پاکستان میں ایل جی بی ٹی حقوق۔۔۔۔۔قمر نقیب خان

ہم جنس پرستوں کے سب سے پہلے اولمپک گیمز 1982 میں امریکہ کی ریاست سان فرانسسکو کیلیفورنیا میں منعقد کیے گئے. ان گیمز میں 1350 ہم جنس پرستوں نے حصہ لیا، یہ گیمز ہر چار سال بعد منعقد کیے جاتے ہیں اور اولمپکس کی طرح ان گیمز کی بھی شمع روشن کی جاتی ہے. “فیڈریشن آف گے گیمز” (Federation of Gay Games -FGG) کی بنیاد ٹام ویڈل نے رکھی جس کا مقصد Lesbians, Gays, Bisexuals اور Transgenders کے لیے معاشرے میں موجود نفرت کم کرنا تھا. دوسرے گے گیمز 1986 سان فرانسسکو میں ہوئے اور اس میں ساڑھے تین ہزار افراد نے شرکت کی، گے گیمز کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور پھر مزید گیمز بھی گے اولمپکس میں شامل کر لیے گئے. باسکٹ بال، بلیئرڈ، باؤلنگ، سائیکلنگ، ڈائیونگ، گالف، میراتھن، پاور لفٹنگ، فٹبال، سوئمنگ، ٹینس، والی بال اور ریسلنگ شامل تھے. 2014 کے گے اولمپکس امریکہ کی ریاست اوہائیو کلیولینڈ میں ہوئے اور 2018 کے گے اولمپکس پچھلے مہینے 4 اگست سے بارہ اگست تک جاری رہے. ان گیمز میں اکانوے ممالک سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ تیرہ ہزار افراد نے شرکت کی، چھتیس قسم کے کھیل کھیلے گئے. 2018 کھیلوں میں فیڈریشن آف گے گیمز نے 67 ملین ڈالر کا بزنس کیا.

2018 کے گے گیمز کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں سعودی عرب، مصر اور روس کے ہم جنس پرستوں نے بھی شرکت کی، حالانکہ ان ممالک میں ہم جنس پرستی پر پابندی ہے. سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ہم جنس پرست جوڑے نے اپنے پاسپورٹ بھی دکھائے جبکہ سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے. مصر میں بھی اگر آپ ہم جنس پرست ثابت ہو جائیں تو جیل کی سزا یقینی ہے. روس میں بھی ہم جنس پرستی کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے، ان گیمز میں روس سے اٹھاون افراد نے شرکت کی. اگلے گے گیمز سنہ 2022 میں ہانگ کانگ میں ہوں گے. انڈیا نے بھی حال ہی میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت اور اجازت دے دی ہے.

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اب آئیے پاکستان کی طرف، کمانا کھانا، کھیلنا کودنا اور خوشحال زندگی گزارنا تو بہت دور کی بات ہے خواجہ سراؤں کو معاشرتی رویوں، صنفی تضاد، جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا ہے. کوئی بھی خواجہ سراؤں کو کرائے پر مکان نہیں دیتا، لوکل پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی بٹھاتا نہیں، بٹھا لے تو خواجہ سرا کے ساتھ کوئی سواری بیٹھنا پسند نہیں کرتی، پڑھنا لکھنا اور نوکری ملنا تو بہت دور کی بات ہے. خواجہ سرا معاشرے کا غریب ترین طبقہ ہیں جو محض سو دو سو روپے کی خاطر اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہیں، مظلوم اتنا کہ کوئی پرسان حال ہی نہیں، پولیس اور دارالامان بھی جگہ نہیں دیتے. پچھلے دو سال میں ڈیڑھ سو سے زائد خواجہ سرا قتل کر دئیے گئے. صرف خیبر پختون خوا میں 64 خواجہ سرا قتل کیے گئے. 467 کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسمانی تشدد کے 97 اور اغوا کے 69 واقعات صرف ایک صوبے میں رپورٹ ہوئے. ایک محتاط اندازے کے مطابق خواجہ سراؤں کے ساتھ پیش آنے والے صرف بیس فیصد واقعات ہی رپورٹ ہوتے ہیں وگرنہ غریب خواجہ سرا تو پولیس تھانے کچہری عدالتوں کے خوف سے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والا ہر جبر ظلم زیادتی قسمت کا لکھا سمجھ کر چپ چاپ صبر سے جھیلتے ہیں. قتل ہونے والے خواجہ سراؤں میں سے کسی ایک قاتل کو بھی نہیں پکڑا جاتا، مقدمے کی پیروی کرنے والا ہی کوئی نہیں ہوتا تو ہماری پولیس اور عدلیہ بھی بھنگ پی کر سوئی رہتی ہے. ابھی پچھلے مہینے ہی دو خواجہ سراؤں کو نہایت بےدردی سے قتل کیا گیا. پشاور باڑہ گیٹ کے رہائشی ناصر عرف نازو کے ہاتھ پاؤں توڑ کر قتل کر دیا گیا. دوسرا بدقسمت ساہیوال کا خواجہ سرا جس پر نامعلوم افراد نے پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی. اس کا اسی فیصد جسم تھرڈ ڈگری جل گیا اور پورے ساہیوال شہر میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں تھا جو جلنے والے مریضوں کا علاج کر سکے، جب تک غریب کو لاہور تک پہنچایا جاتا وہ مر چکا تھا. پنجاب اسمبلی میں خواجہ سرا کو جلانے کے واقعے پر قرارداد منظور ہوئی لیکن قراردادوں سے کب مسائل حل ہوئے ہیں..

1950-60 کی دہائی میں امریکہ کا بھی یہی حال تھا، خواجہ سراؤں اور ہم جنس پرستوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے. پھر ایک دن امریکی پولیس نے نیویارک کے سٹون وال اِن پر چھاپہ مار دیا. گے حقوق کے لیے پہلا مارچ جون 1970 میں ہوا، جس کے بعد ہم جنس پرستوں نے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، کئی بار خونی تصادم ہوا جس کے بعد امریکی حکومت ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے قوانین بنانے پر مجبور ہوئی. 2016 میں سٹون وال ہوٹل کی جگہ پر گے مانومنٹ بنا دیا گیا، سٹون وال کے انقلابی احتجاج کی یاد میں ہر سال مارچ کیے جاتے ہیں، 2019 میں سٹون وال انقلاب کی پچاسویں سالگرہ منائی جائے گی جس میں پوری دنیا سے LGBT شرکت کریں گے.

Advertisements
julia rana solicitors london

اب آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا موازنہ دنیا کے مہذب ممالک سے کیجئے، میرا نہیں خیال کہ مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے.

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply