جمہوری قبیلے کی بہادر خواتین۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

سابق خاتو ن اول اور سابق وزیر اعظم مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز بھی خلد نشیں ہوگئیں۔اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین،موت اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں،ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن یہاں سے اگلی دنیا میں منتقل ہونا ہی ہے،بس فرق یہ ہے کہ کوئی پہلے گیا تو کوئی بعد میں،لیکن کچھ نفوس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موت صرف موت نہیں بلکہ کسی مردہ معاشرے کے لئے زندگی کی اُمنگ بیدارکرنے کا سبب ہوتی ہے،بیگم کلثوم نواز بھی اُنہی پاک نفوس میں سے ایک ہیں،جو خود توجنت مکیں ہو گئیں،لیکن ہمارے مردہ ہوئے،گلے سڑے،تعفن زدہ اورمنافقانہ رویوں کے حامل معا شرے کویہ پیغام دے گئیں کہ اگر ہم اب بھی خواب غفلت سے نہ جاگے تو ہماری تاریخ بار بار ایک ہی سبق دہراتی رہے گئی،یہاں وہی کھیل کھیلا جاتا رہے گا جو گزشتہ 71سال سے غیر جمہوری ادارے سیاستدانوں اور اس ملک کے خلاف کھیل رہے ہیں،مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ہوں،یا بیگم نصرت بھٹو،محترمہ بے نظیر بھٹو ہوں یا پھر بیگم کلثوم نواز،یہ صرف 4خواتین ہی نہیں بلکہ اس نیم جمہوری گھٹن زدہ معاشرے میں جمہوریت کی شمع روشن کرنے والی وہ دیویاں ہیں،جنہوں نے خالصتا ًپاکستان اور پاکستانی عوام کے بنیادی انسانی حق آزادی،حریت،جرات افکار اور اظہار رائے کے لئے گھروں سے نکل کرعالم کفر میں عین عصر کے وقت اذان دی،ایوبی مارشل لاء کے دوران مادر ملت کی آمر کے خلاف جدوجہد سے ان 4خواتین کے قبیلے کی جدوجہد کا آغاز ہوا،محترمہ فاطمہ جناح اس قبیلے کی سردار ہیں،جنہوں نے 6فٹ کے ایوب خان کو ہلا کر رکھ دیا،اور جب انتخابی معرکہ ہو ا تو 2018کے انتخابات کی طرح خلائی مخلوق کا جھرلو پھر گیا،ایو ب خان جیت کر بھی ہار گیا اور مادر ملت ہار کر بھی جیت گئیں،لیکن بعد میں آنے والی پاکستانی خواتین کو یہ درس دے گئیں کہ وقت پڑنے پر گھر سے نکل کر جدوجہد کرنے سے ہی بقا ء اور دوام حاصل ہو سکتا ہے،اور پھر اسی قبیلے کی دوسری خاتون نے ایک اور آمر ضیاء کے خلاف آواز بلند کر کے مادر ملت کی سنت کو آگئے بڑھایا۔

شوہر کو پھانسی،بیٹے ملک سے باہر،پولیس کے لاٹھی چارج نے سر پھاڑ دیا،مار کھائی جیل بھگتا،پیار کرنے اور جانثار کر نے والے شوہر کا آخری دیدار تک نہ دیکھنا نصیب ہو سکا،،لیکن پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی،اسی قبیلے کی تیسری خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں جن کی سیاسی جدوجہد عملاً1986میں مارشل لائی دور میں جلاوطنی کے بعد شروع ہوئی،جب ملک جنرل ضیاء کی آمریت کے سیاہ سائے میں جکڑا ہو ا تھا،جنرل ضیاء کی سیاہ ترین آمریت میں کوڑے کھا نے والے اورشاہی قلعہ لاہو ر میں اذیتیں سہنے والے جاں بلب پاکستانیوں کے لئے بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد بہار کی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی،پژمردہ چہروں پر رونق آگئی،اور آمر کا ایوان لرز اُٹھا،اس وقت کے وزیر اعظم جو کہ ایک کمزور اورمسکین وزیر اعظم تھے لیکن اس مسکین صورت جونیجو نے ضیاء کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک میں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی، اور یوں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار ہوئی،وقت بدلا اور ایک بار پھر پاکستان پر 12اکتوبر1999کوآمریت کی سیاہ رات تان دی گئی،صرف چہرے بدلے،کل ایوب خان تھا اور مقابلے میں مادر ملت،پھر ضیاء اور مقابلے میں بیگم نصرت بھٹو اورمحترمہ بے نظیر بھٹو،اور اب جنرل مشرف اور مقابلے میں بیگم کلثوم نواز،تاہم اس آمریت کے خلاف اس جمہوری قبیلے کی باقی تین خواتین کے برعکس بیگم کلثوم نواز مکمل طور پر ایک گھریلو خاتون تھیں،جن کی سیاسی زندگی بہت مختصر ہے،مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی تربیت بانی پاکستان کے ہاتھوں ہوئی،جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران اپنا سب کچھ تیاگ کر اپنے بھائی کاساتھ دیا،اور قیام پاکستان کے بعد جنرل ایوب خان کی آمریت میں بھی اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کیا،جبکہ نصرت بھٹو اور بے نظیر کی سیاسی تربیت میں جناب بھٹو نے کردار اد ا کیا، لیکن ان تین کے مقابلے میں محترمہ کلثوم نواز صاحبہ مکمل طور پر ایک گھریلو خاتون تھیں،جن کا سیاست سے دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا،عموماًشریف خاندان کی عورتوں کو خاندان کے مردوں کے مقابلے میں عملی سیاست سے دور رکھا جاتا ہے۔

لیکن تاریخ کی گھڑیوں نے یہ وقت بھی دیکھا کہ جب 12اکتوبر کے بعد مسلم لیگ ؔ(ن) کے بڑے بڑے جفادری یاتو چپ ہو کر بیٹھ گئے تھے یا پھر ہم خیال گروپ میں جانے کے لئے پر تول رہے تھے اُس وقت لاہور سے گجرانوالہ کے مشہور کشمیری خاندان اور رستم زماں گاما پہلوا ن کی نواسی جس نے کبھی کارزارسیاست میں قدم بھی رنجا نہیں فرمایا تھا نے وقت کے ڈکٹیٹر کوللکارا اور ایک بار پھر آمریت کے دروبام ہلا کر رکھ دئیے۔جب اپنے جیون ساتھی نواز شریف سمیت خاندان کے آدھے سے زائد مرد پس زندان تھے،اُس وقت ایک بہادر عورت کلثوم نواز نے مشرف کی آمریت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں،اپنی مختصر سی سیاسی زندگی میں بیگم کلثوم نواز نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے جو کردار ادا کیا وہ ایک گھریلواور حسن ووفا کی روایتی مشرقی عورت کے لئے ایک مثال ہے کہ وقت پڑنے پر باروچی خانہ سے نکل کر سڑکوں پر آنا پڑتا ہے،مادر ملت کی طرح آمر یت کو للکارنا پڑتا ہے،نصر ت بھٹو کی طرح سرپر لاٹھیاں کھانی پڑتی ہیں،بے نظیر کی طرح جان قربان کرنی پڑتی ہے،پاکستان میں مکمل جمہوری آزادی ہنوز ایک خواب ہے جس کی خاطر جد وجہد کے لئے گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے،لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ابھی بھی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا،باؤجی کی کلثوم ہو یا بھٹو کی پنکی،جناح کی فاطی ہو یا بھٹو کی نصرت،یہ چاروں جمہوریت کش عناصر کے خلاف اپنا اپنا استغاثہ لے کر دربار الہی میں حاضر ہو گئیں ہیں،اب وقت کے فرعون ڈریں اس گھڑی سے جب ان4خواتین کے استغاثے پر قادر مطلق نے فیصلہ سنادیا توپھر کیا کرو گئے؟کون سی عدلیہ؟اور کون سی جے آئی ٹی تمہیں بچائے گئی،روز قیامت تو بہت دور ہے توبہ کادروازہ کھلا ہے،مہلت سے فا ئدہ اُٹھا لو نادانوں،سنبھل جاؤ،یہ 4استغاثے تمہارے سیاہ کرتوتوں سے بھرے پڑے ہیں،اگر یہاں بچ بھی گئے تو ایک روز قیامت کا بھی ہو گا،وہا ں کیا کرو گئےَ؟ جہاں نہ مال کام آئے گا نہ اولاد نہ کوئی واٹس اپ آرڈر نہ کوئی عدلیہ نہ کوئی جے آئی ٹی نہ کوئی سٹے آرڈر،تاریخ مت دہراؤبار بار،تاریخ سے سبق سیکھو،وگرنہ یہ گھڑی عصرکی ہے اور سورج ڈوبنے کو ہے،اللہ تعالی پاکستان کی ان 4بہادر خواتین کے درجات بلند فرمائے،آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *