• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جب درد نہیں تھا سینے میں، تب خاک مزہ تھا جینے میں۔۔۔۔۔نذر محمد چوہان

جب درد نہیں تھا سینے میں، تب خاک مزہ تھا جینے میں۔۔۔۔۔نذر محمد چوہان

لاس اینجلس سے ایک خاتون جرنلسٹ اپنے بیٹے کے ساتھ نیوجرسی آئی ۔ اس کا بیٹا آرکیٹیکٹ ہے وہاں اور اسے ایک مینلو مال پارک ایڈیسن میں ٹھیکہ ملا، جہاں میں Barnes & Noble میں روز موجود ہوتا ہوں ۔ وہ جرنلسٹ بھی میری طرح کتابوں کی بے حد شوقین ۔ اس نے Barnes کی مینیجمنٹ سے کہا کہ  اسے ایسے لوگوں سے ملوایا جائے جو یہاں اکثر کتابیں پڑھنے آتے ہیں ۔ بارنز اینڈ نوبل میں ایک خوبصورت دوشیزہ اسے میرے پاس لے آئی اور کافی اونچی آواز میں  کہا کہ
“This old man comes here daily, whether it raining or snowing..”
یہ تعارف میرے لیے اعزاز سے کم نہیں تھا ۔ اس نے ہاتھ ملایا اور بات چیت شروع کی ۔ پاکستان کا سنتے ہی عمران خان کا تذکرہ کرنے لگی ۔ کہنے لگی کہ  لاس اینجلس میں اپنی پاکستانی دوست ناہید کے ساتھ اس نےLos Angeles Times کے لیے پاکستان کے الیکشن کور کیے ۔ اس نے کہا عمران خان بہت disappointing ہے ، اس کو ایڈمنسٹریشن کا کوئی  تجربہ نہیں ۔ میں نے اسے کہا کہ چونکہ تم لاس اینجلس سے ہو اور ہالی وُڈ بھی کور کرتی ہو تو لگتا ہے تم میں بھی سیتا وائیٹ سے ہمدردی بول رہی ہے ۔ وہ بہت ہنسی ۔ میں نے کہا پاکستانیوں کے پاس اور کوئی چوائس نہیں تھی اور میں نے خود الیکشن سے ایک مہینہ پہلے سوشل میڈیا بلاگنگ سے اس کے لیے زبردست کیمپین کی ۔

پھر میں نے اسے نواز شریف اور زرداری کی حرکتیں  بتائیں  اور ان کا مغرب کی کارپوریشنز کے ساتھ گٹھ جوڑ ۔ میں نے اسے کہا کہ عمران کو کچھ وقت دیں اور میں آپ سے رابطہ میں  رہوں گا اس معاملہ میں ، عمران ایک بہت بڑے انقلاب کی علامت ہے ۔ کارپوریشنز سے بات برنی سینڈرز پر چلی گئی اور اس نے کہا برنی تو بوڑھا ہے سٹھیا گیا ہے ، میں نے کہا جی بلکل میری طرح ۔ وہ ہنسی اور کہنے لگی کے وہ پریکٹیکل بات نہیں کرتا ۔ میں نے کہا  ہر سچ بولنے والا آئیڈیلسٹ ہوتا ہے ۔ وہ یونیورسل ہیلتھ کئیر کی بات کر رہا ہے سیٹھوں سے پیسہ اگلوانے کا کہہ رہا ہے ، کیا یہ درست نہیں ؟

اس نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کے پاس کوئی پلان نہیں ، میں نے کہا ، نیت اور will کی ضرورت ہے پلان خودبخود آ جاتے ہیں اور میں نے پھر عمران کی مثال دی کہ  اس کے پاس تو نہ پلان نہ ٹیم وہ پھر بھی سینگھ پھنسائی کھڑا ہے اور فی الحال تو ۲۲ کروڑ کو امید دلوانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔
گفتگو اس وقت بہت دلچسپ ہو گئی  جب میں نے اس سے اپنا spiritualist ہونے کا تعارف کروایا اور یہ سوال اٹھایا کہ  یہ بتاؤ کہ  ضرورت سے زیادہ پیسہ اکٹھا کرنا کیسے جائز ہے اور کیوں ؟ اس نے فورا ًًً کہا   اچھی زندگی گزارنے کے لیے اور مستقبل کے لیے ۔ میں نے کہا کہ مجھے ضرورت سے زیادہ پیسہ دیکھ کر ہی vomit آتی ہے ۔ اور رہی بات اچھی زندگی کی اور مستقبل کی ، تو کل میرے ساتھ ایک دن گزارو اور سیکھو کہ  زندگی اصل میں کہتے کسے ہیں؟ پھر میں نے اسے پاکستان میں جیو کے ساتھ ایک دن کا حوالا دیا جو ایک پاکستانی صحافی چلاتا ہے ۔ وہ جانتی تھی بہت ہنسی ۔ کہتی تم کیا celebrity ہو ؟ میں نے کہا ہر شخص اپنی  ذات میں سیلیبرٹی ہے

اتنے میں اس کا آرکیٹیکٹ بیٹا اس کے ساتھ لنچ کے لیے آ گیا ۔ ہم بارنز اینڈ نوبل کے اسٹاربکس میں بیٹھے تھے ۔ میں نے کہا آج لنچ میری طرف سے کیونکہ میں چاہتا ہوں آپ کا پیسہ مستقبل کے لیے بچ جائے ۔ اس کے بیٹے نے کہا no no ۔ میں نے کہا تمہاری ماما پیسے سے بڑا پیار کرتی ہے اور میں نفرت ۔ اس نے کہا کہ وہ بھی ۔ میں نے کہا اس پیسے کی ہوس نے میرا ملک تباہ کر دیا ۔ آج میں یہاں ہزاروں میل دور سیاسی پناہ لیے ہوئے ہوں، کیونکہ میں پیسہ کے خلاف سیاسی اور بابوں کے مافیا سے لڑتا تھا ۔ دونوں کے کان کھڑے ہوئے ۔ میں نے ان کو پاک فوج کی سلائیڈ دکھائی  جس میں مجھے غدار کہا گیا صرف اس لیے کہ  میں ان کے راستے میں رکاوٹ تھا ۔

اس نے کہا اگر تم چاہو تو میں لاس اینجلس ٹائمز پر یہ اسٹوری چلاتی ہوں ۔ میں نے کہا نہیں ، میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں میں اپنے ملک کی تضحیک برداشت نہیں کر سکتا ۔ اسی لیے میں اپنے تعارف میں لفظ self exile یا خود ساختہ جلا وطنی کے استعمال کرتا ہوں ۔ میری مافیا کے سوا کسی کے ساتھ کوئی  جنگ نہیں ۔ اور میرے تو ہیرو ڈٹرٹے، مہاتر اور اوبراڈور ہیں جو غریب کی بات کر رہے ہیں ۔

اس کا بیٹا بہت زیادہ متاثر ہوا ۔ وہ ایک دم خاموش ہو گئی ۔ اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ اس نے کہا کہ  ناہید بتاتی ہے پاکستان میں انتہا کی غربت ہے آدھی آبادی دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتی ۔ میں نے کہا ہمیں تو ہر ایک نے لُوٹا ۔ اپنوں نے بھی اور غیروں نے بھی ۔ مغلوں سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی اور اب امریکہ ، چین اور پاکستان کے اپنے بابو اور سیاست دان ۔ وہ بدستور روتی رہی ۔ اور اس کے بیٹے نے مجھے مخاطب کر کے کہا
“Do you have any plan?”
میں نے کہا
“No, but nature certainly have one , and that is set “ON” you may take Imran as a starter or an “appetiser “ of that Divine plan “
خاتون کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ  وہ سنبھل نہیں سکی ، اس نے روتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ظلم کے ہم سب برابر کے شریک ہیں اور مجھے کہا اپنا خیال رکھنا ، پاکستانی سفارت خانے کبھی نہ جانا کہیں تمہارا حال سعودی صحافی جیسا نہ ہو جسے ترکی کی سعودی ایمبیسی میں بُلا کر قتل کر دیا گیا ۔ مزید کہنے لگی گورنر مرفی مجھے جانتا ہے اگر حفاظت کی ضرورت ہو بتانا ۔ میں نے روایتی مسلمانوں کا عقیدہ یہ کہہ کر دہرا دیا کے جو رات قبر میں ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا ۔ یوں ملاقات ایک عجیب غم ، اداسی اور امید پر ختم ہوئی ۔

۲۰۰۹ میں شہباز شریف نے مجھے پنجاب پرائیویٹائزیشن بورڈ کا اضافی چارج دیا اور میں نے مجوزہ لسٹ میں چیف سیکریٹری جاوید محمود سے مشورہ اور اجازت لےکر گورنر ہاؤس اور جی او آر بھی ڈال دیا ۔ اس بات کو اسلام پسند جرنلسٹ انصار عباسی نے دی نیوز کے پہلے صفحہ پر نمایاں جگہ دی ۔ شہباز شریف نے مجھے بلا لیا اور وجہ پوچھی ۔ اندر سے وہ خوش بھی تھا کہ  گورنر سلمان تاثیر ہے اس کی علامتی حکمرانی تو ماند پڑ جائے گی ۔ جعلی مسکراہٹ بھی تھی ۔ میرے سامنے ایک رٹ رکھ دی جو رافع عالم نے کوئی  سٹیزنز فورم کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں کر دی ۔ کہنے لگے اس کیس کو لڑو گے ، میں کہا ایڈوکیٹ جنرل خواجہ حارث لڑے گا ۔ کہنے لگا نہیں فیصلہ واپس لینا ہو گا ۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا کہ  پھر ایسا کریں غریبوں کا گورنر ہاؤس کے سامنے سے پیدل ، سائیکلوں اور رکشوں میں جانے پر پابندی لگا دیں ۔ کیونکہ ان پر غش پڑتے ہیں یہ کھلا تضاد دیکھ کر ، پہلے ہی آپ نے ان کا جینا حرام کیا ہوا ہے اور اوپر سے یہ تعیش والی زندگیاں ہم لٹیروں کی ۔ اور میں چل دیا ، انصار عباسی کو کہا کہ ساتھ دو ، اس نے کہا دفعہ کرو ۔

انصار عباسی نے ایک اور کھیل کھیلا ، فوراًًً  ہی خواجہ شریف ڈاکٹر توقیر اور محی الد ین وانی کے ساتھ مل کر خواجہ شریف قتل کیس سازش گھڑنے میں کامیاب ہو گیا ۔ کاش اسے بھی سائرل المیڈا کی طرح ٹانگا جائے وہ ڈاکٹر توقیر اور وانی کا ایجینٹ تھا جیسے سائرل فواد اور راؤ تحسین کا ۔ آپ نے دیکھا ہو گا جب عمران نے گورنر ہاؤسز کے استعمال پر پابندی لگائی  اور عوام کے لیے انہیں کھولا تو انصار عباسی جیسوں نے تنقید کی ۔ یہ سارے جعلی مولوی منافق ہیں ۔

ہاورڈ کے ایک قانون کے پروفیسر نے کل کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کو بند کر دیا جائے کیونکہ یہ پارٹی لائنز پر تشکیل دی گئی ہے ۔ ریپلیکن گوروں کے حامی ہیں اور لبرل ڈیموکریٹ ، کارپوریٹ ٹھگوں کے تلوے چاٹتے ہیں ۔ شکر ہے ثاقب نثار کو غریبوں کا خیال آیا ۔ کیا ہی اچھا ہو کوئی  میری بھی ڈھائی سال سے پینڈنگ سپریم جیوڈیشل کونسل میں جسٹس فرخ عرفان کے خلاف پیٹیشن پر بھی فیصلہ صادر فرما دیں ۔ فرخ بھی کارپوریٹ ٹھگوں کا وکیل تھا ۔ اس نے بھی نواز شریف کو ۲۲ سالہ پرانے کیس میں تکنیکی بنیادوں پر بری کیا اور اپنا نیم پاگل بھائی  ہانرری قونصل لگوا لیا ۔ ساری ملٹی نیشنل اور ہندوؤں اور یہودیوں کی کمپنیوں کا اسلام پسند وکیل عرفان اینڈ عرفان ہے جس کا فرخ بانی ۔

خدارا انصاف ہوتا دکھائیں ثاقب صاحب ، پھر کوئی آپ ہر انگلی نہیں اٹھائے گا ۔ نیب کو نہ بلائیں کے مجاہد کامران کو ہتھکڑی کیوں لگائی ، پوری سنڈیکیٹ خصوصا ڈاکٹر امجد ثاقب کو بلائیں کے آپ کس اخوت کے تحت ایک چور کا ساتھ دے رہے تھے جس کی قابلیت صرف شہباز شریف کو لڑکیاں سپلائی کرنا تھا ؟

اس وقت کی سپریم کورٹ میں مجھے اپنے کلاس فیلو اعجاز الاحسن پر صرف فخر ہے ۔ اللہ تعالی اس کو جلد از جلد پاکستان کا چیف جسٹس بنائے اور تا حیات اس عہدے پر رکھے اگر پاکستان بدمعاشوں سے بچانا ہے تو  ۔۔ کیا فیصلہ دیا اس نے سنگل بینچ سے ملک ریاض کے خلاف اور پناما میں نواز شریف کے خلاف باقی ججوں کے ساتھ ۔
جب مجھے پچھلے ہفتے کان کی انفیکشن ہوئی تو میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ  میرا کان بند ہے اور میرے دل کی دھڑکن وہاں منتقل ہو گئی ہے ۔ مجھے انفیکش کا خوف نہیں ، دھڑکن کا ہے جسے میں سننا نہیں چاہتا کیونکہ وہ دھڑکتا ہے اس دنیا کے ساتھ ، اس دنیا ۷ ارب باسیوں کے ساتھ ، جس میں ان کا ماسوائے چند ہزار لوگوں کے ان کا استحصال ہو رہا ہے ۔
آئیے جہاں جہاں ممکن ہو اس جنگ میں شامل ہوں ۔ جب بھی میرے لیے حالات پاکستان میں سازگار ہوئے اور میرے اللہ نے چاہا تو میں بھی یہ جنگ آپ کے سنگ لڑوں گا ۔ دعاؤں میں یاد رکھیں ۔ میں آپ سب کے لیے دعاگو ہوں ۔ پاکستان پائندہ باد ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *