کوانٹم ٹیلی پورٹیشن۔۔۔۔ نعمان رؤف ہاشمی

ٹیلی پورٹیشن فزکس کی دُنیا میں ہمیشہ سے ایک مزیدار موضوع رہا ہے کہ کسی بھی مادی آبجیکٹ کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک درمیان میں موجود سپیس ٹائم کو چھوئے بغیر ٹرانسفر ہوجانے کا نام ٹیلی پورٹیشن ہے۔

بظاہر تو ایسا ہونا ممکن نہیں لگتا کہ کوئی بھی چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرے اور درمیانی سپیس پر اثر انداز ہوئے بغیر منتقل ہوجائے۔۔۔

ٹیلی پورٹیشن کے  دو ممکن طریقے ہوسکتے ہیں۔

ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ایک آبجیکٹ سپیس ٹائم میں موجود لوپ ہول کی مدد سے ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر ہوجائے.

دوسرے  طریقے میں کوانٹم انٹینگلمنٹ کی مدد سے ٹیلی پورٹیشن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

ٹیلی پورٹیشن کی مد میں جب ہم کوانٹم انٹیگلمنٹ دیکھتے ہیں تو ہمیں پارٹیکلز کے  باہمی رابطے کے  بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ میلوں کی  دوری پر بھی ایک دوسرے کے  ساتھ انفارمیشن شئیر کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک پارٹیکل اگر اپ سپن شو کر رہا ہے تو دوسرا سپن ڈاؤن شو کرے گا اگر ایک کا سپن ماپنے پر ہمیں مختلف مل رہا ہے تو یقیناً دوسرے پارٹیکل کا سپن اس کے  انورس ہوگا اور وہ یہ عمل بغیر کسی ذریعہ اور رابطے کے  کر رہے ہوتے ہیں یعنی کہ وہ درمیان میں موجود سپیس کے  ساتھ انٹریکٹ کیے بغیر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔

کوانٹم انٹینگلمنٹ کے  بارے میں مزید جاننے کیلئے یہ لنک مطالعہ کر لیں
https://www.mukaalma.com/40655

کیا انٹینگلڈ پارٹیکلز کے  درمیان موجود رابطہ ٹیلی پورٹیشن کہ کام آسکتا ؟

آپ ایک آبجیکٹ کے  پارٹیکلز کو سکین کریں اور ملنے والی معلومات کو کسی دوسرے مقام پر بھیج دیں وہ اُس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے اُس مقام پر اُسی آبجیکٹ کو Create کرلیں اور یہ طریقہ کلوننگ کی طرح کا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اوریجنل بھی باقی رہ جائے گی اور کاپی بھی بن جائے گی کاپی ایک جیسی ہونے کی وجہ سے فرق کر پانا ممکن نہیں ہوگا کوانٹم لیول پر کلوننگ کا مظہر ممکن نہیں ہوسکتا کوانٹم لیول پر آبجیکٹس کے  تمام پارٹیکلز کی انٹینگلمنٹ ماپنے کی وجہ اوریجنل آبجیکٹ Destroy ہوجائے گا۔

اس متعلق ٹیسٹ جاری ہیں anton zeilinger کی زیر نگرانی کنیری آئی لینڈز افریقہ میں ٹیلی پورٹیشن کو لے تجربات کیے جارہے ہیں ان کا کنیری آئی لینڈز کو منتخب کرنے کیوجہ یہاں موجود دو ابزروٹیریز ہیں ابھی تک وہ بڑے آبجیکٹس کا ٹیلی پورٹ کرنے کے  قابل نہیں ہوسکے البتہ اُن نے انٹینگلڈ فوٹانز کا استعمال کرکے  ایک تیسرے فوٹان کو ایک آئی لینڈ La Palma سے دوسرے آئی لینڈ Tenerife میں ٹرانسفر کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اس کیلئے Zeilinger نے دوانٹینگلڈ فوٹان بنائے،ایک فوٹان کو La Palma میں رہنے دیا جب کہ دوسرے کو 89 میل دور Tenerife میں لیزر بیم کی مدد سے بھیج دیا اور La palma میں موجود پہلے فوٹان کے  ساتھ تیسرے فوٹان کو انٹریکٹ کروایا اور اس کی مدد سے تیسرے فوٹان کی معلومات کاپی کر کے  اس تیسرے فوٹان کو ہو بہو Tenerife میں Create کر دیا۔

شاید کہ ایسا ممکن ہو کہ ایک دن ہم انسان بھی اس کی مدد سے ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹیلی پورٹ ہو سکیں کیونکہ ہم بھی پارٹیکلز سے ہی بنے ہیں تھیوری کے  مطابق ایسا ممکن ہے مگر حقیقت میں ایسا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ۔۔۔ البتہ مستقبل میں ایسا ممکن ہونے کے  امکانات موجود  ہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *