درویشوں کا ڈیرہ -خواب نامے۔۔۔ تبصرہ:روبینہ یاسمین

کتاب پڑھنے کا صحیح لطف ایک نشست میں پڑھنے میں ہی آتا ہے .یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ ہی کتابیں پڑھنے والے کو اپنے آپ سے ایسا جوڑتی ہیں کہ کتاب مکمل پڑھنے کے بعد ایک اداسی سی ہوتی ہے کہ ختم کیوں ہو گئی .بلا شبہ خالد سہیل اور را بعہ ا لرباء نے یہ خواب نامے تحریر کر کے سماں باندھ دیا ہے اور پڑھنے والا اپنے خوابوں اور ان خواب ناموں میں اتنی مماثلت پاتا ہے کہ کتاب کی رو کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے اور ان ہی گہرے پانیوں میں تیرنے لگتا ہے جہاں دو درویش اپنا تخلیقی مکالمہ کرنے میں مصروف ہیں . یہ کتاب اس لئے بھی منفرد ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان ایک ایسی دوستی والے مکالمے کو رقم کیا گیا ہے جہاں وہ اپنے مرد اور عورت ہونے کو فراموش کر کے اپنی دانش کی بنیاد پر اپنے احساسات ،تجربات اور سوالات کو سانجھا کرتے ہیں .دونوں مرد اور عورت کی ایسی دوستی کے خوا ہاں ہیں جہاں وہ دوست ہوں پر مرد اور عورت نہ ہوں .
جس طرح اس کتاب کو دونوں دوستوں نے جو کبھی نہیں ملے .جن میں سے ایک لاہور اور دوسرا کینیڈا میں ہے .ان کا دن رات الگ ،رہن سہن جدا اور موسم فرق ،کس طرح تخلیق کے سفر کو ساٹھ دن تواتر کے ساتھ خواب نامے لکھ کر آگے بڑھاتے ہیں پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے . درویش اور را بعہ کے خطوط کے سلسلے میں مکالمے ،آپ بیتی ،جگ بیتی ،ادب ،روحانیت ،نفسیات اور دوستی کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں یہ مکالمہ سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافر دوستوں کا مکالمہ ہے .
کتاب میں را بعہ ا لربا نے جس سہولت سے ایک عورت کی سوچ واضح کی ہے پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جو آسان سی باتیں ہر عورت جانتی ہے ،سمجھتی ہے اور محسوس کرتی ہے وہ مرد کیوں نہیں سمجھتا ،سمجھنا نہیں چاہتا یا سمجھ کر نا سمجھ بن جاتا ہے . یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرد اور عورت کے دماغ کی بناوٹ مختلف ہے ،اس لئے وہ ایک ہی چیز کو مختلف انداز سے سمجھتے ہیں لیکن جس طرح اس مظہر کو قاری ان خواب ناموں میں آمنے سامنے مکالمے کی شکل میں دیکھتا ہے ،یہی اس کتاب کی انفرادیت ہے .درویش کو اپنی نیند بھی پیاری ہے کیوں کہ وہ خواب لاتی ہے .ہر رات سونے سے قبل درویش ایک خواب نامہ لکھتا ہے لیکن اپنی نیند کی قیمت پر نہیں .جب درویش کو نیند آتی ہے وہ قلم رکھ کر یا کمپیوٹر بند کر کے سو جاتا ہے .کیوں کہ یہ آج کے زمانے کا درویش ہے اس لئے گمان غالب ہے کہ قلم سے نہیں لکھتا ہو گا .کی بورڈ پر ٹا ئپ کرتا ہو گا .ادھر رابعہ رات کی نیند کے انتظار میں اپنے محسوسات پروتی جاتی ہے .کسی وقت جب نیند غالب آتی ہے تو اسے بھی نہیں پتا چلتا کب لا شعور نے غالب آ کر کیا کیا لکھوا دیا .اگلے روز وہ خود نہیں جانتی یہ کیسے لکھا گیا .
اس تخلیقی مکالمے کی خوبصورتی اس کے بے ساختہ پن اور تسلسل میں ہے .چونکہ دو دوستوں نے دل کی باتیں بر جستگی اور روانی سے کیں ،پڑھنے والا بھی اس روانی ،بے ساختہ پن اور برجستگی کا حصّہ بن جاتا ہے .را بعہ رات کے اختتام پر سحر نمودار ہونے پر اپنے مالک سے راز و نیاز کر کے نیند کی وادی میں اترنا چاہتی ہے .دوسری طرف درویش جو خدا کو نہیں مانتا ،اسے نیند  خود اپنی آغوش میں لینے کے لئے تیار ہوتی ہے ،یوں اس بڑے تضاد کے باوجود دونوں دوست ذہنی سطح پر ایک ہی فریکو ئنسی پر جڑے رہتے ہیں اور ان کے خواب ناموں کا تبادلہ چلتا رہتا ہے .
را بعہ کو مرد و عورت کی علمی و روحانی دوستی محال لگتی تھی ،جب اسے اس مکالمے کا موقع ملا اس نے پوری سہولت سے ایک دانا عورت کی دانش کا بھر پور اظہار کر دیا .
را بعہ مرد کی محبّت پر اعتبار کرنے سے قاصر ہے .اس کی دانست میں مرد رومانس اور سیکس کا فرق نہیں جانتا .مرد کے لئے محبت محض جسمانی لذت کا حصول ہے .جبکہ درویش کا عورت سے رشتہ بنیادی طور پر دوستی کا رہا ہے .اس نے اپنی زندگی میں آنے والی ایک اہم عورت سے سیکھا کہ دوستی کیک ہے اور رومانس اس کی آئسنگ .
درویش کے خیال میں انسانوں کی اکثریت سطحی محبّت کرتی ہے جس میں غصّہ،نفرت، تلخی اور حسد کی آلائشیں ہوتی ہیں ،جب کہ گہری محبّت ایک خوش قسمت اقلیت ہی کر سکتی ہے جس میں دوستی ،امن،سکوں.خلوص اور اپنا ئیت ہوتی ہے . سطحی محبّت را بعہ کر نہیں سکتی تھی اور گہری محبّت را بعہ سےکوئی کر نہیں سکا .
را بعہ کے خیال میں عزت محبت سے بڑی طاقت .بڑا جادو ہے .اگر محبّت عزت کے ساتھ کی جاۓ تو اس جادو کا توڑ ممکن نہیں ،محبّت کا حسن ،سیکس کی سوچ نے تباہ کر رکھا ہے .محبّت کے دو حصّے ہیں .عورت رومانس کے بغیر دوسرے حصے کے لئے آمادہ نہیں ہوتی .مرد کا وقت دینا ،باتیں کرنا ، ساتھ چاۓ کافی پینا ،تعریف کرنا،منانا ،عورت کی خاموشی کو سمجھنا ،یہ سب عورت کا رومانس ہے .عورت براہ راست اپروچ کرنے سے چڑ جاتی ہے جب کہ مرد نے محبّت کا مطلب ہی سیکس سمجھ رکھا ہے جو عورت کو اپنی بے عزتی لگتا ہے .عورت کو ساری عمر رومانس چاہئے ہوتا ہے .اسے یہ مل جائے تو دوسرے حصّے کی تسکین حاصل کئے بغیر بھی ہنسی خوشی زندگی گزا ر لیتی ہے .جب کہ درویش کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی نفسیات مختلف ہے ،بہت سی عورتیں محبّت کی گلی سے ہو کر جنس تک جب کہ بہت سے مرد جنس کی گلی سے ہو کر محبّت تک پہنچتے ہیں .
را بعہ کے لئے اصل اہمیت روح کے ساتھی کی تلاش ہے .روح کے ساتھی کی کشش ،کشش ثقل جیسی ہوتی ہے .انسان ،انسان میں دور رہتے ہوئے بھی جذب ہو رہا ہوتا ہے اور اتنا پرسکون تحلیل ہو رہا ہوتا ہے کہ جدائی روح سے جسم کی ما نند ہوتی ہے .روح کے ساتھی سے ملنے کے بعد کبھی پھر محبّت نہیں ہوتی .
درویش نے سن رکھا تھا کہ انسان کو چالیس سال کی عمر کے بعد نئے تجربے نہیں ہوتے جب کہ کسی بھی تخلیق کا ر کے لئے نیا تجربہ بہت ضروری ہے اور را بعہ سے ملاقات اور خط و کتابت کا سلسلہ ایک نیا تخلیقی تجربہ تھا .را بعہ اس جمود والے خیال سے متفق نہیں تھی .اس کے خیال میں سب الہام کشف و خواب کی طرح اسی عمر میں پھولوں کی طرح کھلنے لگتے ہیں ،ریاضت بھی نہیں کرنی پڑتی .یہ پہلی ریاضتوں کا ثمر ہوتا ہے لیکن یہ سب ایک اقلیت کے ساتھ ہی ہوتا ہے .
درویش ان مرد اور عورتوں کو خوش قسمت گردانتا ہے جن کی آ پس میں دوستی ہو جاتی ہے .اس کی نظر میں دوستی ہر رشتے سے بڑھ کر ہے کیوں کہ وہ معصوم ہوتی ہے .
درویش ،را بعہ کے استفسار پر انسانی رشتوں کے راز پر دو ماہرین نفسیات کی آراء بیان کرتا ہے .سگمنڈ فرائیڈ کا کہنا ہے کہ انسان بنیادی طور پر لذّت پسند اور مسرّت پسند ہے .جس کی زندگی کا مقصد خوشی کا حصول ہے .دوسرے ماہر نفسیات ہیری سٹاک سالیوان کا کہنا ہے کہ انسان مسرت لذت اور خوشی سے زیادہ کسی اور انسان سے ایک خصوصی تعلق .ایک جذباتی رشتہ .ایک ذہنی رفاقت چاہتا ہے .اگر اسے وہ تعلق حقیقت میں نہ ملے تو وہ اسے تصوراتی دنیا میں بنا لیتا ہے جس کی اس کے ارد گرد رہنے والوں کو خبر ہی نہیں ہوتی .ناکام محبّت یا شادی والے بھی ایک دوسرے کو احساس تنہائی کے ڈر سے نہیں چھوڑتے جو کہ انسان کا سب سے بڑا جذباتی دکھ ہے
درویش اس حقیقت سے واقف ہے کہ تخلیقی اقلیت سے تعلق رکھنے والی اگر عورت ہو تو روا یتی لوگ عورت کی عزت ،اس کی عصمت کو بہانہ بنا کر اس کی زندگی ،اس کے فن اور اس کے مستقبل کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں .حقیقت بھی یہی ہے کہ   اس رو یئے کی بنا پر کتنی ہی تخلیقا ت عدم سے وجود میں آنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہیں .گویا معاشرے کی طرف سے عورت کی تخلیق کا اسقاط کر دیا جاتا ہے یا اسے مستقل طور پر بانجھ بنا دیا جاتا ہے تا کہ وہ کوئی تخلیقی کام نہ کر سکے .جب تک عورت کو انسان کے بجاۓ جسم سمجھا جاتا رہے گا یہ طرز عمل جاری رہے گا .
درویش نے زندگی سے سیکھا ہے کہ ایک مرد اور عورت کی ایسی دوستی ممکن ہے جس میں وہ اپنے عورت اور مرد ہونے کو فراموش کر کے صرف اچھے دوست رہ سکیں.درویش نے کئی مغربی اور مشرقی خواتین سے دوستی کی جو کہ دو خاص انسانوں کی دوستی تھی اور جس سے ان کے مرد اور عورت ہونے کا کوئی لینا دینا نہیں تھا .جبکہ را بعہ کو لگتا ہے جس معا شرے میں وہ رہتی ہے وہاں انسان نہیں مرد اور عورت رہتے ہیں جو دوست نہیں ہو سکتے .وہاں عورت کو انسان نہیں ،چیز سمجھا جاتا ہے ،ایسی چیز جو نئی اور کم عمر بھی ہو .
را بعہ سمجھتی ہے کہ ہر انسان کی ایک الگ چابی ہوتی ہے۔جس سے اسکے اندر کا تالا کھلتا ہے۔ورنہ ہم انسان ساری عمر ایک بند انسان کے ساتھ گزار دیتے ہیں اور مطمئن نہ ہونے کا عجب گلہ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کی چابی نہیں ہوتی اور یہ چابی بھی دینے والے نے جس دوسرے انسان کو دی ہوتی ہے کبھی تو وہ آ پکی زندگی میں آ جاتا ہے اور کبھی عمر بھر ایسانہیں ہو پاتا۔اور دو نوں ایک خالی زندگی گزار کر عالم فانی سے کسی اور عالم منتظر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
دو قسم کے انسان ہوتے ہیں باسکٹ اور ڈائپر .باسکٹ وہ ہوتے ہیں جن سے ملنے پر آپ کی قدرتی صلا حیت میں نکھار آنے لگتا ہے .یہ فائدہ مند ہوتے ہیں اور دوست ہوتے ہیں . ڈائپر وہ انسان ہیں جو آپ سے ملتے ہیں تو آپ کی صلاحیتوں کو کھا جاتے ہیں آپ کی فطری قوتوں کو ضا ئع کر دیتے ہیں .یہ لوگ کبھی بھی دوست ثا بت نہیں ہوتے .را بعہ کو لگتا ہے زندگی کے ساتھ ایک ان دیکھی چھلنی لگی ہے اس سے چھننے کے بعد آخر میں اپنی مطابقت کے لوگ ہی باقی رہ جاتے ہیں .
چھوٹی چھو ٹی باتوں پر خیال رکھنے سے دلوں میں جگہ بنتی ہے .جب دلوں میں جگہ بن جاۓ تو کوئی منزل مشکل نہیں رہتی .مستقل مزاجی محبّت میں ہو چاہے محنت میں اس کا اجر ضرور ملتا ہے وقتی طور پر نہ ہی ملے ،پھر بھی مناسب وقت پر کئی گنا کر کے لوٹا دی جاتی ہے –
را بعہ ،درویش کو بتاتی ہے کہ مرد عورت سے کم عمر ہو تو اس محبّت میں شفقت شامل ہو جاتی ہے .مرد کو محبّت کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی ،شفقت بھری محبّت میں انا اور فاصلے کے بجا ئے محبّت برا ئے محبّت ہوتی ہے .اگر مرد بڑ ا ہو تو عورت نچھاور نہیں ہوتی اپنی خوا ہش پوری کروانا چاہتی ہے . را بعہ درویش سے اس کے خوابوں کی بابت پوچھتی ہے جس کا جواب اسے یوں ملتا ہے کہ درویش نے جاگتی آنکھوں سے شعوری طور پر ماہر نفسیات بننے ،ادیب بننے ،دنیا کی سیر کرنے اور بہت سے مرد اور عورت دوست بنانے کے خواب دیکھے .لا شعوری طور پر دیکھے ہوئے خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوئے اور شعوری طور پر دیکھے ہوئے خواب بھی پورے ہوئے .
ساٹھ دنوں پر محیط پچاس خواب ناموں کا سفر تمام ہوا .را بعہ اور درویش نے ایک تخلیقی خواب کو تعبیر کر کے اسے “در ویشوں کا ڈیرہ” نام دیا .یہ نا ممکن سوالوں کے ممکن جواب دیتی کتاب قارئین کے حوالے کر کے درویش اور را بعہ نئے خواب دیکھنے ، نئے بھید سمیٹنے نکل پڑے ہیں .

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *