تقویت Reinforcement ایک جادو —دوسراحصہ

2 – سرگرمی والی یا Premack Reinforcement —
تقویت کی اس قسم میں ہم بچے / فرد کو کسی سرگرمی کو کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ مثلاً پڑھنے کے بعد کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینا۔ کوئی مطلوبہ گھریلو زمہ داری کا کام نبھانے پر خالہ کے گھر جانے کی اجازت یا سیر کی اجازت۔ کیبل یا ٹیب کی اجازت۔

3 – مادی تقویت (Material Reinforcement) : اس زمرے میں تمام ہی مادی اشیاء آتی ہیں۔ مثلاً کھانے پینے والی اشیاء — پیسے یا کھیلنے والی اشیاء — لکھنے پڑھنے والی چیزیں — روزمرہ استعمال میں آنے والی چیزیں اور اسی قسم کی دوسری اشیاء جو ماہرین کے مطابق کام کی شرح کو بڑھانے کے لئے اور ترغیب کے لئے اسی تقویت سے آغاز کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ مادی تقویت اکثر سب سے طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ تاہم میں اسکے بجائے جب لفظی / فعلی تقویت کو ترجیح دیتی ہوں تو اسکی خاص وجہ یہی ہے کہ ایک تو مادی تقویت پر خرچ آتا ہے دوسرا یہ کہ یہ ہر وقت مہیا بھی نہی ہو سکتی۔اس لئے اگر لفظی \ فعلی تقویت سے کام کی شرح بڑھتی ہے تو یہ سب سے بہتر ہے۔ بسا اوقات میں انتہائی صورتوں میں دونوں تقویتیں اکھٹی پیش کرنے کی ترغیب دیتی ہوں۔ اور کام کی شرح بڑھنے یا مطلوبہ نتائج ملنے پر ہر دفعہ دونوں یعنی مادی + قولی \ فعلی تقویت دی جائے پھر آہستہ آہستہ بتدریج مادی تقویت کم کی جائے پھر عادت کے پختہ ہوجانے پر قولی \ فعلی بھی کبھی کبھار کی حد تک لایا جاسکتا ہے۔ یا ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔
* : مثال —- ایک بچہ اسکول جانے پر راضی نہی آپ اسکو اگر یومیہ دس روپے دے کر اس بات پر راضی کرلیں کہ روز اسکول جانے کی صورت میں تم کو دس روپے ملیں گے۔ اور چھٹی کی صورت نہی ملیں گے یا پھر ٹیب پر ایک گھنٹہ کھیلنے کی اجازت ملے گی۔ نتیجہ ملنے کی صورت بچے کو مادی تقویت کے ساتھ روز فعلی اور لفظی تقویت مل رہی ہے۔ عادت کی پختگی پر مادی یا سرگرمی والی تقویت بتدریج ختم کی جائے اور قولی \ فعلی بھی کبھی کبھار کی حد تک دی جاسکتی ہے۔

بعض ماہرین تقویت کی 2 اقسام میں درجہ بندی کرتے ہیں:
(1) بنیادی تقویت— یہ یہ براہ راست اور فوری بنیادی ضروریات کی تسکین کرتی ہے۔ مثلاً کھانا پینا-
( 2 ) ثانوی تقویت—- یہ براہ راست اور فوری طور پر بنیادی ضرورت یا تسکین کا سامان نہی کرتی۔ مثلاً کھیل , تعریف وغیرہ
ان دو تقویت کے موثر ہونے یا نا ہونے والے عوامل پر والدین کو گہری نگاہ رکھنی پڑے گی ورنہ ممکن ہے تقویت کے استعمال سے فائدہ ہی نا ہو۔

( اگلا حصہ تقویت کے موضوع کا آخری حصہ ہوگا۔ اسکے بعد کرداری مسائل مثلاً ضد , بدتمیزی , نافرمانی وجہ اور حل کے موضوع پر بات ہوگی۔ جڑے رہئے۔ سلامت رہئے )

Avatar
*سعدیہ کامران
پیشہ مصوری -- تقابل ادیان میں پی ایچ ڈی کررہی ہوں۔ سیاحت زبان کلچر مذاہب عالم خصوصاً زرتشت اور یہودیت میں لگاؤ ہے--

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *