نیچر اور ہم۔۔۔ سیدہ فاطمۃ الزہرا

جب ہم شمالی علاقہ جات جاتے ہیں تو ہمارا دل وہیں کیوں رہ جاتا ہے؟
کیا آپ کو پتا ہے کہ ہمارا اصل مسکن یہ نیچر ہی ہے۔
ہم جسے ویکیشن سمجھتے ہیں یہی ہماری اصل رہنے کی جگہ ہے۔
جب ہم ان خوبصورت مناظر کو آنکھوں کے رستے دل میں جذب کر رہے ہوتے ہیں تو دل کرتا ہے کاش یہیں رک جائیں اور یہاں سے کبھی نہ جائیں۔۔
لیکن اگر ہم یہیں رہنا چاہیں تو؟؟
اگر ہم شہروں کو چھوڑ کہ ادھر ہی آباد ہونا چاہیں تو؟؟؟
ایک لمحے کو پڑھنا بند کریں اور آنکھیں بند کر کے ذرا سوچیں
۔۔۔۔۔۔
نہیں ہو سکتا نا؟
ہم ایک بہت کمپلیکس پزل کے ایک حصے کو چھیڑنے کی بات کر رہے ہیں
ہمارے روزگار کا کیا ہو گا؟
بچے سکول کیسے جائیں گے؟
بیمار ہو گئے تو ہسپتال کیسے آئیں گے؟
کیا ہم دنیا سے کٹ جائیں گے؟
ہم پیچھے رہ جائیں گے
لاہور کراچی اسلام آباد پشاور کوئٹہ تمام بڑے شہروں میں سب کچھ چند قدم پہ ہے۔ یہ feeling of control کیسے چھوڑی جا سکتی ہے؟
کچھ سمجھ نہیں آتا، سب بلینک ہیں نا؟
کیونکہ ہمیں جو زندگی کا script ملا ہے اس میں اسکول، نوکری، شادی، بچے، اور فوت ہونا ہے۔
اس میں کہیں کچھ اور سوچنے کی گنجائش ہی نہیں۔
سو ہم اپنے اپنے سکرپٹ کی لائنیں دہراتے واپس لوٹ آتے ہیں یہ جانے بغیر کہ اپنا دل تو وہیں چھوڑ آئے ہیں..
ہمیں تو قدرت نے ان کھلے میدانوں میں پیدا کیا تھا۔
یہ کنکریٹ کے گھر یہ عجیب سی بلڈنگیں یہ سب تو انسان کی اپنی اختراع ہے
‏انوائرنمنٹل سائیکالوجی (Environmental psychology) بتاتی ہے کہ کس طرح ہمارا رہن سہن ‘habitat’ ہم پہ اثر انداز ہوتا ہے۔۔۔
کتنے بیمار صرف نیچر میں جانے سے ٹھیک ہوئے ہیں کیونکہ جسم اپنے اصل habitat کو پکارتا ہے
روح تڑپتی ہے مگر جسم کے پنجرے میں قید ہے…
کبھی چڑیا گھر میں شیر دیکھے ہیں؟
اس کے مقابلے میں سفاری پارک یا نیشنل جیوگرافک چینل کے ببر شیر؟
دونوں کی دھاڑ اور چال ہی مختلف ہے
کیوں؟
کیونکہ ایک نیچر میں اور دوسرا بیچارا اپنی مرضی کے خلاف ایک کمرے میں بند کیا ہوتا ہے۔
سوچتی ہوں پتا نہیں اگر ہم نیچر میں رہتے تو کیسے دِکھتے؟
ابھی تو ہم چڑیا گھر کے اداس شیروں جیسے نظر آتے ہیں۔
نہ کوئی دھاڑ
نہ کوئی چال
نحیف سی دھاڑ ہے
نزار سی چال ہے…