خواجہ سراؤں کا قتل آخرکب تک؟۔۔۔۔۔ سجاد ظہیر سولنگی

ہمارے سماج میں، جہان بہت سی تفریق نظر آتی ہے۔ وہاں جنسی فرق بھی ایک بہت بڑا جبر ہے،خاص طور ان لوگوں کے لیے ہے،جو کے تیسری جنس (خواجہ سرا) ہونے کی وجہ سے ہے دکھوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے افراد کو عام زبان میں نامرد کہا جاتا ہے۔ جب کے وادی مہران کی قددیم روایات میں انھیں فقیر بھی کہا جتا ہے۔ اس تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد ہمارے معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی حصہ نہیں ہیں۔ کیوں کہ سماج میں موجود امتیاز ی قوانین اور بنیاد پرست رویے ایسے انسانوں کے خلاف عام شہریوں کو اکساتے ہیں۔جو کہ ان خواجہ سراؤں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے مظلوم اور بے سہارا تیسری جنس کے لوگ کبھی کبھا تنگ آکر اپنی زندگی کو ختم کردیتے ہیں، یا پھر کسی پل، کسی گولی کا شکار ہوکر اپنا جیوں کھو بیٹھتے ہیں۔ ان کے ہاں ایسے آپ گھات کا بھی پتا نہیں چلتا، نہ ہی ان پر ہو نے والے خونی حملے سے کسی کی زندگی میں کوئی خلل پڑتا۔ایک ایسا واقع جو کہ پچھلے ہفتے پنجاب کے شہر ساہیوال میں ایک خواجہ سرا کے ساتھ پیش آیا، رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر بروز اتوار کی شب ساہیوال میں مال منڈی چوک پر نامعلوم افراد کی جانب سے ایک خواجہ سراکوزندھ جلا دیا گیا، جلائے گئے خواجہ سرا کو ابتدائی طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ساہیوال منتقل کیا گیا۔ تاہم جسم زیادہ جھلس جانے کے باعث ڈاکٹروں نے خواجہ سرا کو لاہور منتقل کرنے کا کہا لیکن لاہور منتقل کرنے سے قبل ہی وہ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔اگر سال 2016 ء پر نظر دوڑائی جائے تو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مسلح افراد کی فائرنگ میں علیشا نامی خواجہ سر زخمی ہوا تھا،جس تفصیل یوں معلوم ہوئے تھے،اس خواجہ سرا کو پہلے اغواکرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا یا، اس کے بعد اسے گولیاں ماری گئیں، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا تھا، اپنے ساتھی فنکار اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں لیکر گئے تھے، بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ خواجہ سرا فوت ہوگیا تھا، ان ساتھی فنکاروں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ چار گھٹنے تک ہسپتال انتظامیہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکی کہ زخمی خواجہ سرا کو کس وارڈ میں داخل کیا جائے۔ یہ واقع ہم ادب اورعوام دوست سیاست کے طالب علموں کے لیے بہت ہی دکھ دائک تھا۔ کیوں کہ وہ خواجہ سرا بچ سکتا تھا اگر اس کو بروقت میل – فیمیل وارڈ میں ایڈمٹ کرنے چکر میں نہ پڑتے، نسل آدم سمجھ کر اس بچارے کے چیخنے و چلانے کا مداوا کرتے ہوئے صرف اس کا علاج ہی کرتے تو شاید وہ بچ جاتا۔زخمی خواجہ سرا کے ساتھیوں نے نجی کمرے کا بندوبست کیا لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی اور علیشا نے دم توڑ دیاتھا۔
یہ ہمارے سماج کا بہت بڑا المیہ ہے، ہمارے قانونی اصول صرف سرمایہ دار، جاگیردارکے تحفظ اور انسان دشمن لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔پنجاب کا اگر جائزہ لیا جائے تو پچھلے دوسالوں میں 24 خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیاہے۔ خیبر پختوں خوا میں گزشتہ تین برسوں کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں مارے جانے والے خواجہ سراؤں کی تعداد 60 سے اوپر ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی تیسری جنس کے لوگوں کو تشدد کا نشانا بنایا جاتا ہے۔ لیکن باقی صوبوں کی بہ نسبت یہاں یہ واقعات کم ہیں۔ میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2017 ء کی مردم شماری کے بعد خواجہ سراؤں کی تعداد 10,418 بتائی گئی ہے۔خواجہ سرا ملک کی مجموعی آبادی کا0.005 فیصد یعنی 10ہزار418کی تعداد میں ہیں، صوبہ پنجاب 6 ہزار709 خواجہ سراؤں کے ساتھ پہلے نمبر، صوبہ سندھ دوہزار527کے ساتھ دوسرے اورصوبہ خیبر پختونخوا 913 کے ساتھ تیسرے نمبر پرہے،بلوچستان میں 109، فاٹا میں 27اوراسلام آبادمیں 113خواجہ سرا مردم شماری کے دوران رجسٹرڈہوئے ہیں۔ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت کل دس ہزار418 خواجہ سرا مقیم ہیں جن میں سے دوہزار767دیہاتی علاقوں میں اورسات ہزار651 شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں پنجاب کے اندر دوہزار124دیہاتی علاقوں اورچارہزار585 شہری علاقوں میں،سندھ میں 301 دیہاتی اوردوہزار 226 شہری علاقوں میں،خیبرپختونخوامیں 223دیہاتی اور 690شہری علاقوں میں رہ رہے ہیں اسی طرح صوبہ بلوچستان میں 40 دیہاتی اور69 شہری علاقوں میں، اسلام آباد میں 52دیہاتی اور81 شہری علاقوں میں جبکہ فاٹامیں تمام خواجہ سرا کہ جن کی تعداد27ہے،دیہاتی علاقوں رہائش پزیر ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق صوبہ خبیرپختونخواکے 25اضلاع میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد913 ہے جن میں سب سے زیادہ خواجہ سراؤں کی تعدادضلع پشاورمیں مقیم ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق قبائلی علاقوں (فاٹا)میں موجود27خواجہ سراؤں میں سے خیبرایجنسی میں 11، کرم ایجنسی میں 3، نارتھ وزیرستان میں 7،ساؤتھ وزیرستان میں 2اورباجوڑایجنسی میں 4 خواجہ سرا رجسٹرڈہیں۔
وہ سماجی ادارے جو خاص طور پر اس تیسری جنس پرکام کر رہے ہیں، ان کے مطابق سماج میں ان خواجہ سرا(فقیروں) کی تعداد 20 لاکھ ہے، ان کا کہا ہے کہ صرف خیبر پختوں خوا میں خواجہ سرا کی تعداد 50 ہزارہے، 2017 ء کی مردم شماری کے بعد حکومت اور سماجی اداروں) (N-G-Oکے اعداد و شمار میں فرق ہے، غیر سرکار سماجی ادارے (این جی اوز)حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان اداروں کی طرف سے یہ دلیل ہے کہ جب خواجہ سراؤں کے پاس شناختی کارڈ ہی نہیں ہیں تو پھر یہ شماریات کیسے ہوئی؟ رپورٹ کون سی بنیادوں پر جاری کی گئی۔ تیسری جنس کے یہ لوگ جس کو سماج میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، لیکن ہم جیسے عوام دوست لوگوں کو انہیں ایک ہی نام سے پکارنا چاہیے، وہ فنکار ہیں۔ہمارے پاس (میراسی) منگہار جس طرح سے لوک گیت گاتے ہیں، یہ خواجہ سرا شادی بیاہ میں بغیر دعوت کے ہی چلے جاتے ہیں۔ ماضی کی بات کی جائے یا آج بھی سندھ کی قدیم روایات جہاں جہاں موجود ہیں، ان تقاریب میں ان فنکاروں کا بڑا خیال کیا جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں روایت تھی کہ خواجہ سراؤں کو مبارک کے طور پر کچھ رقم دی جاتی ہے۔ ان کوہر حساب سے راضی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، خواجہ سراؤں کو ناراض کرنا جیسے بھاگ سے منہ موڑنا ہے۔ ہمارے ہاں ہمارے بزرگ خواجہ سراؤں کو شادی سے لیکر بچوں کی پیدائش پر ہونے والی تقاریب میں بلایا کرتے تھے، اب وہ قدریں ختم ہو گئی ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کی یلغار نے ہمارے سماج میں ان قدروں کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ اب ایسے فنکار کسی بھی شادی بیاہ کی تقاریب میں بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں، ہو سکتا ہو انھیں ایک سوچ کے تحت نا بلایا جاتا ہو، مطلب ایسی تقاریب میں ان خوجہ سراؤں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ شریف زادے تمام جرائم میں ملوث کیوں نہ ہوں مگر ان فقیر فنکاروں کی آمد ایسے شریف زادوں کے ہاں کسی کے لیے عزت کا مسئلہ بن جاتا ہوگا۔ہمارے سماج کے چاروں طرف جہاں مختلف طریقے کی کرپشن جاری ہو، ایسے ماحول میں یہ فنکار شریف زادوں کے استحصال کا شکار ہوتے ہیں، جہاں اغوا، بھتہ خوری، جنسی ہراساں کرنے سے لیکر ریپ جیسے واقعات کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ خواجہ سرا کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ نے جہاں سماجی بے حسی اور جبر کو ظاہر کیا ہے، وہاں بہت سے سوالات کو جنم بھی دیا ہے۔ یہ فنکار ہمارے معاشرے کے بے یارو مددگار شہری ہیں،جو کام ان کے حوالے سے حکومت کو کرنے چاہیے، وہ سماجی ادارے سرانجام دے رہے ہیں۔ راول پنڈی میں ایک کالج کی کینٹین یہ فنکار چلاتے رہے،ہیں، اتنے بڑے ملک میں اس آبادی کے لیے کوئی روزگار نظر نہیں آتا، وہ اپنے طور پر جتنا کر سکتے ہیں، یہ بچارے خواجہ سرا کرتے رہتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ عام زندگی سے تعلق رکھنے والی تمام ضروریات بشمول صحت، تعلیم، صفائی اور رزگار کی سہولیات انھیں حاصل ہوں۔ مرنے کے بعد ان کے پاس زندگی کی آخری رسومات ادا کرنے کا حق بھی نہیں ہے، رات کے اندھیروں میں دفن ہونے والے خواجہ سراؤں کے نشانات بھی نہیں مل پاتے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی2008 سے لیکر 2013 میں بننے والی حکومت میں سپریم کورٹ کی جانب سے ان فنکاروں کو قومی شناختی کارڈ، صحت اور تعلیم کی بنیاد ی ضروریات دینے کا حکم نامہ جاری کیا گیا، جب کہ سرکاری سطح پر ان کے لیے2 فیصد کوٹے کا اعلان بھی کیا گیا۔ ان اعلانات پر عمل کون کرائے؟ اور نہ ہی ہو سکا۔
ہمارے سماج میں ان فنکاروں کے لیے غیر انسانی رویے موجود ہیں، جس کا ایک بہت بڑا اظہار ساہیوال میں ہونے والا یہ واقعہ شامل ہے۔ اس کے ساتھیوں کے مطابق خواجہ سراؤں کو اس طرح سے قتل کرنے سے پہلے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔25 مئی 2016 ء پشاور میں علیشا نامی خواجہ سرا کو بھی اغوا کرکے پہلے جنسی زیادتی کی گئی اور انھیں بعد میں قتل کیا گیا۔ یہ خواجہ سرا جنھیں تیسری جنس تو کیا، انہیں تو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ فنکار فن کے پجاری ہے، جہاں محبت ملی وہاں ڈیرا ڈال دیا، ہمارے ادارے، اسکول، حکومتی دفاتر، رہنے کی جگھیں، تھانے اور ہسپتالیں ہیں اور وہاں ان خواجہ سراؤں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، وہ ان کے ساتھ ہونے والے استحصال کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں، جن کے جوابات ڈھوندے جائیں تو ان خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی داستانیں شامل ہیں۔ جو کہ انسانی زندگی کے ساتھ ماسوائے مذاق کچھ نہیں ہے۔مریض کا فارم بھرنا، پولیس کیس کا سبب بتانا اور جنسی فرق کا ڈرامہ رچانا،جس کا شکار ایسے نہتے خواجہ سرا ہوا کرتے ہیں۔
زندہ جلنے والا مقتول خواجہ سرا، اب ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سوچکا ہے، مگر انسانی شعورتو ابھی ہے، اس شعور کو ایک بار پھر جگانے کی ضرورت ہے، تاکہ آنے والے کل میں کوئی دوسرا ایسا فنکار جنسی زیادتی یا ایسے قتل کا شکار ہو،اور بے یارو مددگار ہوکر اپنی زندگی نہ کھو بیٹھے۔ یہ فنکار ہمارے معاشرے کا حسن، اخلاق اور ضمیر ہیں، ان سے جنسی فرق نہ پوچْھیں!، ان کے لیے جتنا ہو سکے، آپ ان کی مدد کریں۔ نسل آدم کی تخلیق کو مذاق بنانے کا حق ہم تمام سب کو کس نے دیا ہے؟ اور کسی بھی نہیں ملنا چاہیے۔ جو لوگ ایسے فنکاروں کے خلاف استحصال میں شامل ہیں ان کے خلاف ہمیں احتجاج کرنا چاہیے۔ ہم ایک غیر استحصالی معاشرے کی تخلیق چاہتے ہین۔ ہم ایسے کسی تفرق کو برداشت نہیں کرسکتے۔ آئیے ملکر اپنی سوچ کو تبدیل کریں۔

sajjadz_2006@yahoo.com
0301-2346517
سجاد ظہیر سولنگی اردو اور سندھی کے ترقی پسند شاعر وادیب اور سیاسی کارکن ہیں، جن کی تحریریں مختلف سندھی، اردورسائل،جرائد اور اخبارات میں شایع ہوتی ہیں۔
تعارف::مشتاق علی شان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *