حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی/قسط4

حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط3

کائنات کے اس بیکراں  سمندر میں انسان زمین نامی کشتی میں سوار ہے، اب ہماری کوشش ہے کہ کسی طرح زمین جیسی ننھی کشتی سے نکل کر زمان و مکاں کے سمندر میں موجود دوسری کشتیوں تک بھی رسائی حاصل کی جائے، لہٰذا کائناتی سمندر میں جمپ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے لئے حفاظتی اقدامات کرنے ہونگے، لائف بوٹ کا سہارا لینا ہوگا، فی الحال ہمارے پاس انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن نامی ایک ہی لائف بوٹ موجود ہے ، جس پہ حضرتِ انسان سوار ہو کر کائناتی سمندر میں زمینی کشتی کے گرد چکر لگا رہا ہے، اس لائف بوٹ کو زمین سے دُور لے جانے کی کوشش اس خاطر نہیں کی جارہی تاکہ زمین کے قریب رہتے ہوئے ہی کائناتی سمندر کو ٹیسٹ کیا جائے اور سمجھا جائے کہ ہمارے لئے یہ سمندر کتنا خطرناک اور طلاطم خیز ہے، کیونکہ اس پوری کائنات میں زمین ہی ہمارا واحد “سہارا “اور “سیارہ “ہے، سو ہماری کوشش ہےکہ کائناتی تاریکیوں میں غرق ہونے سے پہلے ہم زمین کے قریب رہتے ہوئے کائنات سے دوستی کرنے کی کوشش کریں، مگر کئی دہائیوں سے خلاء پہ تحقیق کے بعد اب لگتا یوں ہے کہ بے رحم کائنات ہم سے دوستی کے مُوڈ میں نہیں بلکہ ہمیں اپنے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر خود ہی کرنی پڑے گی۔زمین کے خلائی کناروں پہ تیرتا یہ اُڑن کٹھولا ہمیں یہ باور کرواتا رہتا ہے کہ کائنات خوبصورت نہیں جتنی دکھائی دے رہی ہے، یہ اپنے اندر بے پناہ تنہائی سموئے ہوئے ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ خلاء میں رہنے والے سائنسدانوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا رہتا ہے جس میں سب سے خطرناک تنہائی کا نفسیاتی اثر ہے۔چونکہ انسان معاشرتی حیوان ہے، جس کامطلب ہے کہ انسان اکیلا پن برداشت نہیں کرسکتا، دوسروں سے میل ملاپ انسانیت کے لئے آکسیجن جیسا کام کرتی ہے، دیگر حیوان اور جاندار اکیلے رہ سکتے ہیں، لیکن انسان اگر اکیلا رہے تو زیادہ عرصہ نارمل نہیں رہ سکتا…. حالانکہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے سامنے پوری دنیا موجود ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہاں رہنے والے سائنسدانوں کی نفسیات پہ تنہائی کے بُرے نتائج ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی و جسمانی بیماریوں کی صورت میں دیکھے گئے ہیں، کیسا محسوس ہوگا جب معلوم ہو کہ نیچے زمین پہ آپ کا پیارا دنیا سے چلا گیا ہے یا آپ کے گھر نئے مہمان کی آمد ہوئی ہے اور آپ کے ابھی گھر جانے میں کئی ماہ باقی ہیں، آپ چاہ کر بھی اپنے پیاروں کو چھُو نہیں سکتے!

کہنے کو تو یہ 400 کلومیٹر کا فاصلہ ہے لیکن واپسی کا سفر کئی ماہ دُور ہے! ایسے جذبات اور احساسات کا سامنا ISS کے رہائشیوں کو عموماًکرنا پڑتا ہے، جب نسل انسانی مریخ کے سفر پہ روانہ ہوگی تو ان میں یہ احساسات کسی حد تک کم اس خاطر ہوجائیں گے کیونکہ مریخ پہ جانے والے باسیوں کو واپسی کی آس نہیں ہوگی، انہیں معلوم ہوگاکہ وہ تمام کشتیاں جلا کر مریخ کی جانب روانہ ہورہے ہیں، لیکن ISS میں موجود سائنسدانوں کو واپسی کی آس ہوتی ہے جس وجہ سے ایسے واقعات ان پہ زیادہ نفسیاتی دباؤ لاتے ہیں۔انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں ہمہ وقت مختلف ممالک کے مختلف شعبوں سے منسلک مختلف زبانیں بولنے والے افراد موجود ہوتے ہیں جس وجہ سے ان کے درمیان ایک نفسیاتی گیپ ہمیشہ رہتا ہے ، انسان اپنے جیسے ماحول میں تو بآسانی ایڈجسٹ کرجاتا ہے لیکن ایسے مختلف تہذیبوں کے mixture میں adjust ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔

چونکہ ISSزیرو گریوٹی experienceکررہا ہوتا ہے لہٰذا وہاں خوشگوار نفسیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں، جیسے سوئچ کو آن آف کرنے میں سائنسدانوں کو مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ خلاء میں آپ اُلٹے ہیں یا سیدھے ہیں اس کی سمجھ نہیں آتی تاوقتیکہ آپ سامنے پڑے کسی کمپیوٹر یا زمین کی جانب نہ دیکھیں، لہٰذا وہاں عموماً انسانی دماغ دھوکا کھا جاتا ہے، اس کے علاوہ ہمیں معلوم ہے کہ کسی چیز کی رفتار کو بھانپنے کے لئے ہم اُس شے کے آس پاس موجود اجسام کی حرکت کو نوٹ کرتے ہیں، مثلاً اگر ٹرین کی رفتار معلوم کرنی ہے تو ہم آس پاس موجود درختوں اور ٹرین کا موازنہ کروا کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ٹرین تیز چل رہی ہے یا آہستہ، یہ درخت اور پہاڑ referencing point کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن خلاء میں ایسا نہیں ہے، وہاں آس پاس کوئی referencing point موجودنہیں ہوتا جس کے ذریعے ہم کسی شے کی رفتار کا اندازہ لگاسکیں۔

یہی وجہ ہے کہ عموماً docking کے وقت جب زمین سے کوئی راکٹ ISS کی جانب آتا ہے تو کمپیوٹر کے ذریعے سائنسدانوں کو اس راکٹ کی رفتار معلوم ہوجاتی ہے لیکن دیکھنے میں انہیں وہ بالکل آہستہ آہستہ ہی چلتا دکھائی دیتا ہے، کمپیوٹر بھی خلاء میں راکٹس کی رفتار اس طرح نوٹ کرتا ہےکہ ریڈار سے لہریں پھینکتا ہے جو راکٹ سے ٹکڑا کر واپس آتی ہیں، ان لہروں کے پھینکے اور واپس آنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا راکٹ کس رفتار سے آرہا ہے،لہٰذا ان experiences سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خلاء میں کسی چیز کی خود سے دُوری اور رفتار کا اندازہ ہرگز نہیں لگا سکتے کیونکہ ہمارا دماغ زمین کی مناسبت سے چلتا ہے اور خلاء میں اکثر دھوکا کھاجاتا ہے۔خلاء میں کشش ثقل کی عدم موجودگی کے باعث دل کی بیماریاں، خون کم بننے کی شکایت، قوتِ مدافعت میں کمی،چہرے کی freshness کا ختم ہونا اور دیگر بیماریوں کا ظہور ہونا عام بات ہوتی ہے جس کے لئے سائنسدان باقاعدہ exercise بھی کرتے ہیں اور ادوایات بھی کھاتے ہیں،اس کے علاوہ ایک اور سنگین مسئلہ balance disorder کی شکل میں دیکھنے میں آتا ہے جب خلاء میں رہنے والے سائنسدان زمین پہ واپس آتے ہیں تو اچانک سے اتنی کشش ثقل کے باعث ان کے لئے بنا سہارے کے چلنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ بھی کچھ exercises کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔

انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں باقاعدہ سپرے کیا جاتا ہے تاکہ کناروں پہ خطرناک فنگس نہ لگ جائے یا کوئی وبا نہ پھوٹ پڑے ، کیونکہ بیکٹیریا اور دیگر خودربینی جاندار ایک انسان سے دوسرے انسان میں بذریعہ سانس باآسانی منتقل ہوسکتے ہیں، اوپر سے ISSجیسا 20 سال پرانا قید خانہ ہوتو جراثیم زیادہ تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں، کچھ سال پہلے ISS سے زمین پہ لائے جانے والے سیمپلز پہ جرثوموں کی 17 مختلف اقسام ہمیں دیکھنے کو ملیں، جو سائنسدانوں کے ساتھ ایک عرصہ وہاں گزار کر آئے ہیں۔پچھلی اقساط میں ہم نے خلائی کچرے کے متعلق بھی بات کی تھی، اگرچہ زیادہ تر خلائی کچرا بہت زیادہ اونچائی پر موجودہے، لیکن 400 کلومیٹراونچائی پہ بھی یہ خلائی کچرا تھوڑا بہت موجود رہتا ہے،اور انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کا اکثر ان سے آمنا سامنا ہوتا رہتاہے،اس کچرے میں زیادہ تعداد قدرتی طور پہ موجود چھوٹےچھوٹے پتھروں کی ہے لیکن ان کے ساتھ ساتھ ناکارہ سیٹلائیٹس کے ٹکڑے اور سیٹلائیٹس کے دیگر آوارہ پُرزے بھی خلائی کچرے کو “رونق “بخشتے ہیں ۔

اگرٹکڑے بڑے ہوں تو یہ سائنسدانوں کے لئے نعمت ہوتے ہیں کیونکہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے آلات فوراً ان کو بھانپ لیتے ہیں اور اسٹیشن کی heightتبدیل کردی جاتی ہے، لیکن اگر بروقت ایکشن نہ لیا جائے تو یہ بڑے ٹکڑے پورے اسٹیشن کو تباہ و برباد کرسکتے ہیں، چھوٹے ٹکڑے جوکہ چند سینٹی میٹر کے ہوتے ہیں یہ پوری سیٹلائیٹ کو تو نہیں تباہ کرسکتے ہیں لیکن اس کے کسی خاص پُرزے کو لازمی خراب کرسکتے ہیں، ان کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ یہ ریڈار پہ detect نہیں ہوپاتے ، ان کی تعداد کھربوں میں ہے، ان میں سے زیادہ تر ISS کے ساتھ ایک ہی direction میں زمین کا چکر لگا رہے ہوتے ہیں، ان سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اسٹیشن کی مخالف سمت سے آکر ٹکرائے تو وہ اسے نقصان پہنچا سکتا ہے، یوں ہمارا واحد خلائی گھر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کھربوں دشمنوں میں ہمہ وقت گھِرا رہتا ہے اور اس متعلق کوئی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ کس وقت کہاں سے کوئی ٹکڑا آکر ٹکرائے اور ایمرجنسی situation پیدا کردے۔

اس اُڑن کھٹولے کی حفاظت کے لئے اس پہ ایک شیلڈ بھی لگائی گئی ہے جو اسے چھوٹے آوارہ پتھروں/ذرات سے بچاتی ہے،زمین سے بھی خلائی کچرے کی ہمہ وقت نگرانی کی جاتی ہے اور اسپیس اسٹیشن کے باسیوں کو اس متعلق update رکھا جاتاہے، لہٰذا ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے ISS میں thrusters (ننھے راکٹس)بھی لگائے گئے ، ایسے مواقعوں پہ ان کو چلا کر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے مدار کو تبدیل کردیا جاتا ہے، کبھی کبھی زیادہ کچرا ہوتو اسٹیشن کی اونچائی 2 کلومیٹر تک بڑھا دی جاتی ہے ، اس عمل کوDebris Avoidance Manoeuvre یعنی DAM بھی کہاجاتاہے،اب تک یہ عمل بیسیوں بار اپنایا گیا ہے اور اسپیس اسٹیشن کو سیریس نقصان سے بچایا گیاہے، خلائی کچرا کس قدر خطرناک ہوتا ہے اس کا اندازہ آپ ایسے لگا سکتے ہیں کہ7 گرام وزنی ذرہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی دیواروں میں آدھا فٹ تک سوراخ کرسکتاہے۔

یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے اگر کوئی بڑا پتھر ٹکرا کر اسے تباہ کردیتا ہے تو اس میں ایمرجنسی EXIT کے طور پر 2 اسپیس کرافٹ ہمہ وقت موجود رہتے ہیں، دونوں اسپیس کرافٹس میں تین، تین سائنسدان سوار ہوسکتے ہیں، اگر کبھی اسپیس اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہونے لگے تو تین منٹ کے اندر اندر یہ خلائی جہاز اسپیس اسٹیشن سے الگ ہوکر زمین کی جانب اپنا رخ کرلیں گے،اور ساڑھے تین گھنٹوں میں زمین پر باحفاظت کرلیں گے ، اس کے علاوہ اگرکسی سائنسدان کو کوئی مہلک بیماری ہوجاتی ہے اور بروقت علاج نہ کرنے کی صورت میں جان جانے کا خطرہ ہے ، اس صورت میں وہ سائنسدان اس اسپیس کرافٹ کو استعمال کرکے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو خیر آباد کہہ سکتا ہے، اگر کبھی انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں آگ لگ جائے اس صورت میں ہدایات ہیں کہ چھ میں سے تین سائنسدان ایک خلائی جہاز استعمال کرکے زمین کی طرف لوٹ آئیں جبکہ بقیہ تین ہر ممکن آگ بجھانے کی کوشش کریں مکمل ناکامی کی صورت میں وہ بھی دوسرے خلائی جہاز کے ذریعے زمین پہ لوٹ آئیں۔

اب تک بیس سالوں میں چار بار ایسا ہوچکاہے کہ سائنسدان اچانک سے سامنے خلائی کچرا آجانے کے باعث انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے بھاگنے کے لئے ان خلائی جہازوں میں گئے ہوں، لیکن خوش قسمتی سے چاروں بار محض الرٹ ہو کر بیٹھے رہے اس خلائی جہاز کو خلائی اسٹیشن سے الگ کرکے زمین پہ نہیں لانا پڑا۔Space walk کے دوران یہ خلائی کچرا سائنسدانوں کے قاتل کا کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ اس کے باعث ان کے اسپیس سوٹ میں سوراخ ہوسکتے ہیں، اگر کوئی ٹکڑا چند انچ بڑا ہو تو وہ مارٹر گولے کی طرح ان کو لگ سکتا ہے ، لہٰذا تمام خلائی ایجنسیز ان ٹکڑوں پہ نظر رکھے ہوئے ہیں، اب تک 22 ہزار ٹکڑے ہر وقت track کیے جارہے ہیں ، ان track شدہ میں سے زیادہ تر انسانی ہاتھوں سے بنی ہوئی سیٹلائیٹس کی باقیات ہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہر اس شے پہ تنقید کرتا ہے جسے وہ اپنے سامنے نہ دیکھ لے، جیسے اُڑنے والا جہاز اپنی پہلی آزمائش سے پہلے تک ایک خواب تھا ، اِن کے بنانے والوں پہ ہنسا جارہا تھا، لیکن انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن ایک ایسی سائنسی حقیقت ہے جس کو آپ آج بھی اپنے سامنے آسمان پہ اُڑتا ہوادیکھ سکتے ہیں، جو سائنس سے نابلد افراد اورسائنسی تحقیقات کو بیک قلم جُنبش رد کردینے والوں کو سوچنے کا موقع دیتا ہےکہ جدید علمی دور میں بھی وہ کس مقام پہ کھڑے ہیں، اس سیریز کے اگلے اور آخری حصے میں ہم اس کے بغیر فیول کے اُڑنے کے mechanismپر بات کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ گھر کی چھت پہ کھڑے ہوکر آپ کیسے اس کا اپنی آنکھوں سے نظارہ کرسکتےہیں!

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *