گائے کے نام پر انسان کب تک ذبح ہوتا رہے گا؟ /ندیم احمد انصاری

بڑے افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ان دنوں بھارت کے عوام کی اخبارات مطالعہ کرنے اور خبریں دیکھنے سننے کی ہمت کم زور پڑتی جا رہی ہے ، کیوں کہ ایک کے بعد ایک اس طرح کی خبروں کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے کہ گائے کے نام پر انسان یہاں وہاں ذبح کر دیاگیا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ انسانی جذبات عجیب ہوتے ہیں، جب ان کا غلبہ ہو تو انسان صحیح غلط اور اچھا برا سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ جب کہ جذبات کو قابو میں رکھنا اور راہِ راست پر قائم رہنا بہت اعلیٰ بات ہے ، لیکن کیا کیجیے آج اس طرح کی باتیں تحریروں میں پڑھنے اور تقریروں میں سننے کو تو مل جاتی ہیں ، لیکن عملاً ان کی تعبیر دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں ۔ 2014ء میں انتخابات کے موقع پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے حوالے سے مسلمان اور سیکولر ذہنوں کو جس بات کا سب سے زیادہ خدشہ رہا وہ یہی تھا کہ اس جماعت کے اقتدار میں آجانے کے بعد ملک کا چین و سکون غارت ہو جائے گا اور ملک کو مزید بدحالی کا سامناکرنا پڑے گا، لیکن ہمارے بعض نام نہاد”مفکرین” یہی راگ آلاپتے رہے کہ یہ ملک ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے جس میں کسی بھی فرقہ پرست جماعت کے بر سرِ اقتدار آجانے سے آن کی آن میں کچھ تبدیل ہونے والا نہیں ۔

خیر اب تو ان کی آنکھوں نے بھی دیکھ لیا اور سب جان گئے کہ مناسب وقت میں مناسب تدبیر نہ کرنے یا محض تماشائی بنے رہنے کا انجام کیا ہوتا ہے، ہمیں اس وقت ان کے کیے پر محض عار دلانا مقصود نہیں ، بلکہ یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اس وقت ملک کی اکثریت برسرِاقتدار جماعت سے نالاں ہے ، جس کا اظہار وہ گاہ بہ گاہ جہاں موقع ملتا ہے کرتے بھی رہتے ہیں ۔اس ماحول میں اطلاع موصول ہوئی کہ ایک بار پھر جگہ جگہ ہجوم کے ہاتھوں شدید زدوکوب اور قتل کے واقعات پر سخت تنقیدوں کا سامنا کرتے ہوئے حکومت نے آج ادعا کیا کہ گائے سے احساسات کے نام پر ہلاکتیں ناقابلِ قبول ہیں اور کہا کہ ریاستی حکومتوں کو اس طرح کی کارستانیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے ۔ وزیرِ فنانس ارون جیٹلی نے ایسے واقعات پر راجیہ سبھا میں مباحث کا، وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ جو ان دنوں علیل چل رہے ہیں، ان کی طرف سے جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کو بعض لوگوں کے تشدد کے لیے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیوں کہ اس طرح کے مسائل سے نمٹنا ریاستی حکومتوں کی ذمے داری ہے۔

جیٹلی جو ایوان کے لیڈر بھی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا موقف واضح ہے کہ کسی کو بھی گؤ تحفظ کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ اس کی کوئی منطق نہیں ، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کی کوئی تاویل اس کا جواز نہیں ہوسکتی ہے اور حکومت اس معاملے میں بالکلیہ پابندِ عہد ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی اس طرح کی حرکتوں میں ملوث پائے جائیں ، ان سے کچھ بھی ہم دردی نہیں کی جائے گی اور قانون بلاشبہ اپنا کام کرے گا، نیز انھوں نے کہا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی بھی اس مسئلے پر تین دفعہ بول چکے ہیں ۔ ہمیں اس خبر پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ملک میں خوف و ہراس کی جو فضا بن رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ ایوان اور حکومت میں بیٹھ کر عوام کے لیے قانون سازی کا کام کرتے ہیں یا جو لوگ عوام کے نمائندے بن کر ملک کی سالمیت اور عوام کی بہبود کا حلف لیتے ہیں، کیا ملک کے موجودہ نازک حالات میں ان کی طرف سے مسائل سے نمٹنے کے بجائے یوں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا کھیل کھیلنا کسی طور مناسب ہے؟

اگر نہیں تو کیا بات ہے کہ پورے ملک میں جگہ جگہ ہو رہے گؤ رکشکوں کے اس آتنک سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی بہ جائے محض بیان بازی سے کام لیا جا رہا ہے ؟وزیرِ داخلہ اور وزیرِ اعظم کیوں صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کر رہے ہیں ؟ اگر حکومت واقعی جیٹلی صاحب کے بیان کے مطابق پابندِ عہد ہے تو وہ اس کا عملی نمونہ پیش کرنے سے قاصر کیوں ہے ؟ جب وزیرِ اعظم کے ایک اعلان سے راتوں رات بستروں میں دبے ہوئے نوٹوں کو بر سرِ بازار لایا جا سکتا ہے ، تو کیا اسی تیزی سے گؤ آتنکیوں کے لیے سخت احکام جاری کرکے ان کی تادیب نہیں کی جا سکتی؟اس وقت ملک کو بیان بازی کی نہیں بلکہ عملی اور مثبت اقدام کی ضرورت ہے ، جس کا اظہار ہم نے یہاں اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے کر دیا، اس امید کے ساتھ کہ کسی طور نقار خانے سے نکل کر طوطی کی یہ آواز اربابِ حکومت کے کانوں کے پردوں سے ٹکرائے اور اس ظلم و بربریت کا مداوا ہو سکے!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *