• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بھارت کا اقرار اور 24 گھنٹے بعد انکار ۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ژاں سارتر

بھارت کا اقرار اور 24 گھنٹے بعد انکار ۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ژاں سارتر

بات بہت صاف اور سیدھی ہے، عمران کی تقریب حلف برداری میں نوجوت سدھو کو آرمی چیف کی طرف سے کرتار پور بارڈر کوریڈور کھولنے کی پیشکش اور عمران کا بھارت کے ساتھ امن کی خواہش کا اظہار وہ دانہ تھا جسے بھارتی نہ چُگ سکتے تھے اور نہ دنیا کو منہ دکھانے کے لیے چھوڑ سکتے تھے ۔۔۔ اس لیے “برے پھنسے” کے مصداق انہوں نے نیویارک میں وزرائے خارجہ کی ملاقات پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اس مجوزہ ملاقات میں کوئی بڑا بریک تھرو ہونے نہیں جا رہا تھا اور نہ ہی اس کی کوئی توقع دونوں جانب کسی کو تھی لیکن بھارتی آمادگی صرف دنیا کو دکھانے کے لیے تھی۔
پھر صرف چوبیس گھنٹے میں ایسا کیا ہوا کہ بھارت نے نہ صرف ملاقات کی منسوخی کا اعلان کر دیا بلکہ کشیدگی پیدا کرنے کے لیے سفارتی آداب کو روندتے ہوتے پاکستانی وزیر اعظم کی ذات کو نشانہ بنایا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں ملاقات کی منسوخی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے دوران پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کا حقیقی چہرہ سامنے آ چکا ہے۔ یہاں یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور عمران خان نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایسا کیا کیا ہے جس سے حقیقی چہرہ سامنے آنے والی بات کہی گئی۔ بھارت نے ملاقات کی منسوخی کے لیے جو ادھر ادھر کی ہانکی ہیں، ان میں سرفہرست برہان وانی شہید کی تصویر والے ڈاک ٹکٹ کا اجراء بھی ایک بہانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ٹکٹ 27 جولائی کو جاری کیا گیا تھا یعنی اس وقت جب انتخابات کے نتائج بھی مکمل طور پر نہیں آئے تھے اور ملک میں نگران حکلومت قائم تھی۔ عمران نے حلف اگست کے تیسرے ہفتے میں لیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ وزرائے خارجہ کی ملاقات پر آمادگی ظاہر کرتے وقت ہی بھارت کو یہ ٹکٹ کیوں یاد نہ آیا؟ دوسرا بہانہ بھارت نے اپنی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار کی ہلاکت کا بنایا۔ اس ہلاکت کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح تھا اور ہے کہ اس میں پاکستان ملوث نہیں اور معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر بھی تیار ہے۔ اس تجویز کا بھارت نے حسب معمول جواب نہیں دیا کیونکہ حقائق سامنے آگئے تو بہانہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اس میں بھی اہم بات یہ ہے کہ بی ایس ایف اہلکار کی ہلاکت کا معاملہ بھی ملاقات پر آمادگی سے پہلے کا ہے۔ اس لیے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ بھارت کے دونوں بہانے بالکل “لنگڑے” ہیں اور اصل وجہ کچھ اور ہے۔
بھارت نے وزرائے خارجہ کی ملاقات پر مارے باندھے آمادگی ظاہر کی تو مودی حکومت فوری طور پر دوطرفہ دباؤ کی زد میں آگئی۔ ایک دباؤ کے بارے میں تو پہلے ہی بات ہو رہی تھی کہ مودی سرکار کو آنے والے الیکشن بھی اینٹی پاکستان نعروں پر لڑنا پڑیں گے کیونکہ یہ حکومت وہ کچھ ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا وعدہ اس نے پچھلے الیکشن میں کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے اور 70 سال سے مسلسل جمہوری نظام حکومت ہونے کے باوجود بھارت ابھی اس قابل نہیں ہو سکا کہ انتخابات کے دوران اس کی سیاسی جماعتیں داخلی ایشوز پر انحصار کر سکیں۔ ان جماعتوں کو آج بھی انتخابات جیتنے کے لیے پاکستان کی مخالفت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بھارت کی یہ سیاست بھارتیوں سے زیادہ ان پاکستانی دانشوروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو ہمیں یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ بھارت تو پاکستان سے دوستی چاہتا ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ہر بار بھارتی انتخابات کے قریب آتے ہی پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیوں کیا جاتا ہے اور سرحدوں پر فائرنگ کیوں ہوتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارتیوں کی اکثریت جاہل اور سخت متعصب ہے جو ہر بار یہ نعرے خرید کر ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتی ہے جو پاکستان کی مخالفت کریں۔
لہذا انتخابات کے قریب پاکستان سے مذاکرات کرنا یا امن کا تاثر دینا مودی سرکار، بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جماعتوں کے لیے کسی طور ممکن نہیں تھا۔
بھارتی حکومت پر مذاکرات سے انکار کے لیے دوسرا دباؤ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آیا جو کسی صورت معاملات کو نارملائز نہیں ہونے دینا چاہتی۔ ہمارے ہاں اس بات کا پراپیگنڈا بہت زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ سول حکومت کے سامنے بالکل بے بس ہوتی ہے اور اس کا بین الاقوامی معاملات میں کوئی کردار نہیں۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اس بار بھی اور اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کاوشوں کو سبوتاژ کر چکی ہے۔ اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ نے نہ صرف اندرون خانہ بھارتی حکومت پر پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا بلکہ بھارتی آرمی چیف نے جنگی ماحول پیدا کرنے کے لیے پاکستان کو دھمکی بھی دے ڈالی۔ پاکستان میں کم لوگ جانتے ہیں کہ بھارتی فوج میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کا اثر رسوخ کس قدر گہرا ہے۔ پاک فوج کے موٹو میں “جہاد فی سبیل اللہ” کے الفاظ شامل کیے جانے پر آج تلک بلکنے والے دانشوروں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ بھارتی فوج میں پنڈت روی شنکر اور گرو رام دیو جیسے ہندوتوا کے پرچارک “ثقافتی سرگرمیوں” کے نام پر ہندو انتہا پسندی کو کس طرح فروغ دے رہے ہیں۔ دوسری بات جس کا تذکرہ ہمارے ہاں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ بھارتی فوج کی ہائی کمان کا ان بھارتی صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے جنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابات میں سپانسر کیا تھا۔۔۔۔ وجہ؟ دھندہ ۔۔۔۔۔ جن صنعتکاروں نے مودی کو سپورٹ کیا تھا، ان کی شدید خواہش تھی کہ نئی حکومت مغربی ممالک خصوصاً امریکا کے ساتھ اسلحہ سازی کے معاہدے کرے اور وہ یہ اسلحہ تیار کر کے بھارتی فوج کو بیچ سکیں۔ دنیا کا تیسرا یا چوتھا بڑا فوجی بجٹ رکھنے والی فوج کے ساتھ “خوشگوار تعلقات” رکھنا ہر سرمایہ دار کی خواہش ہوتی ہے اور ان سرمایہ داروں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہر بڑے فوجی افسر کی ضرورت۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آئے روز بھارتی میڈیا میں اس طرح کی خبریں دیکھتے ہیں کہ بھارتی افواج میں فلاں اسلحہ کی شدید کمی ہے یا فلاں میدان میں بھارت، چین اور پاکستان سے پیچھے رہ گیا۔ ان خبروں کا مقصد صرف نئے ہتھیاروں کے حصول کے لیے راہ ہموار کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اس کے بعد جو ہوتا، وہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے کے بعد سیاستدانوں، فوجی افسروں، صنعتکاروں اور میڈیا مالکان کو اپنے اپنے حصے کا کیک مل جاتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی قائم رکھنے کے پس پشت بھی یہی چاروں کردار مل کر کام کرتے ہیں جیسا کہ ہم کل اور آج کے واقعات میں دیکھ چکے ہیں۔
یہ دو عوامل ایسے ہیں، جنہیں نظر انداز کر کے مودی سرکار یا کسی بھی جماعت کی حکومت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتری کی طرف نہیں لا سکتی۔ ہاں اگر ہم یکطرفہ طور پر امن کی آشا کا راگ الاپتے رہیں تو ہماری مرضی ۔۔۔۔۔ درخت کے تنے میں منہ ڈال کر گانے پر کوئی پابندی تھوڑا ہی ہے۔

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *