تقسیم کی کہانی،قسط2

آخر وہ وقت بھی آن پہنچا جب پاکستان کا بننا روزٍروشن کی طرح عیاں ہوگیا۔ہنگامے شروع ہوگئے۔مگر وہ صرف شہروں تک محدود تھے گاؤں دیہات ابھی محفوظ تھے۔میرے دادا ایک ریاست کی فوج کے صوبیدار تھے اور والد صاحب تھانیدار۔ہمارے پاس دو بارہ بور رائفلیں تھی دونوں بیلجئیم کی بنی ہوئیں تھیں۔برچھے بھالے اور تلواريں بھی ہمارے گھر میں تھیں ۔۔۔میرے بڑے بھائی جو شادی شدہ تھے گتکے کے بہت اچھے ماہر تھے۔میرے دادا کے پانچ بیٹے تھے سب ہی ایک دوسرے سے بڑھ کے دلیر اور مردانہ وجاہت کے شاہکار۔جوں جوں نئے ملک کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا توں توں فساد کا زور بھی بڑھ رہا تھا۔ہمارے پاس ایک ریڈیو تھا جس پر سارا گاؤں اکٹھا ہوکے خبریں سنتا۔آخر ایک دن امرتسر کے سکھ مسلم جھگڑے کی خبر آئی جس میں کئی مسلمانوں کی شہادت کی خبر تھی اور بہت سے مکان جلادیےگئے تھے۔دودن بعد دادا جی اور والد صاحب گھر آگئے۔ان کے چہرے ستے ہوئے تھے۔اپنی قوم کا دکھ ان کے چہروں سے عیاں تھا۔دادا جی نے گھر کا قیمتی سامان بندھوا دیا۔سب چھوٹی چھوٹی گٹھڑیوں کی صورت میں تھا۔اور گٹھڑیوں کو گھر کی عورتوں کے سپرد کردیا گیا۔مرد سارے ہتھیار بدست ہوگئے۔

تیسری رات کو ساتھ والے گاؤں میں بلوائی گھس آئے کوئی بارہ بجے کاوقت تھا۔اس دور میں شور شرابا نہیں تھا رات کے وقت آواز بہت دور تک سنائی دیتی تھی۔ہمارے گاؤں سے چھ سات میل کا فاصلہ رہا ہوگا۔میرے چچا والد اور بڑے بھائی تینوں گھوڑیوں پر فوراً ہی اس گاؤں میں پہنچے، جب بلوائیوں نے تین ہتھیاروں کی آواز سنی تو رفو چکر ہوگئے۔مگر تھوڑی سی دیر میں اس گاؤں میں بچوں بوڑھوں اور عورتوں کی تیس لاشیں چھوڑ گئے۔ جب لوگوں کے حواس ٹھکانے آئے تو علم ہوا گاؤں سے پانچ جوان لڑکیاں بھی غائب ہیں۔مسلمان بپھر گئے اور جن دو ہندوؤں پر بلوائیوں کا ساتھ دینے کا شبہ تھا ان کے گھروں کو آگ لگادی۔ان کی عورتوں نے مسلمانوں کے گھروں میں چھپ کے جان بچائی مگر دونوں ہندو مارے گئے۔

اگلے دو دن بہت تناؤ اور کشیدگی میں گزرے۔مسلمانوں نے ہر گاؤں میں ٹھیکری پہرہ دینا شروع کر دیا تھا۔جوان دلیر اور لڑائی بھڑائی کے ماہر مسلمانوں کی ایک ٹیم بن گئی جو چھ گاؤں کے مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ان کے پاس تازہ دم گھوڑیاں ہر وقت تیار رہتیں جب بھی کسی گاؤں میں بلوائیوں کے آنے کی اطلاع ملتی یہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور گاؤں والوں کی مدد کرتے ۔آخر پاکستان کا اعلان کردیا گیا اور ہنگامے شدید تر ہوگئے۔مسلمانوں پر ہندوؤں اورسکھوں نے ہندوستان کی زمین تنگ کردی۔مسلمانوں کی دکانوں کو لوٹا جانے لگا ،فصلوں کو اجاڑنے لگے اور مکان جلادیےگئے۔ہم ابھی تک اپنے گاؤں میں ہی تھے ہمارے گھر کے مکان ایک دوسرے کے پیچھے ایک قطار میں چار تھے ایک میں پانچ عورتوں اور بچوں کو پچھلے مکانوں میں بند کرکے کنڈی لگادی جاتی اور سارے مرد ہتھیار بند ہو کے ساری رات جاگتے۔ریڈیو پر خبریں نشر ہورہی تھیں فلاں جگہ قافلہ لوٹ لیا گیا فلاں جگہ ریل روک کے اتنے لوگ مار دیے گئے۔

آخر ہم نے بھی رخت سفر باندھ لیا۔بچوں اور عورتوں کو دو بیل گاڑیوں میں بھر دیا گیا اور ہمارا سفر شروع ہوگیا۔قریبی ریلوے اسٹیشن ہمارے گاؤں سے انیس میل کے فاصلے پر تھا۔جب ہم گھر سے روانہ ہوئے تو ب52 افراد تھے جن میں بچے بھی تھے ،جوان اور بوڑھے بھی، جوان لڑکیاں شادی شدہ بچوں والی عورتيں اور دو بہت ہی ضعیف عورتيں بھی شامل تھیں۔ہم نے بیل گاڑیوں پر کپڑے ڈالے ہوئے تھے۔کیونکہ ہمارے ہاں پردے کا سخت رواج تھا اور دوسرے بلوائیوں کاخطرہ بھی۔جب ہم نے پانچ چھ میل کاسفر طے کر لیا تو نظروں نے ایسا زہرناک نظارہ دیکھا کہ آج ساٹھ سال بعد بھی مجھے خواب میں وہی نیزوں میں پروئے بچے، پیٹ چاک کی ہوئی عورتيں، نوجوان لڑکیوں کی پستان کٹے عریاں لاشے، جو میرے جیسے دلیر آدمی کو بھی اپنے ہی پسینے میں نہانے پر مجبور کررہی تھیں ۔

ہم نے دس میل لگاتار سفر کرکے ایک ذرا محفوظ جگہ بیل گاڑياں روک دیں۔ اور بچوں کو رفع حاجت کروائی گئی۔ابھی ہم نے دوبارہ سفر کے لیے عورتوں کو سوار کرایا ہی تھا کہ بھاگتے ہوئے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیں، آنے والے سکھ تھے، جو اب راج کرے گا خالصہ اور جو بولے سو نہال ست سری اکال کا نعرہ لگا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *