچھلی جس کا حیا تیاتی یا سا ئنسی نام tenualosa ilshaہے۔اس کا شہرہ صرف سندھ تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی بہت پسند کیا جا تا ہے۔اپمے ذائقے اور خوشبو کی طرح اس کی زندگی بھی منفرد نوعیت کی ہے۔یہ مچھلی میٹھے اور کھارے دونوں پا نیوں میں رہتی ہے۔یہ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ کھارے پانی میں گزارتی ہے۔مقامی لوگ اسے طاقتور مچھلی کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ پانی کے دھارے کی مخالف سمت میں سفر کر کے سمندر سے دریا میں داخل ہوتی ہے۔
ایک زمانے میں پلا مچھلی یہ سفر کرتی ہوئی سکھر تک پہنچ جاتی تھی اور اس وقت اس کا وزن 5 کلو تک ہوجاتا تھا۔ مگر اب یہ صرف جامشورو تک ملتی ہے کیونکہ جب سے وہاں پر پل بنایا گیا ہے اب اس کے گیٹوں سے پلا کراس نہیں کر پاتی ہے۔ اب جیسے پانی کا اخراج زیادہ ہو گیا ہے اور ملک کے اندر سیلاب آ چکا ہے تو پانی کے بہاؤ کو آگے سمندر کی طرف چھوڑنے کے لیے جامشورو کے پل کے دروازے کھول دیے گئے ہیں جہاں سے کچھ پلا مچھلی نکل کر سکھر کی طرف روانہ ہو گئی ہے اور کچھ پلا وہاں بھی مل سکتی ہے اور یہ پلا وزن میں زیادہ ہو گی اور اس کی لمبائی بھی بڑی ہو گی اور اس کو کھانے میں بھی زیادہ مزا آئے گا۔ جب دریائے سندھ میں پانی اس مقدار میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ڈیلٹا سے ہو کر سمندر میں گرے تو پلا مچھلی نے سندھ میں رکنے سے منہ موڑ لیا اور پھر آگے کہیں اپنا مسکن تلاش کیا مگر پھر بھی کچھ سمندر میں ملتی تھی۔ اب تو تین سال سے جیسے ہی دریائے سندھ کے پانی کی خوشبو پلا مچھلی کو ملی تو وہ اس طرف لوٹ آئی ہے۔ دریائے سندھ میں پلا جون، جولائی اور اگست تک رہتی ہے پھر واپس سمندر کی طرف لوٹ جاتی ہے اور باقی جو رہ جاتی ہے وہ بھی شکار ہو جاتی ہے۔
پلا مچھلی کو بنگلہ دیش کی قومی مچھلی کا درجہ حاصل ہےاور اسے مغربی بنگال،اڈیسہ،تری پورہ،آسام(بھارت)میں بھی بہت مقبولیت حاصل ہے۔اس کے اندر بڑے تعداد میں باریک باریک کانٹے ہوتے ہیں لہذا اسے کھانے کے لیے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اسے شوق سے کھانے والوں کے لیے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی اور اسے اس طرح پکایا جا تا ہے کہ کانٹے زیادہ سخت نہیں رہ پاتے۔بنگلہ دیش کے تمام بڑے دریاوں میں یہ مچھلی عام طور پر پائی جا تی ہے۔مثلا پدما دریا(زیریں گنگا)،مہگنا(زیریں برہم پرا) اور گوداوری۔تاہم پدما دریا میں پائی جانے والی پلا مچھلی کو بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ لذیذ تسلیم کیا جاتا ہے۔بھارت میں روپ نارائن دریا،گنگا،مہاندی،چھلکا جھیل اور گوداوری دریا میں پائی جانے والی مچھلیاں لذت کے اعتبار سے خاصی شہرت رکھتی ہیں۔پاکستان میں ضلع ٹھٹھہ میں پلا مچھلیاں سب سے زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہیں۔بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بہت سے ہندو خاندان کے لیے یہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے مطلب یہ کہ پوجا پاٹ کے روز یہ لوگ پوجا پاٹ کے دوران بھی یہ مچھلی اپنے دیوی دیوتاوں کو چڑھاتے ہیں۔

اس مچھلی کے بارے میں کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس میں کافی مقدار میں تیل ہوتا ہے جس میں فیٹی ایسڈ(اومیگا3فیٹی ایسڈز)کی حاصی مقدار ہوتی ہے۔اومیگا3فیٹی ایسڈز کے بارے میں حال ہی مہں تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ جانداروں میں کولسٹرول اور انسولین کم سطح پر رکھنے کے ضمن میں معاون ہوتا ہے۔یہ مچھلی بھارت پاکستان اور بنگلہ دہش میں مختلف طریقوں سے پکائی جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسے پکانے کے 50معروف طریقے ہیں۔اسے کم تیل میں آسانی سے تلا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں خود کافی مقدار میں تیل ہوتا ہے۔آج کل یہ حال ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی 80فیصد پلا مچھلی برما سے در آمد کی جاتی ہے۔یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ کراچی،حیدر آباد اور ٹھٹھہ کے ہوٹلوں میں اور سٹکوں کے کنارے فروخت ہونے والی پلا مچھلی دریائے سندھ سے نہیں پکڑی گئی۔کہا جاتا ہے کہ صرف ماہر ملاح ہی مقامی اور در آمد شدہ پلا مچھلی میں فرق کر سکتے ہیں۔”پلہ مچھلی میں کوسٹرول٫ برائے نام ہوتا ہے۔ یہ ریت میں، چولھے پر، گرل، ، سالن ، قورمہ، کوفتے، بریانی، پلاوا، بیک ور باربی کیو کی بنائی جاتی ہے۔آجکل پلہ مچھلی کا سیزن ہے جو اگست سے شروع ہوتا ہے اور مارچ تک رہتا ہے پلہ مچھلی صرف دریائے سندھ میں ہی پائی جاتی ہے اور حیدرآباد/ سندھ، پاکستان میں رہنے والوں کی خاص خوراک میں شامل ہے یہ چونکہ سب سے اعلٰی اور سب سے مہنگی مچھلی ہوتی ہے اس لئے اسے خاص احتیاط سے پکانا ہوتا ہے ویسے تو اس کا سالن بھی بہت لذیذ ہوتاہے”
اجزاء
پلہ مچھلی صاف کی ہوئی دو عدد
خشک ثابت دھنیا ایک ٹیبل اسپون
سفید زیرہ ایک ٹیبل اسپون
سرخ گول مرچ 10 عدد
کٹی ہوئی سرخ مرچیں ایک چمچی
کالی پسی ہوئی مرچ ایک چمچی
نمک حسب ذائقہ { اگر کالا نمک مل جائے تو ذائقہ بہتر ہو جاتا ہے}
اجوائن آدھی چمچی
انار دانہ ایک چمچی
امچور پسا ہوا ایک چمچی
فرائی کرنے کے لئے تیل ،
ترکیب
پہلے مچھلی کو چھیل کر صاف کرلیں اور درمیان سے کھول کر دو حصے کرلیں اب دھوکر نمک لگا کر تھوڑی دیر رکھ دیں اب فرائی پہن میں یا توے پر ثابت دھنیا، زیرہ اور مرچوں کو الگ الگ بھون کر ملالیں اب اس میں کھٹائی اور اجوائن شامل کر کے پیس لیں ۔
اب فرائی پین میں تیل گرم کریں اور ہلکی آنچ پر اندرکی طرف سے مچھلی کو فرائی کریں اسے پلٹیں نہیں جب اچھی طرح فرائی ہوجائے تو اب اسے پلٹ دیں اور باہر کی طرف سے فرائی ہونے دیں اور اسی دوران خشک گرائینڈ کیا ہوا مصالحے کی اس پر تہہ لگادیں اچھی طرح فرائی ہونے پر احتیاط سے اتار لیں ۔
اب املی کی چٹنی میں باریک گول پیاز شامل کر کے گرما گرم تناول فرمائیں ۔
نیز مچھلی پہ لیموں چھڑک کر بھی نوش کیا جا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *