مزارات پر شخصیت سازی کی ضرورت۔۔۔میاں جمشید

میری پہلی نظر واقعی میں ہی اس لڑکی پر اچانک سے ہی پڑی تھی مگر میں مانتا ہوں کہ جب تک میں نے اسے مکمل نہیں دیکھ لیا میں اپنی پہلی نظر بھی نہ ہٹا سکا ۔ کھلے بکھرے بال ، خوبصورت چہرہ ، گوری رنگت پر  مکمل کالا اور چست لباس، ننگے سر کے ساتھ وہ جہاں کھڑی تھی وہ جگہ ایسی تو نہ تھی کہ جہاں اس حلیہ میں آیا جائے ۔ اوپر سے پھر ساتھ میں کھڑے کسی شناسا مرد کا ہاتھ پکڑے اسکا یوں کھلکھلانا جہاں مجھے معیوب لگا وہیں پھر بہت معصومانہ بھی ۔ یہی وجہ تھی کہ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا اور سوچتا بھی رہ گیا ۔ کیا سوچا یہ میں آپ کو آگے بتاؤں گا ۔

میرا لاہور آنا ہوا تو یہاں موجود مشہور روحانی ہستی کے مزار پر بھی جانے کا اتفاق ہوا ۔ اوپر بیان کیا گیا منظر مزار کے اندر کا ہے مگر ایسے منظر ہر مزار پر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اکثریت صرف غریب اور ناخواندہ لوگوں کی ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ جن کو دیکھ کر ہمیشہ یہ احساس ہوتا ہے کہ جب اتنی شدت و مستقل مزاجی کے ساتھ یہ یہاں دعا کرنے آتے تو پھر بھی ان کے مسائل میں کمی کیوں نہیں ہوتی ؟ وہاں لوگوں کو صدقہ کی چیزوں کو لپک لپک کر پکڑتے دیکھ کر ، لنگر تقسیم میں کھانوں پر ٹوٹ پڑتے دیکھ کر یقین مانیں بہت دکھ ہوتا ہے ۔ کیا صرف پیٹ بھرنا ہی اس دنیا کا مقصد ہے ؟عزت نفس ، کردار کی اہمیت ، پردہ داری ، سفید پوشی جیسی باتیں صرف پڑھے لکھے لوگوں کے لئے ہی ہے ؟

ہم ہمیشہ یہی پڑھتے اور سنتے آئیں ہیں کہ مزار کا تقدس ہوتا ہے ۔ جو کچھ مزاروں پے دیکھا جاتا ہے وہ صاحب مزار کی تعلیمات میں کہیں شامل نہیں ہے اور میں بھی اس بات کا مکمل یقین رکھتا ہوں کہ انکی لکھی کتب اور بتائی گئی تعلیمات بالکل اس طرح کے کاموں سے برعکس ہیں ۔ اگر ویسا سب ہو تو آپ کو کسی بھی مزار میں دھکم پیل ، افراتفری، بے پردگی ، شور شرابہ ، مجروح عزت نفس وغیرہ نظر نہ آئے ۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ مزار پر آنے والوں میں سے کتنے لوگوں کو صاحب مزار کی تعلیمات کا پتا ہے؟ کتنے لوگ یہ جانتے ہیں  کہ جس حلیہ میں وہ وہاں موجود ہیں یا جس طرح کی بد نظری ، لالچ وغیرہ میں وہ وہاں مصروف ہوتے ہیں یہ سب صاحب مزار کی دی گئی تعلیمات کے الٹ ہے؟ کیا اس طرح دعا اثر رکھتی ہے؟ ان کی اس لاعلمی کا قصور وار کون ہے؟

تبھی میں نے سوچا کہ کتنا ہی اچھا ہو کہ ایسی جگہوں پر تربیتی و کرداری لیکچر کا اہتمام ہو ۔ جس میں ان سادہ لوگوں کو صاحب مزار کی تعلیمات سمجھانے کے ساتھ ان کے کردار کی اصلاح بھی کی جائے ۔سچ پوچھیں تو تبلیغ کی ٹھیک جگہ تو یہ ہے جہاں ناخواندہ لوگ اپنی لا علمی و معصومیت کی وجہ سے غلط رسموں ، حرکات میں ملوث ہیں ۔ تاکہ یہاں ایک روحانیت کی فضا و تعلیم ہو جس پر حق صرف پڑھے لکھے لوگوں یا گدی نشینوں کا ہی تو نہیں ہے ۔

اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے بھی تو صرف باتیں ہی کی ہیں خود تو عملی طور پر کچھ نہیں کیا تو صرف آپ کو ترغیب دینے کی غرض سے بتاتا چلوں کہ اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد پتا نہیں مجھے کیا ہوا میں خود بخود اس جوڑے تک گیا ۔ لڑکی کے ساتھ موجود مرد کے ساتھ بہت احترام و فہمی کے ساتھ بات چیت کی ۔ وہ اس لڑکی کا شوہر ہی تھا جس نے میری بات کی لاج رکھی اور نہ صرف لڑکی کا حلیہ درست کر کے اسے زنان خانے رخصت کیا بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ مزار سے باہر صاحب مزار کی بتائی ہوئی باتوں پر موجود لکھی کتب کو کسی سے سمجھ ا کر پڑھے گا بھی اور عمل بھی کرے گا ۔

حرف آخر یہ کہ جہاں مزارات کا تقدس بحال کرنے کے لئے مرد کا نظر جھکانا ، ان میں شرم و حیا لانا اور خواتین کا مناسب حلیہ میں آنا ضروری ہے ، وہیں پر مزارات کے گدی نشینوں کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعتوں ، این جی اؤز کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ مزارات پر آنے والے ان عام عوام کو خاص سمجھتے ہوۓ ان کی شخصی تعمیر کے لئے مزارات کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کرداری سیشن منعقد کروائے جائیں تو معاشرے کی بہترین تشکیل کے ساتھ ساتھ ثواب کی بھی خوب ذخیرہ اندوزی ہو سکتی ہے ۔

میاں جمشید
میاں جمشید
لکھاری ، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے سکھانے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ اسی لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ کردار سازی ، ذہنی اصلاح اور مثبت طرز زندگی کے موضوعات پر حوصلہ افزاء و رہنمائی سے بھرپور مضامین لکھتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *