• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مولانا ابوالکلام آزاد کا شذرہ ،اخبار وکیل اور جماعت احمدیہ۔۔۔راشد احمد

مولانا ابوالکلام آزاد کا شذرہ ،اخبار وکیل اور جماعت احمدیہ۔۔۔راشد احمد

بانی جماعت احمدیہ کے دعاوی سے اختلافات کے باوجود برصغیر کے علمائے کرام اور اہل دانش کی ایک بڑی تعداد ان کی علم ومعرفت اور آریہ سماج و عیسائی پادریوں سے کامیاب مناظروں اور اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کی معترف رہی۔1908میں جب مرزا صاحب کی وفات ہوئی تو مسلم پریس کی طرف سے انہیں شان دار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ایسی ہی ایک تحریر مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے اخبار ’’وکیل‘‘ میں تحریر کی جس میں وہ لکھتے ہیں:
’’ وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سےانقلاب کےتار الجھے ہوئے تھے اورجس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں ۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس بر س تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شور قیامت ہوکر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے۔ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اورجب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرکے دکھا جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کے  ہاں تعلیم یا فتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہوگیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے۔تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کوعرصہ تک پست و پائمال بنائے رکھا، آئندہ بھی جاری رہے۔
(اخبار وکیل30مئی 1908)

یہ تحریر عرصہ سے وجہ نزاع بنی ہوئی ہے۔مخالفین احمدیت کی طرف سے یہ پراپگینڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ تحریر آزاد کی نہیں ہے بلکہ کسی اور نے لکھی ہے۔بعض اسے ’کپور تھلہ‘ کے کسی صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بعض احباب کے نزدیک یہ تحریر مولانا عبداللہ العمادی کی ہے۔آزاد کی تحریر سے واقفیت رکھنے والے احباب کے نزدیک یہ تحریر آزاد ہی کی ہے ۔اس کے لئے ان کے دلائل کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

یہ بات توطے ہے کہ جب یہ تحریر شائع ہوئی اس وقت اخبار ’’وکیل‘‘ کے مدیر مولانا آزاد ہی تھے۔جو آزاد کی تحریر سے واقف ہیں،جنہوں نے آزاد کو پڑھا ہے اوران کے اسلوب کو جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایسا زوردار شذرہ آزاد ہی لکھ سکتے ہیں۔تحریر چیخ چیخ کر اعلان کررہی ہے کہ یہ آزاد کی تحریر ہے۔جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے اس شذرہ کو مولانا عبداللہ العمادی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا عبداللہ العمادی ان دنوں لکھنو میں رسالہ ’’البیان‘‘ کی ادارت کررہے تھے اور انہوں نے انہی دنوںمیں الگ سے حضرت مرزا صاحب کی وفات پہ اداریہ سپرد قلم کیا تھا۔
مولانا عبدالمجید سالک نے ’’یاران کہن‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں مشاہیر کا تذکرہ کیا۔ جن احباب کا تذکرہ ہوا ،ا ن میں آزاد کا ذکر خیر بھی شامل تھا۔سالک صاحب نے آزاد کے تذکرہ میں لکھا کہ جن دنوں مرزا صاحب اسلام کے دفاع میں عیسائیوں اور آریوں سے مناظرے کرتے تھے،انہی ایام میں آزاد کو مرزا صاحب سے واقفیت ہوئی اور وہ ان کے مداح تھے۔سالک صاحب کے بقول مرزاصاحب کی وفات پہ آزاد لاہور سے جنازہ کے ساتھ بٹالہ تک گئے اور بعد میں اپنے اخبار میں شذرہ بھی لکھا(ریل اس وقت بٹالہ تک جاتی تھی،آگے پیدل سفر ہوتا تھا)سالک صاحب کی کتاب یعنی ’’یاران کہن‘‘ احمدیت کے شدید معاند آغا شورش کاشمیری نے شائع کی تھی۔اگر یہ بات خلاف واقعہ ہوتی تو وہ کسی موقع پہ اس کا رد کرتے،لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔

یارا ن کہن کی اشاعت پہ مولانا آزاد خود تو کچھ نہ بولے،لیکن ان کے سیکرٹری نے سالک صاحب کو لکھا اس کی تردید شائع کرو۔اس پہ انہوں نے گول مول سا بیان شائع کروا دیا۔سالک صاحب کے اس بیان پہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی جو احمدی تھے اور ایک رسالہ کے مدیر بھی تھے،سالک صاحب کی کوٹھی واقع مسلم ٹاون میں ان سے ملنے گئے اور پوچھا کہ اس وقت میرے اور آپ کے بیچ تیسرا کوئی نہیں،سچ سچ بتائیے شذرہ کس کا لکھا ہوا ہے؟اس پہ سالک صاحب نے کہا میاں! مجھ سے کیا پوچھتے ہو تم خود ادیب ہو دیکھ لو وہ کس کا لکھا ہوسکتا ہے۔کیا ایسی تحریر آزاد کے علاوہ کسی کی ہوسکتی ہے؟پانی پتی صاحب نے پوچھا اگر یہ بات تھی تو آپ نے تردید کیوں شائع کی؟انہوں نے کہا میری مجبوری تھی ،آزاد سے تعلقات رکھنے تھے،سو میں نے میاں اجمل کو ناراض نہ کرنے کا فیصلہ کیا،لیکن جو آزاد کو جانتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ تحریر انہی کی ہے۔(پانی پتی صاحب کا یہ مضمون جماعت احمدیہ کے روزنامہ’’الفضل‘‘ میں شائع ہوگیا تھا)
یہ کہنا کہ شذرہ آزاد کا نہیں بلکہ ان کے نائب مدیر کا لکھا ہوا ہے،یہ بھی صریح غلط ہے کیونکہ مولانا ا آزاد نے خود اقرار کیا ہے کہ ’’وکیل‘‘ کا سارا کام وہ خود کرتے تھے۔اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں:
’’میں نے اخبار وکیل کی ایدیٹری کی پوری ذمہ داری قبول کرلی۔اس زمانے میں وکیل ہفتہ میں تین بار نکلتا تھا اور دفتر میں بجز ایک مترجم اخبار کے اور کوئی مددگار نہ تھا۔اس مترجم کا بھی یہ حال تھا کہ بلا نگرانی اور اصلاح کے اس مترجم کی لکھی ہوئی ایک سطر بھی اخبار میں درج نہیں کی جاسکتی تھی(کجا یہ کہ وہ ایسا معرکۃ الآرا شذرہ لکھ مارے)اخبار کے لیڈنگ آرٹیکل سے لے کر جزوی مواد تک سب گویا تن تنہا ہی مرتب کرنا پڑتا تھا۔‘‘
(ابوالکلام کی کہانی ،خود ان کی زبانی،مرتبہ عبدالرزاق ملیح آبادی مطبوعہ چٹان پریس،۱۵ مارچ ۱۹۶۰ص:۳۰۹)

مولانا آزاد کی اس گواہی کے  بعد شاید کسی اور گواہی کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہ تحریر ان کی اپنی لکھی ہوئی تھی۔یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ اس تحریر کے بعد مولانا لمبے عرصہ تک حیات رہے ،لیکن کبھی بھی انہوں نے براہ راست اس کی تردید  نہیں کی حالانکہ بارہا یہ معاملہ ان کے سامنے آیا۔مولانا آزاد کی زندگی میں ہی جماعت احمدیہ کلکتہ نے یہ شذرہ بطور خاص شائع کروایا اور اسے آزاد کی خدمت میں بھی پہنچایا ،اس کے باوجود ان کی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔

راشداحمد
صحرا نشیں فقیر۔ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *