گستاخانہ خاکے، مغرب اور احتجاج۔۔۔سیدہ ماہم بتول

پچھلے کچھ سالوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ  یورپی ممالک بلخصوص “ہالینڈ” میں آزادی اظہار کے نام پر ہمارے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور دوسری مقدس ہستیوں کے خاکے بنا کر مقابلوں کا انعقاد کیا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے امت مسلمہ میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف پاکستان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں مختلف مکتبہ فکر، مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں، جو یقیناً دوسرے مختلف مذاہب و عقائد کے ماننے والوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق اور مساوات کی بنیاد پر کچھ اصول ضرور طے شدہ ہیں جن کی بنیاد پر کسی بھی نظریہ کے ماننے والوں کو اپنے مذہب، عقائد یا سیاسی نظریئے پر اظہار رائے کا حق اور مخالف نظریہ رکھنے والوں کے نظریئے کا احترام کا حق دیا جاتا ہے۔

لیکن مغرب میں میں جہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کچھ انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر اخلاقیات اور اسلام پر بلا جواز تنقید کرتی نظر آتی ہیں، وہیں کچھ ایسے گروہ یا تنظیمیں بھی موجود ہیں جو مسلمانوں کی مذہبی شخصیات پر نعوذ باللہ تمسخر یا گستاخی کا بھی برملا اظہار کرتی ہیں جو یقیناً دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب اور مسلمانوں میں انتہا پسندی کا رجحان پیدا کرتی ہیں۔

گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی “ہالینڈ” میں باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے خلاف گستاخانہ مواد پر ایک نمائشی مقابلے کا اعلان کیا گیا، جس کی خبر ابلاغ پرملتے ہی مسلمان ممالک خاص طور پر پاکستان میں فوری ردعمل ظاہر ہوا۔ عاشقان رسول ﷺ کی جانب سے سوشل میڈیا پر احتجاج اور سڑکوں پر ریلیاں نکالی گئیں اور بھرپور احتجاج کیا گیا۔ یقیناً ہالینڈ کی ایک سیاسی جماعت “فریڈم پارٹی”کے سربراہ “گیرٹ ولڈرز” کا یہ اقدام پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں امن کے لئے بھی ایک شدید خطرہ ہے، اور ایسی مسلمان مخالف مہم اور اسلام بے حرمتی یقیناً دنیا بھر میں نقص امن کی ایک سازش کہی جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ریاستوں کے لبرل ازم کے دعوے کہاں چلے گئے؟ مغربی ممالک کا یہ مکروہ چہرہ بہرحال ضرور تکلیف دہ ہےکہ ایک مذہب کے ماننے والوں کے جذبات اور مذہبی شخصیات، جن سے مسلمانوں کا روحانی تعلق ہےسے متعلق ایسی مہم چلائی جارہی ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان اس پر شدید احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس ردعمل کے نتیجے میں منتخب ہونے والی نئی حکومت کی جانب سے پیش رفت کی گئی اور ہالینڈ کے سفیر کو بلا کر اس بارے شدید احتجاج کیا گیا۔  احتجاج کے بعد یہ مقابلہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ سلسلہ مکمل طور پر ختم ہوگا؟ یا چند عرصے بعد پھر ان شرپسندوں کی جانب سے ایسی حرکت کی جائیگی، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی جائیگی؟ اس بارے تمام مسلمان ممالک کو مل کر ایک فیصلہ کرنا ہوگااور دنیا کو بتانا ہوگا کے ناموس رسالت ﷺ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، اور ایسے شرپسندوں کی ایسی حرکتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں جو انتہا پسندی کو فروغ ملے گا اس کے ذمہ دار یہ خود ہونگے۔

ساتھ ہی ساتھ ہمیں بحیثیت قوم یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ  احتجاج کی صورت میں اپنی ہی املاک کا نقصان کرنا؟ لوگوں پر تشدد کرنا؟ توڑ پھوڑ کرنا؟ اور ملک کا نظام چلانے میں خلل دینا بھی مناسب رویہ ہے؟ یہ ایسے شرپسندوں کی کامیابی ہے، جن کے مقاصد مسلمانوں کو آپس میں بھڑا کر انھیں کمزور کرنا ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا احتجاج بہرصورت ریکارڈ کروائیں، اور دنیا کو یہ باور کروائیں کہ ان کسی بھی ایسی مذموم کوشش کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائیگا۔ احتجاج کے بہت سے طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی کہ ہم مغرب کے لوگوں کے سامنے اپنے عقائدکی صحیح ترجمانی کریں، اور انھیں بتائیں کہ ان کے یہ اقدام کس طرح سے ملت اسلامیہ کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔

سیدہ ماہم بتول
سیدہ ماہم بتول
Blogger/Researcher/Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *