فیس بک دیوانے اور میں بُھلَکڑ۔۔۔۔فوزیہ قریشی

چلیں آج پھر ہو جائے۔۔
اِک بار پھر سے ہماری شوخ و چنچل اَٹھکیلیاں
یہ تو نہیں جانتی آپ کی نظر میں میری یہ تحریر شوخ ہو گی بھی یا نہیں لیکن مجھے آج بھی جب وہ دن یاد آتا ہے تو میں بے اختیار ہنس دیتی ہوں۔۔یہ سوچ کر کے یاللہ میں کتنی بُھلکڑ تھی ؟
بالکل جَب وِی میٹ jub we met کی ہیروئن کی طرح ۔۔۔جب میں نئی نئی فیس بک پر آئی تو بہت سے تماشے میرے ساتھ بھی ہوئے۔اب بھی ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی۔۔اُنہی  تماشوں میں سے ا یک آپ سے شئر کرنا چاہوں گی۔۔۔۔

مجھے شروع میں اپنی پہچان کے لئے ڈی پی لگانے کا بہت شوق تھا جو کچھ وجوہات کی بنا پر کم کر دیا۔اُس وقت مجھے پرائیویسی لگانے کا بھی علم نہیں تھا اور سچ کہوں تو  یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اونلی  می   کا آپشن بھی ہوتا ہے؟
کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کے قوائد و ضوابط سے کسی قسم کی آشنائی نہیں تھی۔یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ سیٹنگ کیا ہے؟پرائیویسی کیسے لگائی جاتی ہے؟خیر ایک رات می بدولت نے ڈی پی (پروفائل پکچر) بدلی۔۔یہ سوچے سمجھے بغیر کے اُن معصوم ٹَھرکیوں کا کیا ہوگا؟جو بابا کی پرنسز اور باربی ڈول کی کٹی پھٹی ڈی پی پر بھی پُھدکنے لگتے ہیں بالکل برسات کے مینڈک کی طرح۔۔ویسے تو میں اَزل سے کھڑوس تھی بلکہ ابھی بھی ہوں۔سچ کہوں تو ایسی با تیں دماغ میں نہیں آتی تھیں۔کہ کون کیا سوچے گا؟کس پر کیا اثر ہوگا؟اگر بھی ہو جاتا ہے تو میری بلا سے ہوتا رہے۔سانوں کی۔۔۔۔

اُس رات پروفائل پکچر بدلی اور میں سوشل میڈیا کے سبھی گھوڑے، گدھے اور خچر بیچ کرسو گئی۔۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ سوشل میڈیا پراس طرح کے محاورے فِٹ نہیں بیٹھتے۔اگلی صبح جب میں آن لائن آئی تو دیکھا کہ میری پروفائل پکچر پر ایک محترمہ نے پوری غزل داغی ہوئی ہے۔ ایک دو مصرعوں سے بھی کام چلایا جا سکتا تھا لیکن نہیں جناب غزل وہ بھی پوری۔۔پل بھر کے لئے مجھے لگا کہ شاید زمانہ بدل گیا ہے۔ایک عورت کسی دوسری عورت کی تعریف کر رہی ہے وہ بھی غزل کی صُورت میں۔۔۔پھر مجھے لگا کہ محترمہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ورنہ کونسی عورت کسی دوسری عورت کی اس قدر تعریف کرتی ہے۔یہاں تو اُس کے پرنٹ جیسا سُوٹ کوئی دوسری عورت پہن لے تو اسے اتنی بد دعائیں دیتی ہے کہ یا تو وہ سُوٹ جَل جاتا ہے یا پھر پَھٹ جاتا ہے۔سچ میں عورت کی نظر میں وہ جادو ہے کہ پتھر میں بھی سراخ کردے۔۔بیچارے سُوٹ کی کیا  اوقات ۔۔۔ جو بچ جائے اِن ظالم نظروں سے۔
میں حیران بھی تھی اورکچھ پریشان بھی۔حیران اس لئے کہ قیامت آنے والی ہے ورنہ اتنی بڑی تبدیلی وہ بھی۔” مزاجِ خاتون میں” ۔

خیال آیا کہ محترمہ شاید ٹَھرکی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ ٹھرک پن کے ایسے ہی جراثیم اکثر مجھے ان کے کمنٹس میں دیکھائی دیتے تھے۔۔۔میں   چُپ کر جاتی  کہ صدف ہی ہوں گی۔معلوم نہیں آج مجھ سے کیوں نہیں رہا گیا؟
بس پھر کیا تھا ؟
میں پہنچ گئی ان باکس یہی پُوچھنے کہ محترمہ خیریت ہے نا۔
اتنا حُسن آپ کو کہاں نظر آگیا ؟
نہ تو میں کوئی حسینہِ عالم ہوں اور نہ ہی یہ پروفائل پکچر کسی بیس سالہ نوجوان دوشیزہ کی ہے۔۔
پھر بھی آپ نے میری تعریف میں پوری غزل ہی لکھ ماری۔۔
مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے محترمہ کُچھ سیخ پا سی ہو گئیں.
پھر کچھ زنانہ کچھ مردانہ انداز میں بولیں۔۔۔
بی بی!! میں کوئی مُحترمہ وُحترمہ نہیں ہوں۔
ایک مُحترم ہوں، صاحب ہوں بلکہ صاحبِ جمال ہوں اور حُسن کی قدر کرتا ہوں ۔ آپ کی پروفائل پکچر اچھی لگی اور اتفاق سے اسی وقت آمد ہوئی۔ اس لئے ہم نے جَھٹ سے آپ کی پکچر پر غزل داغ دی۔۔۔ اس سے پہلے کہ  کوئی اور ہماری ہی برادری کے صاحبِ جمال یہ فریضہ انجام دیتے ہم نے پہل کر لی۔۔
تو کیا برا کیا؟
آپ بتائے کیسی لگی غزل؟
کچھ دااد دیجئے۔۔۔۔ واااہ وااہ ،بہت خوب ، عمدہ یا کیا کہنے ہی ارشاد فرما دیجئے تاکہ ہماری محنت رائیگاں نہ جائے۔ قسم اللہ پاک کی جب تک داااد نہیں ملے گی یہ شاعرانہ روح بے چین رہے گی۔
اب میں مزید حیران بلکہ پریشان تھی ۔۔۔۔۔جن کو سال بھر سے صاحبہ سمجھتی رہی وہ صاحب نکلے۔۔۔۔اور جناب سال بھر سے ٹَھرکتے رہے وہ بھی دَھڑَلے سے۔۔۔۔۔
یہ جناب میری ہر پوسٹ پر اپنا جی ہلکا کرتے رہے اور میں عورت سمجھ کر برداشت کرتی رہی۔۔۔
یا خدا ! آج تک تو بابا کی پرنسز اور پینا ڈول نے بھی کبھی مجھے ڈَ گ مَگ ڈول نہیں کیا جو آج ایک شاعر نے تخلص کی آڑ میں ڈانواں ڈول کر دیا۔۔
میں نے پوچھا!! جناب آپ کا نام تو عورتوں والاہے۔
وہ پوری بتیسی نکالتے ہوئے،ہی ہی ہی
کچھ یوں ارشاد فرمانے لگے، “بی بی یہ تو ہمارا تخلص ہے۔”
اور ہم پل دو پل کے شاعر ہیں
پل دو پل میری جوانی ہے
پل دو پل میری ہستی ہے
پل دو پل میری کہانی ہے
یہ سُننا تھا کہ میرا خون کھولنے لگا۔جو ویسے ہی چھٹانک بھر تھا۔۔جوش پرجوش دینے لگا۔
جی چاہا اس پل دو پل کا ابھی کام تمام کر دوں۔۔۔۔
خود کو سنبھالتے ہوئے میں نے ہوش اور جوش ملیح آبادی کے ناخن لے کر تھوڑا صبر کا مُظاہرہ کیا۔۔
یوں تو اُس وقت میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ کاش ان باکس میں گولی مارنے یا بَم گرانے کا آپشن ہوتا تو میں اِن کے آنگن میں میرا مطلب ان باکس میں ٹھاہ سے گرا دیتی یا کاش میرے سامنے  ہوتے تو اکیس توپوں کی سلامی عِنایت فرماتی وہ بھی پورے اعزاز کے ساتھ۔۔” توپ کے دہانے پر بٹھا کر”۔۔
با خدا!! اتنا تو میں نے آج تک کسی کو موقع نہیں دیا تھا جو میں نے اِن کے تخلص کے دھوکے میں اِن صاحبہ کو دے دیا ۔۔۔
میں انہی  سوچوں میں گُم صم تھی کہ ان کی مُدھر زنانہ آواز مجھے ہوش کی دنیا میں واپس لے آئی۔
اب یہ زنانہ آواز کچھ یوں گویا تھی۔
آپ کی تصویر دیکھی تو غزل داغ ڈالی ۔۔۔
واللہ اس سے پہلے مُجھے صرف ” شاعر داغ صاحب ”
یا پھر سرف ایکسل سے صاف ہونے والے داغوں کا پتا تھا۔
غزل بھی داغی جاتی ہے یعنی غزل داغدار کی جاتی ہے۔۔۔۔۔
آج پہلی بار معلوم ہوا تھا۔۔

مزید مجھ میں آہ آہ وااہ واااہ کہنے کی سکت باقی نہ رہی تھی اس لئے داغنے والی ان محترمہ میرا مطلب محترم کو ٹائم لائن بدر کر دیا۔۔۔
اس زمانے میں میری یہ عادت تھی کہ جو بھی صاحبین ڈی پی کے اعزاز میں تعریفی کلمات والے ارشاد فرماتے ان کو ٹائم لائن بدر کر دیتی یا ان باکس ہی ایڈ کرتے وقت ساتھ چلنے کے قوانین سمجھا دیتی تھی کہ اِن اِن وجوہات کی بنا پر ان کو وال بدر کیا جا سکتا ہے۔
یوں تو کبھی کبھی مجھے ان صدف صاحبہ پر حیرت ہوتی تھی کہ یہ ایک خاتون ہو کر اتنی تعریف کرتی ہیں میری کیونکہ خواتین تو ویسے ہی کسی دوسری کھاتون میرا مطلب خاتون کو سراہنے کا حوصلہ ذرا کم ہی رکھتی ہیں۔ ایسے میں یہ محترمہ کیسے کر لیتی ہیں؟
پھر سوچتی، کتنی عظیم عورت ہے؟
یہ وہ وقت تھا۔۔۔
جب میں ماشاللہ ۔ انا اللہ اور سبحان اللہ کہنے والوں سے سخت خائف رہتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ جب کوئی سٹیٹس اپ ڈیٹ کرو تو کوئی مُوا کمنٹ نہیں کرتا تھا لیکن اِدھر تصویر لگی بس آگئے بِِھنبھناتی مکھیوں کی طرح۔۔۔اب بھی کبھی کبھی یہ شوق فرما لیتی ہوں اور ماشاء اللہ سبحان اللہ کے تعویذی اثرات کو بھی بخوبی سمجھ چکی ہوں۔۔لیکن میں اس وقت سوچتی تھی کہ  کیا شخصیت سے زیادہ ڈی پی   اہم ہوتی ہے؟جبکہ میرے جیسوں کے تو کمنٹس بولتے ہیں۔۔۔۔ بس اک بار محفل میں قدم رکھ دوں۔ سیز فائر شروع ہو جاتا ہے۔۔ایسےآمد ہوتی ہے جیسے سقراط یا افلاطون کو ہوتی تھی۔سوشل میڈیا پر کچھ اور تماشے بھی ہوئے۔لیکن!! جناب وہ کیا کہتے ہیں؟”پردے میں میں رہنے دو پردہ نہ اٹھاؤ.”پردہ جو اُٹھ گیا تو بھید کھل جائیں گے۔پھر سبھی کہتے پھریں گے۔
اللہ میری توبہ
اللہ میری توبہ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *