بُک ریویو:سو سال وفا (ناول)۔۔۔۔۔فارس مغل/تبصرہ سیمیں کرن

فارس مغل کا دوسراناول سو سال وفا زیر مطالعہ آیا ایک مختصر عرصے میں دوسرا ناول فارس کو ایک تیز رفتار اور زرخیز لکھاری ثابت کرتا ہے۔ناول سو سال وفا کے آغاز میں  عطا شاد کی مختصر نظم ہے
مری زمیں پر اک کٹورے پانی کی قیمت
سو سال وفا ہے
آو ہم بھی پیاس بجھائیں
اور
زندگیوں کا سودا کرلیں!

بلوچستان کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ایک سیاسی رومانی ناول ہے
اک حساس اور سنجیدہ موضوع کو ایک محبت کی کہانی کی صورت میں ۔فارس کی یہ ایک کامیاب کوشش رہی کہ وہ اپنی سوچ کا ابلاغ کرسکے.. فارس کے ہاں رومان کی چاشنی اسقدر زیادہ ہے کہ وہ بیک وقت اسکی تحریر کی خوبی بھی بنتی ہے اور خامی بھی ٹھہرتی ہے
خواجہ منصور اور داستان کے کردار بظاہرخوابناک اور رومانوی سی دھند میں  لپٹے ہوئے ہیں مگر یہ کردار قاری کو متوجہ کرتے ہیں  کہ وہ انکو سوچے۔ فارس نے اپنے مخصوص انداز میں انہیں شوخ رنگوں سے پینٹ کیا ہے کہ یہ کردار زندہ جاندار اور اسکے اطراف سے اٹھائے لگتے ہیں۔ مگر شوخ رنگوں کو بھدے رنگوں سے متوازن کرنا ہی آرٹ اور ادب پارہ تخلیق کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں فارس کو ٹھٹھک کر سنبھل کر سوچنا ہوگا۔

کیونکہ اسکے پاس وہ تمام لوازم ہیں جو ایک شہ پارہ تخلیق کرنے پہ قادر ہیں  وسیع مطالعہ، ایک بڑی سوچ، منظر نگاری، کردار نگاری، چست دل پہ اثر کرتے جملے، کہانی کو سلیقے سے بیان کرنے کا سبھاو مگر یہ اسکی کرداروں اور کہانی کی ٹریٹمنٹ ہے کہ ناول محض ایک سماجی رومانوی ناول بن جاتا ہے یہی طریق ہمجان میں بھی ہمیں نظر آتا ہے

بلوچستان کے پس منظر میں  ایک رومانوی سیاسی کہانی بگٹی کی شہادت کو بلوچستان کا 9/11قرار دیتی ہے اور آباد کاروں کے مسئلے کو بہت کامیابی سے بیان کرتی ہے۔۔ وہ آباد کار جو قیام پاکستان سے بھی کہیں  پہلے یہاں آباد ہوئے اور انکی تیسری چوتھی نسل یہاں جوان ہوچکی انکو انکے دیس سے آبادکار کی گالی دیکر نکالنا ہجرت سے بڑا سانحہ ہے اور یہ سانحہ فارس نے خوب دلیری سے بیان کیا ہے جبکہ آباد کار سے بالعموم اور بالخصوص پنجاب سے نفرت بلوچستان کی سرزمین میں  سرایت کر چکی ہے .یہیں ہمیں  بلوچ تین طبقات سے آشنائی ہوتی ہے۔
1. وہ بلوچ جو علیحدگی پسند ہیں  اور ہر مسئلے کا  ذمہ دار وفاق کو سمجھتے ہیں

2وہ بلوچ جو وفاق کے ساتھ منسلک رہنے میں معترض نہیں  اور ریاست کے علاوہ بلوچ مقتدر حلقوں کو بھی قصور وار سمجھتے ہیں

3.ان تمام مسائل سے بے نیاز وہ سادہ لوح بلوچ جن پہ زندگی قہر کی طرح برسی ہے. یہی بلوچ اس دھرتی کے اصل وارث اور اسکا نمک ہیں. دیگر مسائل کا سرسری تذکرہ ایک تشنگی کو جنم دیتا ہے
جبکہ فارس خود یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں  کہ عام پاکستانی کوئٹہ اور بلوچستان سے بے خبر اور انجان ہے یہاں تھوڑی سی توجہ سے بلوچ ثقافت رسم ورواج اور کلچر کو بیان کرنے کے بہترین مواقع تھے فارس کے پاس۔۔ چاچا دربدر، حافظ، داستان کی بھابھی اور چاچا بلیدی جیسے جاندارکرداروں سے مزید استفادہ کیا جاسکتا تھا جو ناول کو مزید دلکشی عطاکرتا۔

فارس کی ایک اہم خوبی جو اسے ادب کی دنیا میں منفرد مقام دلانے میں  اہم کردار ادا کرے گی وہ اسکا conception to perception کی طرف سفر کرنا ہے۔ یہ خصوصیت اسکے دونوں ناولز میں بہت واضح نظر آتی ہے.
وہ ان مسائل کی نہ صرف نشان دہی کرتا ہے بلکہ تعلیم اور محبت کو ہی بڑی کامیابی سے ان مسائل کا حل ثابت کرتا ہے۔ناول کا اختتامیہ جملہ” نفرت کی زبان سے محبت کی بولی بہت شیریں اور دلنشیں ہے “دل پہ I chrip u my chipping chrip
کے نغمے کی بازگشت چھوڑتا ہے۔۔۔اور اس نغمے کو کھوجنے کے لیے آپکو ناول سے رجوع کرنا پڑے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *