چاہ۔۔۔۔بتول

کیا ہوا اتنے اداس کیوں بیٹھے ہو ؟
اداس؟۔۔ اداسیاں تو اب شاید مقدر  میں ٹھہر چکیں ۔۔
تمہارے لہجے سے ناامیدی جھلکتی ہے ۔۔کچھ بتاؤ گے نہیں؟
وہ چلا گیا۔۔۔۔۔!
تو بلا لو واپس۔۔ آواز دے کر دیکھو۔۔۔ پلٹ آۓ گا۔۔
آواز۔۔؟۔۔ وہ میری کسی پکار پہ پلٹ نہیں سکتا ۔۔میری ہر آواز۔۔ ہر تڑپ۔۔ ہر پکار۔۔ ہر سسکی بے معنی ہے.
کیا مطلب۔۔؟
مطلب۔۔ وہ جہاں ہے۔۔۔ وہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔۔
اوہ.. مجھے افسوس ہے اس کی موت کا !
اس کی موت۔۔؟۔۔ نہیں! موت تو میری ہوئی  ۔۔ میں ۔۔ جو اس کے ساتھ جڑا تھا ۔۔۔ چند رشتوں کی ڈور کے سہارے۔۔ الگ ہوا تو اس سے جڑا میرا ہر رشتہ مر گیا۔۔
تم شاید اپنے ہوش کھو بیٹھے ہو۔۔ چھوڑو یہ سب باتیں۔۔۔ اسے ہوا کیا تھا۔۔؟
اسے چاہ تھی۔۔ بس چاہ؟
تم واقعی اپنے حواس میں نہیں۔۔۔ کوئی  چاہ سے بھی مرتا ہے کیا۔۔؟
کہا نا۔۔ وہ مرا نہیں۔۔ موت اس کے ساتھ جڑے رشتوں کی ہوئی ۔۔
رشتوں کی موت۔۔؟۔۔میری کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔
ہاں رشتوں کی۔۔ محبت ، دوستی اور خلوص کی۔۔ ان سب رشتوں کو اس کی ایک چاہ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
میں سمجھنے سے قاصر ہوں ۔۔ ان رشتوں سے بڑھ کر کیسی چاہ۔۔؟
یہ ہم بندوں کی دنیا ہے ۔ ۔۔۔ یہاں کے کھیل سمجھنا آسان نہیں۔۔ رشتوں ناتوں سے بڑھ کر بھی ایک چاہ ہے یہاں ۔۔تم نا سمجھ ہو شاید ابھی۔۔
تو تم ہی سمجھا دو۔۔آخراسے ایسی کون سی چاہ تھی کہ واپسی بھی نا ممکن ہو گئی ؟
اچھا۔۔ ! تمہیں واقعی جاننا ہے۔۔ ؟
ہاں۔۔ جاننا ہے ۔۔ کچھ تو بتاو۔۔ ؟
اچھا۔۔ تو سنو۔۔۔اسے چاہ تھی ۔۔

دولت کی۔۔
اور بندے جب دولت اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائیں۔۔۔تووہاں سے واپس نہیں آتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *